Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Iqbal Wattoo
  4. Kachhi Canal Ko Bahal Karo

Kachhi Canal Ko Bahal Karo

کچھی کینال کو بحال کرو

ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی سے نکلنے والی قدرتی گیس کا پورے ملک نے دہائیوں تک بے دریغ استعمال کیا حتٰی کہ پاکستان میں قدرتی گیس کا نام ہی سوئی گیس پڑ گیا۔ سوئی گیس سے پورے پاکستان کے گھروں کے چولہے جلے اور فیکٹریاں چلیں مگر سوئی کے علاقے کی اپنی قسمت نہ بدل سکی۔

کچھی کینال کا منصوبہ بلاشبہ اس علاقے کو پاکستانی عوام کی طرف سے علاقے کی قدرتی گیس استعمال کرنے کے بدلے میں ایک بہت زبردست تحفہ تھا۔ 2017 میں کچھی کینال کے فیز 1 کے مکمل ہونے سے 373 کلومیٹر لمبائی میں نہر مکمل ہوکر پنجاب سے سوئی پہنچ گئی تھی اور اس سے 72,000 ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکتا تھا۔

زرعی آب پاشی سے بھی زیادہ بڑی ضرورت اس علاقے میں نہری پانی کا بلا روک ٹوک پہنچنا تھا جس سے علاقے کے لوگوں کو نہ صرف پینے کا پانی ملا بلکہ پہلی دفعہ ان کے جانوروں نے بھی سیر ہوکر پانی پیا۔

سوئی کے علاقے میں کچھی کینال سے زراعت شروع ہوئی تو لوگوں کی علاقے سے نقل مکانی بھی بند ہوئی۔ مقامی کسانوں نے زمینیں آباد کیں اور 2022 کے سیلاب سے پہلے کے سیزن میں اس نہر کے علاقوں سے دس لاکھ من گندم اور ایک لاکھ من تک سرسوں پیدا ہوئی تھی۔

سنہ 2020 میں اس وقت کے چیئرمین واپڈا لیفٹینینٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے کچھی کینال کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ اِن کے لئے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں واقع کچھی کینال کے کمانڈ ایریا میں 52 ہزار ایکڑ اراضی پر کاشت کاری شروع کی جاچکی ہے۔ جو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

تاہم سنہ 2022 کے سیلاب نے اس نہر میں کئی جگہ پر شگاف ڈالے جس کے بعد نہر میں پانی کی فراہمی رُک گئی۔ یہ شگاف آج تک مکمل طور پر پُر نہیں کئے جا سکے جس کی وجہ سے سوئی کے علاقے کی غریب کسان آج تک نہ صرف معاشی مسائل کا شکار ہیں بلکہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

موجودہ وزیرِاعلیٰ بلوچستان اس علاقے سے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ان کسانوں کی آواز بنیں اور حکومتِ پاکستان اور واپڈا حکام سے مل کر کچھی کینال کے شگافوں کی جلد از جلد مرمت کاکام مکمل کروائیں تاکہ اس نہر میں دوبارہ پانی چل پڑے اور غریب کسانوں کی زندگی آسان ہو۔

اس نہر میں پانی چلنا اس علاقے کے لوگوں کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

Check Also

Har Meenar Ke Neeche Gutter Hai

By Najam Wali Khan