Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zafar Bashir Warraich

Paise Bachane Ka Asan Tareen Tariqa

کراچی میں میرا ایک میمن دوست ہے، کامیاب بزنس مین ہے، اس کا مشہور جملہ ہے "پیسے تو سب کما لیتے ہیں، لیکن بچاتا کوئی کوئی ہے"، میرے اس دوست کا نام قدوس میمن ہے، ہم اسے قدوس بھائی بھی کہتے ہیں، اس نے میٹرک کے بعد اپنے والد سے پچاس ہزار روپے قرض لیا، گھی، تیل کا کاروبار شروع کیا اور پھر مارکیٹ پر چھاتا چلا گیا، ٹھیک چھہ مہینے کے بعد اس نے اپنے والد کا قرض ڈبل یعنی ایک لاکھ کر کے والد کو پیش کیا، جسے والد نے نم آنکھوں کے ساتھ ساتھ بیٹھی اس کی ماں کے حوالے کر دیا، اور قابل بیٹے کو زندگی بھر کامیابی کی دعا دی۔

پچھلے دنوں میں نے قدوس بھائی سے اس کے کامیاب کاروباری سفر اور خود سے امیر ہونے کے شاندار تجربہ پر تفصیلی بات کی، یوں تو قدوس بھائی نے اپنے کاروبار سفر کی بہت سی باتیں بتائیں، لیکن اس کی ایک بات جس نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا، کیونکہ بہت سے لوگ کامیاب لوگوں سے کامیابی کے گُر جاننا چاہتے ہیں۔ "سادگی، ہاں سادگی وہ کامیاب ترین اصول ہے، جس سے میں نے زندگی میں کامیابی کی سیڑھیاں تیزی سے طے کیں"، چائے کے گرم کپ کو منہ سے لگاتے ہوئے میمن سیٹھ نے بتانا شروع کیا۔

"لیکن سادگی کا مطلب کیا ہے؟"، میں نے سیدھا سادہ سوال کیا۔

دیکھو، میں نے کبھی بہت مہنگے کپڑے نہیں خریدے، میں ویسے ہی کپڑے خریدتا اور پہنتا ہوں جو پاکستان کے 80 فیصد لوگ پہنتے ہیں، میں کبھی برانڈ کے پیچھے نہیں بھاگا، کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ برانڈ میں آدھے پیسے چیز اور آدھے پیسے نام کے ہوتے ہیں، اس لئے میں ہمیشہ آدھے پیسے بچاتا ہوں، دوسرے لفظوں میں جتنے پیسے میں لوگ ایک جوڑا کپڑے خریدتے ہیں، اتنے ہی پیسوں میں میں تین جوڑے خریدتا ہوں، اور مزے سے پورا سال پہنتا ہوں۔

چائے کا چھوٹا گھونٹ لے کر وہ دوبارہ شروع ہوا، "میں نے کبھی امپورٹڈ جوتے نہیں خریدے، میں ہمیشہ لوکل تیار جوتے خریدتا اور پہنتا ہوں، کبھی کبھی گزرتے گزرتے میں پٹھان کے ٹھیلے پر جوتے چیک کرتا ہوں، یہ جوتے جو میں نے پہن رکھے ہیں، پٹھان کے ٹھیلے سے صرف دو سو روپے میں خریدے تھے"، اس نے اپنے پاؤں آگے کرتے ہوئے مجھے دکھائے۔

"مجھے گوشت کھانا بہت پسند ہے، کیونکہ یہ بہترین سورس آف انرجی اور پاور ہے، لیکن میں کبھی بھی ہوٹل سے گوشت کی کوئی بھی ڈش نہیں کھاتا، میں ہمیشہ محلے کے قصائی سے بہترین گوشت خریدتا ہوں، میری بیوی گھر میں پکاتی ہے، اور ہم سب گھر والے اکٹھے بیٹھ کر (خاص طور پر رات کے کھانے پر) کھاتے ہیں، یہ کھانا دنیا کے تمام ہوٹلوں سے سستا، اچھا اور بابرکت ہوتا ہے"۔

"لیکن تم گاڑی میں تو سادگی نہیں کر سکتے؟"، میں نے چائے کا آخری گھونٹ لے کر کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا، "یہ بھی تمہاری بھول ہے"، میمن نے بھی آخری لمبا گھونٹ لیا اور میری طرف جھکتے ہوئے سرگوشی میں کہنے لگا، "میری گاڑی کا پٹرول گھی تیل کی کمپنی والے دیتے ہیں"، میں نے حیران ہو کر پوچھا "وہ کیوں؟"، "کیونکہ میں ان کا بہت بڑا ڈیلر ہوں۔

میں نے ایک بار ان کا مال بند کر کے دوسری کمپنی کا مال اٹھا لیا تھا، جس پر کمپنی کے مالک نے مجھے فون کر کے وجہ پوچھی، تو میں نے صاف جواب دیا، بھائی پٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے، گھی مل کے مالک کا مینیجر آیا، مجھ سے مذاکرات کئے اور مہینے میں پندرہ دن کا پٹرول اپنے ذمے لے لیا، میں پندرہ دن دکان پر گاڑی میں اور اگلے پندرہ دن موٹر سائیکل پر آ جاتا ہوں، کیونکہ موٹر سائیکل میں میرے پیسوں کا پٹرول ڈلتا ہے۔

اس سے پہلے کہ میں کوئی اور سوال کرتا، میمن کا پرانا ملازم اندر آیا اور سرگوشی کے انداز میں اس کے قریب کھڑا ہو کر کہنے لگا "سیٹھ صاحب برابر والی جس بلڈنگ کا سودا ہم کر رہے تھے، وہ چار کروڑ میں فائنل ہو گیا ہے"، "مبارک ہو"۔

قدوس بھائی نے شکر ادا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے، میں نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا "یار قدوس پارٹی تو بنتی ہے"، "کیوں نہیں، دوست تو خوشی کو انجوائے کرنے کے لیے ہوتے ہیں"، قدوس نے مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا، دکان سے باہر آیا اور فٹ پاتھ پر کھڑے برگر والے کو دو برگر کا اشارہ کیا، ٹھیلے کے بینچ پر بیٹھتے ہوئے، ٹھیلے پر رکھے کولر سے پانی کا گلاس بھرا، اپنے ہاتھ پر رکھا اور مجھے پیش کرنے کے انداز میں دیتے ہوئے کہنے لگا، "میں تم سے ہمیشہ کہتا ہوں نا کہ پیسہ تو ہر آدمی کما سکتا ہے، لیکن بچاتا کوئی کوئی ہے، پیسہ کمانے کے تو لاکھوں طریقے ہیں، لیکن پیسہ بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے"، "سادگی"، "ہاں سادگی جو انسان کو زندگی بھر غریب اور رسوا نہیں ہونے دیتی"۔

ٹھیلے والے نے برگر پلیٹوں میں ڈال کر ہمیں دیے، قدوس ٹھیلے والے سے گپ شپ کرتے کرتے اور میں چپ چاپ برگر کھانے لگا۔

Check Also

Taqat Ke 48 Qawaneen (3)

By Nida Ishaque