Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaara Mazhar/
  4. Tik Tok

Tik Tok

کوئی بھی میڈیم برا نہیں ہوتا، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ شروع میں جب فیس بک فیچر آیا تھا تو لوگ اسے بھی مذاق کی چیز سمجھے تھے۔ صبح شام خواتین کے انباکس گڈ مارننگ اور گڈ نائیٹ کے گلابوں سے بھرے رہتے تھے۔ خواتین چیختی چنگھاڑتی رہتیں کہ سکرین شاٹ لگا دوں گی نام اخفا نہیں رہنے دوں گی یا جو میرے انباکس میں گھسا سیدھا بلاک مار دوں گی وغیرہ وغیرہ۔

کچھ بھولے تو ایسے تھے جو I love you لکھ کے send to all کر دیتے تھے۔ اس میں سب ٹھرکی نہیں تھے کوئی کوئی تنہائی کے مارے گھر کے فالتو پرزے بزرگ خواتین و حضرات بھی تھے۔ جو گھر میں جبراً ریٹائر کر دئیے گئے تھے، ٹائم لائین اور وال پہ بھی چند ایک ریڈی میڈ پوسٹس گردش کرتی تھیں۔ بہت ہوگیا تو کسی نے اپنے گھر کے پھول پودے یا کوکنگ کی چیزیں دکھا دیں۔

اور اپنے بھرے پیٹ یا امارت یا غریبوں کو ترسانے کا طعنہ سن کے توبہ کر لی۔ بڑی مشکل سے انہیں سمجھایا گیا کہ باغبانی یا کوکنگ ترسانے کے لئے نہیں، بلکہ تحریک دلانے کے لئے شئیر کی جاتی ہے۔ اپنی بہترین کوکنگ رسیپیز کھلے دل سے لوگوں میں بانٹیں کوئی سیکرٹ نہیں رہنے دیا آج فیس بک پہ آدھی سے زیادہ خواتین ادھر راغب ہو چکی ہیں، کئی مذاق اڑانے والیاں اور والے باقاعدہ اچار چٹنیوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔

اور دکانداری کا کرایہ خرچ کئے بنا کامیابی سے روزگار کما رہے ہیں۔ خیر پھر کچھ سنجیدہ لکھنے والوں نے اللہ کی رضا سے بڑی محنت سے اس کا تاثر بدلا اپنی قیمتی تحریریں، شاعری اور سکرپٹ رائٹنگ اخباری کالم یہاں لکھنا اور پوسٹ کرنا شروع کیں تو بہت سے لوگوں کو تحریک ملی بہت کچھ سیکھنے کو ملا نو آموز لکھنے والوں کی تحریروں میں نکھار آیا۔

بڑے ادبی ناموں تک رسائی ہوئی دوستیاں ہوئیں، بڑے نام کیسے لکھتے ہیں۔ انکی تحریریں بطور نمونہ پی ڈی ایف پہ پڑھنے کو ملیں آنلائین ادبی نشستیں اور مشاعرے بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہیں فیس بک اکاؤنٹ سے یہ سب ممکن ہوا اب کتاب بھی فیس بک کے تعارف سے ہی لوگوں تک رسائی پاتی ہے۔ اس سے پہلے انٹرنیٹ غریب کی رسائی میں نہیں تھا، لیکن اب پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کے لئے انٹرنیٹ سب سے سستا طریقہ ہے۔

ٹک ٹاک پہ جب بھی کچھ دیکھا طبعیت کراہ کے رہ گئی فحاشی کا اڈا لگتی ہے۔ کئی خوبصورت اور کم سن نازک بیٹیوں نے نمائش سے اپنی عصمت اور خوبصورتی کو ٹیلنٹ کے نام پہ ضائع کر لیا ہے اور تو اور ساٹھ اور ستر سال کی عورتیں بھی ٹک ٹاک پہ ناچنے اور مچلنے لگی ہیں، کئی غیرت مند بھائیوں کے ہاتھوں بہنیں قتل ہو چکیں ہیں کہ اس فیچر کا تاثر ہی فحاشی کا فیچر ہے۔

اور یہاں پہ اکاؤنٹ بنانے والوں کی روح ٹک ٹاک کے نام پہ سانپ سپیرے کی طرح لہرانے لگتی ہے۔ حسن جوانی یا ٹیلنٹ ضائع کرنے کی چیز نہیں رب کی عنایت اور امانت ہے۔ ہمیں انکے استعمال کا حساب کتاب دینا ہوگا، جب تک ان انعامات کو سمجھ کر استعمال نہ کیا جائے رائیگانی ہی تو ہے، حالانکہ ٹیکنیکلی ایک آسانی کی چیز ہے۔ اس سے بھی کئی کارآمد کام لئے جا سکتے ہیں۔

اس کا مزاج بدلا جا سکتا ہے، سنجیدہ لوگوں کے دھیان میں آنے کی دیر ہے، اس سیلاب کا رخ بھی موڑ لیا جائے گا قلم کی تلوار سے جہاد کرنے والے پیچھے نہیں ہٹیں گے انشاءاللہ۔ آٹے میں نمک کے برابر سہی کچھ لوگ اچھا کام بھی کر رہے ہیں۔ لیکن گندگی کے سیلاب میں اچھائی بہہ جاتی ہے، اس سیلاب پہ سنجیدگی کا بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ چھری سے ہم قربانی کریں یا جھٹکا چھری کا کیا قصور۔

Check Also

Julius Caesar

By Sami Ullah Rafiq