Dunya Tamasha Dekh Rahi Hai
دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے

دنیا ایک بار پھر اُس خطرناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی پوری دنیا کو معاشی اور انسانی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل بردار جہازوں کی رکاوٹ، ایران کی جانب سے یو اے ای پر مبینہ ڈرون اور میزائل حملے اور امریکہ کی جنگی حکمتِ عملی نے دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔
غزہ میں صورتحال پہلے ہی انسانی المیے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ خوراک کی قلت، بچوں میں غذائی کمی اور مسلسل بمباری نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے، مگر عالمی طاقتیں اب بھی صرف بیانات تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں، لیکن اعتماد کا فقدان اس خطے کو مسلسل غیر یقینی میں رکھے ہوئے ہے۔
اس پورے بحران میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں متحرک ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں یہ جنگ مزید بڑھی تو سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوگا؟ جواب واضح ہے: کمزور معیشتوں کا۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی عدم استحکام کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکیں گے۔
دنیا اس وقت طاقت کے نشے میں فیصلے کر رہی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں کبھی صرف بارود سے نہیں جیتی جاتیں، وہ انسانیت، معیشت اور نسلوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں اور شاید سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا اب جنگ سے نہیں، جنگ کی عادی ہوتی جا رہی ہے۔

