Badalti Dunya Aur Khamosh Pakistan
بدلتی دنیا، خاموش پاکستان

دنیا اس وقت ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تناؤ، غزہ میں انسانی المیہ، عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیا میں کہاں کھڑا ہے؟ اور سب سے اہم سوال، کیا ہم واقعی آنے والے وقت کے لیے تیار ہیں؟
آج اگر ہم عالمی خبروں کا جائزہ لیں تو ہر طرف طاقت، معیشت اور بقا کی جنگ نظر آتی ہے۔ امریکہ اپنی 250 سالہ آزادی کا جشن منا رہا ہے، ناسا Artemis II مشن کے ذریعے انسان کو دوبارہ چاند کے قریب لے جانے کی تیاری کر رہا ہے، چین مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی میں دنیا کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ جنگ اور سفارت کاری کے درمیان جھول رہا ہے۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، فیصلے کر رہی ہے، نئی پالیسیاں بنا رہی ہے، لیکن پاکستان اب بھی سیاسی نعروں، ذاتی دشمنیوں اور وقتی بیانات میں الجھا ہوا ہے۔
ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ترجیحات نہیں ہیں۔ پوری دنیا توانائی کے متبادل ذرائع، AI، ڈیجیٹل اکانومی، تعلیم اور سائنسی تحقیق پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، جبکہ ہمارے ہاں آج بھی بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ کون غدار ہے اور کون محبِ وطن۔ قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب ان کے ادارے مستقبل دیکھتے ہیں، لیکن ہم نے اپنے نوجوان کو صرف ڈگری اور بے روزگاری کے درمیان چھوڑ دیا ہے۔
غزہ میں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، دنیا انسانی حقوق کی بات کر رہی ہے، مگر عالمی سیاست اب بھی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ بین الاقوامی تعلقات جذبات سے نہیں، طاقت اور مفاد سے چلتے ہیں۔ پاکستان کو بھی اب جذباتی بیانیوں سے نکل کر حقیقت پسند خارجہ پالیسی کی طرف جانا ہوگا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف ردعمل دینے والی قوم رہیں گے یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے والی ریاست بنیں گے۔
پاکستان کے اندر بھی حالات زیادہ مختلف نہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی تلاش میں دربدر پھر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے معلومات تو بڑھا دی ہیں لیکن برداشت ختم کر دی ہے۔ ہر شخص تجزیہ کار ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔ سیاست اب خدمت نہیں، ایک مستقل جنگ بن چکی ہے جہاں مقصد مسائل حل کرنا نہیں بلکہ مخالف کو ختم کرنا رہ گیا ہے۔
لیکن ان سب کے باوجود امید ابھی زندہ ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوان طبقہ ہے۔ یہی نوجوان اگر صحیح سمت، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور مواقع حاصل کر لے تو پاکستان اگلے دس سال میں خود کو بدل سکتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے اور تاریخ ہمیشہ اُن قوموں کو یاد رکھتی ہے جو بحران میں بھی راستہ نکال لیتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف خبریں دیکھنا چھوڑ دیں اور خبروں کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھیں۔ کیونکہ آنے والا دور صرف اُن قوموں کا ہوگا جو جذبات نہیں، شعور کے ساتھ فیصلے کریں گی۔

