Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Teeba Syed
  4. The Stationary Shop Of Tehran

The Stationary Shop Of Tehran

دا سٹیشنری شاپ آف ایران

یہ کہانی ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے کافی پہلے کے دور کے گرد گھومتی ہے۔ اس وقت ایران کی عوام دو گروہوں میں بٹی ہوتی ہے۔ ایک گروہ ملک میں جمہوریت کا خواہاں ہے اور دوسرا شاہ کی بادشاہت کا۔

اس سیاست اور بغاوت کے ماحول میں ایک محبت کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی کی شروعات ہوتی ہے تہران میں واقع ایک اسٹیشنری شاپ سے۔۔ اس کا مالک مسٹر فخری ہوتا ہے۔

رویا اس دکان میں اسٹیشنزی کی چیزیں، ناول اور شاعری پڑھتی ہے۔ دکان کا مالک بھی اسے اچھی اچھی کتابیں نکال کے دیتا ہے۔ بہت ہی رومانوی اور ادبی سی سیٹنگ ہوتی ہے دکان کی۔ ایک دن مسٹر فخری رویا کو اپنے ایک اور پسندیدہ گاہک باھمان سے ملواتا ہے۔ وہ رویا کا ہم عمر ہی ہوتا ہے اور جمہوریت کے لیے شاہ کے خلاف ہوتا ہے۔

وہ دھرنے اور جلسوں میں جاتا ہے، تقریریں کرتا ہے۔۔ جمہوریت پسند لوگ اسے بہت عزت سے دیکھتے ہیں۔

رویا اور اس کے درمیان محبت کی کہانی شروع ہو جاتی ہے اور یہ محبت رویا کو جینا سکھاتی ہے۔۔

رومی کی شاعری پر بات ہوتی ہے۔۔ رویا اور باہمان کی منگنی بھی ہو جاتی ہے۔۔ مگر ان دونوں کی شادی سے پہلے حکومت کا تختہ پلٹ دیا جاتا ہے اور سب کچھ بدل جاتا ہے۔ سب کے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔

رویا کا خاندان بہت روشن خیال دکھایا جاتا ہے۔ رویا کی بہن زری کا کردار بہت دلچسپ اور مضبوط ہوتا ہے۔ وہ رویا سے زیادہ حقیقت شناس ہوتی ہے۔۔ مگر دونوں بہنوں کی آپس میں محبت بھی بہت اچھے سے دکھائی گئی ہے۔

ناول کی بہت سی پرتیں ہیں، جو حقیقی زندگی کے احساسات سے لبریز ہیں۔

رویا اور زری پڑھنے کے لیے امریکا چلی جاتی ہیں اور وہاں ہی دونوں بہنوں کی شادی بھی ہو جاتی ہے۔ دونوں کے شوہر بہت اچھے ہوتے ہیں۔ رویا کا شوہر والٹر ایک ایسا کردار ہے کہ شوہروں کو ضرور پڑھنا چاھیے کہ ایک شوہر کو کیسا ہونا چاھیے۔ اس شخص نے رویا کے ساتھ مثالی محبت کی۔

رویا کی زندگی میں باھمان کے بعد دوسرا دکھ اپنی بچی کی موت ہوتا ہے اور یہ اس کے لیے بہت برا ٹراما ہوتا ہے اور تب ہی وہ باھمان کی نفسیاتی ماں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے جس نے اپنے چار بچے دفنائے تھے اور اس کے بعد سے باھمان کی زندگی پر پورا کنٹرول چاہتی تھی۔

خیر کہانی عامیانہ طریقے سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔

1953 کی بغاوتوں میں اسٹیشنری شاپ جلا دی جاتی ہے (کیونکہ اس کا نوجوان سیاست میں ایک خفیہ اور اہم کردار ہوتا ہے) اور مسٹر فخری رویا کے سامنے ایک اسکوائر پر قتل ہو جاتا ہے۔۔ رویا اس اسکوائر پر باھمان کے بلانے پر گئی تھی۔۔ وہ دونوں شادی کرنا چاہ رہے تھے۔۔ مگر باھمان نہیں آیا۔۔ ایسا رویا کو لگتا تھا۔۔ دوسری طرف باھمان کو لگتا رہا کہ رویا نہیں آئی۔۔ یہ راز میں کھول کر اسپائلر نہیں دینا چاہتی۔۔

محبت کی وہ کہانی جو سترہ سال کی عمر میں شروع ہوئی تھی۔۔ وہ دونوں کے ستتر، اسی سال میں جا کر تکمیل کو پہنچی۔۔ رویا والٹر کی رضامندی سے باہمان کو ملتی ہے۔۔ اس وقت رویا ستتر سال کی ہوتی ہے اور وہاں ان دونوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان دونوں کی ایک دوسرے کے لیے محبت ختم نہیں ہوئی تھی۔۔ یہاں ایک بہت جذباتی منظر آتا ہے اور وہی اس ناول کی خاصیت اور انفرادیت ہے۔۔ وہ آپ پڑھ کر ہی جانیں۔۔

مجموعی طور پر یہ ایک بہترین کہانی تھی۔۔ مگر مجھے یہ سمجھنے میں تھوڑی سی دیر لگی کہ یہ کہانی عام نہیں ہے بلکہ اس میں باقی دنیاؤں کے لٹریچر کی طرح ڈراما نہیں ہے۔ موت ز دھوکا، نفسیاتی ٹراماز اور زندگی کو ہر حال میں قبول کر لینا اتنا آسانی سے دکھایا گیا ہے۔۔ کہ ہضم ہی نہیں ہوتا۔۔

ایرانی شاید ایسے ہی ہیں۔۔ مشکلات کا سامنا کرکے آگے بڑھتے رہنے والے۔ اس ناول میں پرانی طرز کا رومان ہے جو لطف دیتا ہے، جس میں شائستگی ہے اور اس کہانی میں جو یہ ایرانی عورتیں کھانوں کی تفصیلات بتاتی ہیں۔۔ اففف منہ میں پانی ہی آ جاتا ہے۔

زعفران سے تو ان کو خاص محبت ہے۔ نوروز اور ان کا کچھ کچھ کلچر کے بارے میں جاننا بھی دلچسپ ہے۔

Check Also

Aawara Singha (2)

By Ali Raza Ahmed