Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Teeba Syed
  4. Musbat Khayal, Musbat Nataij

Musbat Khayal, Musbat Nataij

مثبت خیال، مثبت نتائج

میری شخصیت میں ہزار ہا برائیاں ہوں گی، مگر مجھے اپنی ایک خوبی بہت پسند ہے کہ میں ایک "مثبت نقطہ فکر" رکھتی ہوں۔ زندگی میں کچھ بھی ہو جائے میں پہلے اسے مثبت سوچ اور نظریہ سے ہی دیکھوں گی۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ مثبت یا پازیٹیو رہنے والے لوگ حقیقت سے دور ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال اور تجربہ یہ کہتا ہے کہ حقیقت سب کے لیے مختلف ہوتی ہے۔ ایک انسان کی حقیقت دوسرے کےلیے فینٹسی ہو سکتی ہے۔ حقیقت میں مشکلات اور آسانیاں دونوں موجود ہیں۔۔ مگر مثبت اور منفی ہونا درحقیقت سوچنے اور فکر کا انداز ہے۔

انداز زندگی اتنی مختصر سی ہے تو انسان منفی چیزوں اور لوگوں سے اسے کیوں بھرے؟

منفی لوگ خود بھی بے اعتمادی کا شکار ہوتے ہیں، قنوطیت پسند اور شدید قسم کے تنقیدی بھی ہوتے ہیں اور دوسروں کے اعتماد میں بھی کمی پیدا کرتے ہیں۔

خود اعتمادی کہ کمی کفر ہے۔ گرو نانک فرماتے ہیں کہ "جو خود پر یقین نہیں رکھتا وہ رب پر یقین نہیں رکھ سکتا" اور میرا اس قول پر پختہ ایمان ہے۔

خود اعتمادی کی کمی درحقیقت مایوسی پیدا کرتی ہے اور انسان کا لاشعور اسے کائنات کے شعور سے جوڑ دیتا ہے اور پھر نتائج بھی منفی ہی ملتے ہیں۔

اللہ بھی قرآن میں فرماتا ہے کہ وہ انسان کے گمان میں رہتا ہے جیسا گمان کرو گے، اسے ویسا ہی پاؤ گے۔

جوزف مرفی بھی اپنی کتاب The power of your subconscious Mind میں یہی سکھاتا ہے کہ لاشعور کی مدد سے کیسے مثبت نتائج پیدا کرتا ہے۔

مجھے یہ تینوں حوالے ایک ہی جیسے لگتے ہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔

منفی انسان خود بدگمان ہوتا ہے اور اس لیے دوسروں کو بھی بدگمان کرتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھو۔ اب یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ہر وقت مثبت رہے۔ بعض اوقات حالات اور واقعات بھی انسان کو عارضی طور پر منفی سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

مگر کچھ لوگ عادتاً منفی ہوتے ہیں۔ وہ ہر شے میں منفی پہلو نکالتے ہیں۔ ان کے ایک کمنٹ سے بھی آپ کو اپنے اردگرد اس لمحے مایوسی، گھٹن، چڑچڑاپن اور نفرت نظر آئے گی۔ ایسے لوگوں سے اور ان کی باتوں سے دوری اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اچھا گمان قائم رکھنے کے لیے سوشل ڈی ٹاکسیفکیشن بہت ضروری ہے۔

میرے پاس جب بھی کوئی پریشان انسان اپنی پریشانی لے کر آتا ہے اور میرے پاس اس وقت اس کا کوئی حل نہیں ہوتا۔ مگر میرے گمان میں یہ ہوتا ہے کہ اگر میں اس انسان کو مثبت انرجی دے دوں اور اس کے گمان میں یقین بھرنے کےلیے کوئی بات کہہ دوں گی تو میرا لاشعور، اس کا لاشعور اور کائنات کا شعور اسے اجتماعی لاشعور (Collective subconscious) بنا دے گا اور پھر مثبت نتائج ملیں گے۔ (تم جیسا گمان کرو گے مجھے ویسا ہی پاو گے)

چند سال قبل گاوں میں میری والدہ کے پاس دو خواتین آئیں، ان میں سے ایک بےاولادی کی وجہ سے بے حد رو رہی تھی۔ میرے پاس اس کے لیے دعا کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ مگر مجھے اسے حوصلہ دینا تھا۔۔ میں نے اس خاتون سے کہا کہ انشاللہ اگلے سال جب میں گاوں میں آوں گی تو آپ ہمارے گھر آئیں گی تو آپ کی گود میں آپ کا بچہ ہوگا۔

میری اس خاتون سے وہ پہلی ملاقات تھی۔۔ مگر لوگوں کی ستائی ہوئی عورت روتے روتے ایک دم مسکرانے لگی۔

میں نے اس لمحے اللہ پر مضبوط یقین رکھا کہ وہ میری بات کی لاج رکھے گا اور پھر میری والدہ نے اگلے سال فون پر بتایا کہ وہ عورت آئی تھی اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔۔

اسی طرح بلوچستان سے ایک عورت کی مجھے رات دو بجے کال آئی جس میں وہ بہت بری طرح رو رہی تھی۔ وجہ بےاولادی تھی اور لوگوں کے طعنے اور تشنے۔ میں سیلاب مہم کے دنوں اس کے گھر ایک رات رکی تھی۔۔ اس سے زیادہ ہماری جان پہچان نہیں تھی۔

میں نے اسے کہا کہ جو رب نوے سال کے حضرت زکریاؑ کو حضرت یحییٰؑ جیسا بیٹا دے سکتا ہے وہ آپ کو بھی اولاد سے ضرور نوازے گا اور جب کوئی آپ کا دل دکھائے تو اس بات کو یاد کرنا۔

چند ماہ گزرنے کے بعد مجھے اس خاتون نے بتایا کہ وہ امید سے ہیں اور بیرون ملک شفٹ ہو رہے ہیں۔ بعد میں بچے کی پیدائش کے وقت بھی شاید میسج کیا تھا انہوں نے۔

اسی طرح میری ایک کلاس فیلو کی پروب آگئی اور سب دوستوں نے اس کو خوب سنائیں۔ میں نے اسے کہا کہ مجھے تم پر پورا بھروسا ہے تم اگلے سمیسٹر میں 3:00 SGPA لوگی اور یہ پروب والا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

میں یہ بات کہہ کر بھول بھی گئی۔ اگلے سمیسٹر کے رزلٹ کے وقت اس نے مجھے میسج کرکے بتایا کہ اس کا تین سے زیادہ جی پی اے آ گیا ہے اور میری بات نے اسے اعتماد دیا اور اسی کلاس فیلو کے مشورے پر میں نے ٹیچنگ شروع کی۔ وہ بہت عرصے تک مجھے کہتی رہی کہ تمہیں پڑھانا چاھیے۔ میں یونیورسٹی میں اپنی کلاس فیلوز کو پڑھایا بھی کرتی تھی۔

اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں کہ عملاً طور پر میرے پاس کسی کی مدد کرنے کےلیے اختیارات یا ذرائع نہ ہوں تو ان کو مثبت گمان بنانے کےلیے مدد کرتی ہوں۔

میرا ماننا ہے کہ ہم کسی مشکل میں پھنسے انسان کو سن کر اسے دلاسہ تو دے سکتے ہیں۔ اسے خود اعتمادی کی طرف لا سکتے ہیں اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنا منفی نقطہ نظر اس کے سامنے رکھنے سے باز تو آ سکتے ہیں نا؟

لیکن عادتاً مجبور منفی لوگ باز نہیں آ سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے بے شک ایسے لوگ اصل زندگی میں ہوں یا سوشل میڈیا پر۔

کچھ لوگ تو کرائم رپورٹر ہوتے ہیں، ان کو روزانہ کی بنیاد پر صرف منفی چیزیں اور واقعات ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لوگ اس رپورٹنگ کے عادی ہو جاتے ہیں مگر دوسروں کی ذہنی حالت خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

آپ کسی انسان کی، شہر کی، تقریب کے حوالے سے کوئی مثبت پوسٹ کریں گے وہ فوراً سے کمنٹ سیکشن میں آ کر اسی کے متعلق کوئی ڈھونڈ کر منفی نقطہ لائیں گے۔ اسے تنقید نہیں کہتے۔ یہ تنقید نہیں ہے بلکہ قنوطیت پسندی ہے (مایوسی پھیلانا) اور ان کو لگتا ہے کہ وہ بہت علم رکھنے والے، باخبر رہنے والے اور ہوشیار انسان ہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایسے انسانوں کو انگریزی میں Pessimist کہتے ہیں۔

اور ہر چیز کا مثبت پہلو نکالنے والے انسان کو Optimist کہتے ہیں۔

مایوسی پھیلانا سے پراعتمادی پھیلانا ہزار ہا بہتر ہے۔

اپنے اردگرد سے ایسے pessimists کو دور کریں۔ اگر آپ میں ہمدردی کا یہ چراغ جل رہا ہے کہ آپ ان کو مثبت انداز فکر کی طرف لے آئیں گے تو یہ آپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ یہ لوگ پیراسائٹ بن کر آپ کی مثبت انرجی کو بھی کھا جائیں گے۔ اس لیے اگر کسی پر ہمدردی دکھانی ہے تو وہ خود پر دکھائیں۔

Check Also

Nasal Kashi Se Pehle Yaadasht Kashi

By Wusat Ullah Khan