Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Imran Ali Shah
  4. Saal 2025: Insan, Zamana Aur Badalti Hui Tarjeehat

Saal 2025: Insan, Zamana Aur Badalti Hui Tarjeehat

سال 2025: انسان، زمانہ اور بدلتی ہوئی ترجیحات

زندگی مسلسل چلتے رہنے اور آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے، انسان کی پیدائش و وفات کا عمل بھی اسی زندگی کی دلیل ہے، وقت کو قید کرنا ممکن ہی نہیں ہے، سال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، مگر کچھ سال محض تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، وہ انسانی شعور میں ٹھہر جاتے ہیں۔

سال 2025 بھی ایسا ہی ایک سال تھا۔ یہ صرف دنوں اور مہینوں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا دور تھا جس نے انسان کو بار بار رکا کر یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں، وہ کس سمت جا رہی ہے اور ہم خود اس میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یہ سال طاقت، احتجاج، سانحوں، موسمی انتباہوں اور رخصتوں کا سال تھا۔ مگر ان سب کے درمیان ایک چیز مشترک رہی: انسانی جدوجہد۔ کہیں اقتدار کے ایوانوں میں، کہیں سڑکوں پر، کہیں ملبے تلے اور کہیں تخلیق کے کاغذ پر۔

عالمی سیاست کے افق پر 2025 نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ طاقت کا توازن کبھی مستقل نہیں رہتا۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھی، بلکہ یہ اس سوال کی بازگشت تھی کہ کیا دنیا ایک مرتبہ پھر طاقت کے پرانے بیانیے کی طرف لوٹ رہی ہے؟

ان کی پالیسیوں کے اثرات یورپ کی سفارت کاری سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کی نزاکتوں تک محسوس کیے گئے۔ یوں لگا جیسے عالمی نظام ایک بار پھر خود کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہو، مگر پرانے خدشات کے ساتھ۔

اسی دوران جنوبی ایشیا میں عوامی شعور کی ایک نئی لہر ابھری۔ نیپال میں نوجوانوں کے احتجاج نے یہ واضح پیغام دیا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں بلکہ مسلسل سوال کرنے کا نام بھی ہے۔ یہ احتجاج اس پورے خطے کے لیے ایک علامت بن گیا کہ نئی نسل خاموش تماشائی بننے پر آمادہ نہیں۔

بدقسمتی سے 2025 دہشت گردی کے سائے سے بھی آزاد نہ ہو سکا۔

پاکستان میں خضدار کے قریب اسکول بس پر حملہ اس سال کا وہ زخم ہے جس پر وقت بھی مرہم نہیں رکھ سکا۔ معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں، مگر اس کے ساتھ والدین کے خواب، اساتذہ کی محنت اور ایک قوم کی امیدیں بھی لہولہان ہوگئیں۔

باجوڑ میں ہونے والا دھماکہ اسی تسلسل کی ایک اور کڑی تھا، جس نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ کیا ہم اب بھی اپنے معاشرے کو نفرت اور تشدد سے محفوظ بنانے میں ناکام ہیں؟

یہ حقیقت بھی اسی سال سامنے آئی کہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔ آسٹریلیا کے ساحلی علاقے تک پھیلا ہوا تشدد اس بات کا اعلان تھا کہ یہ مسئلہ سرحدوں کا نہیں، انسانیت کا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے 2025 میں پوری دنیا کو گویا ایک کھلا خط لکھا۔ بہت ساری قدرتی آفات، جیسا کہ سیلاب، طوفان، شدید بارشیں، خشک سالی اور جنگلات کی آگ، سب ایک ساتھ یہ پیغام دے رہے تھے کہ زمین تھک چکی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے، کہیں بارش زندگی بہا لے گئی اور کہیں بارش نہ ہونے نے زمین کو بنجر بنا دیا۔ ان آفات کے بعد جو کچھ بچا وہ غربت، بیماری اور بے گھری تھی۔

یہ سال اس تلخ سچ کی یاد دہانی بن گیا کہ اگر انسان نے زمین کے ساتھ اپنا رویہ نہ بدلا تو آنے والے سال محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اجتماعی المیوں کی داستانیں ہوں گے۔

ان تمام تلخیوں کے درمیان کھیل نے کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی، لوگوں کو سانس لینے کا موقع دیا۔

ایشیا کپ 2025 میں بھارت کی فتح اور پاکستان کی شکست محض اسکور بورڈ کی کہانی نہ تھی۔ یہ جذبات، توقعات اور اجتماعی شناخت کا اظہار تھا۔ کھیل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہار کے بعد بھی ہاتھ ملایا جا سکتا ہے اور یہی سبق شاید میدان سے باہر بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

سال 2025 کئی عظیم شخصیات کی رخصتی کا سال بھی رہا۔

پاپائے فرانس، جنہوں نے مکالمے اور برداشت کو اپنی پہچان بنایا۔

ماریو وارگاس یوسا، جنہوں نے ادب کو سرحدوں سے آزاد کیا۔

رابرٹ ریڈفورڈ، ڈایان کیٹن، جین ہیک مین اور ڈیوڈ لنچ، جنہوں نے فلم کو محض تفریح نہیں بلکہ فکر بنایا، بھارت کے نامور اداکار دھرمیندر اس جہان فانی سے کوچ کرگئے اور لاکھوں مداحوں کو سوگوار کر گئے۔

اور فرینک گوہری، جن کی عمارتیں سوچ کی شکل معلوم ہوتی تھیں۔

پاکستان میں یاسمین طاہر کی وفات نے ہمیں یہ احساس دلایا کہ کچھ آوازیں خاموش ہو جائیں تو زمانہ واقعی سنسان لگنے لگتا ہے۔ یہ لوگ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے ایسا کام چھوڑ گئے جو انہیں زندہ رکھے گا۔

آخر میں اگر 2025 کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سال انسان کے لیے ایک آئینہ تھا۔ اس آئینے میں کہیں طاقت کا غرور دکھائی دیا، کہیں احتجاج کی جرات، کہیں بے بسی، کہیں مزاحمت اور کہیں تخلیق کی روشنی۔

سال ختم ہو گئے، مگر سوال باقی ہیں اور شاید یہی سوال انسان کو انسان بنائے رکھتے ہیں۔

سال 2026 آن پہنچا ہے، امید ہے کہ یہ سال دنیا بھر کے بسنے والوں کے امن، خوشحالی اور آسانیوں کا سال ثابت ہو۔

About Syed Imran Ali Shah

Syed Imran Ali Shah, a highly accomplished journalist, columnist, and article writer with over a decade of experience in the dynamic realm of journalism. Known for his insightful and thought-provoking pieces, he has become a respected voice in the field, covering a wide spectrum of topics ranging from social and political issues to human rights, climate change, environmental concerns, and economic trends.

Check Also

Kulliyat e Doctor Ajmal

By Rao Manzar Hayat