Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Imran Ali Shah
  4. Qanoon Ka Ehtram Aur Hamari Muasharti Zimmedariyan

Qanoon Ka Ehtram Aur Hamari Muasharti Zimmedariyan

قانون کا احترام اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں

مہذب معاشرہ صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا روشن شہروں سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ اس بات سے کہ وہاں کے لوگ قانون کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ قانون، وہ مضبوط ڈھال جو ہمیں لاقانونیت، بدامنی اور خوف سے بچاتی ہے۔ جب یہی ڈھال کمزور پڑ جائے تو معاشروں کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں اور بدقسمتی سے ہمارے وطن میں بھی یہی کیفیت تیزی سے جنم لے رہی ہے۔ ہم روزانہ اپنے آس پاس دیکھتے ہیں کہ ٹریفک سگنل توڑنا، غلط یو ٹرن لینا، قطار توڑ کر آگے بڑھ جانا، بغیر ہیلمٹ کے موٹر سائیکل چلانا، یہ سب معمول کی حرکتیں سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی معمولی خلاف ورزیاں معاشرے کے نظم و ضبط کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں ٹریفک حادثات نے پاکستان خصوصاً پنجاب میں ایک خوفناک شکل اختیار کر لی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک لمحے کی غفلت نے کتنی ہی ماؤں کو ماتم، بچوں کو یتیمی اور خاندانوں کو ویرانی دے دی۔ کتنے ہی نوجوان جو اپنے گھروں کی امید تھے، یا تو جان کی بازی ہار گئے یا ساری زندگی کے لیے معذوری کی زنجیروں میں جکڑ گئے۔ ان کے چہرے، ان کی ہنسی، ان کے خواب، سب سڑکوں کی دھول میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو گئے۔ یہ حادثات کسی تقدیر کا لکھا ہوا انجام نہیں، بلکہ ہماری اپنی لاپرواہی، ضد اور قانون شکنی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ہم جب قانون توڑتے ہیں تو صرف ایک اصول نہیں توڑتے، ہم کسی اور کے حقِ زندگی کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں۔ حکومت پنجاب کا حالیہ فیصلہ کہ ہر شہری ہیلمٹ پہنے، ایک نہایت مثبت اور انسان دوست اقدام ہے، کیونکہ ہیلمٹ کوئی بوجھ نہیں، یہ زندگی کا محافظ ہے، وہ آخری دیوار جو حادثے کے وقت ہمیں موت کے منہ میں جانے سے بچاتی ہے۔ لیکن افسوس یہاں بھی ہمارا وہی معاشرتی المیہ سامنے آتا ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہو، اس کی قیمتیں آسمان پر چڑھا دی جاتی ہیں۔ ہیلمٹ فروخت کرنے والوں نے اچانک بے تحاشہ اضافہ کرکے متوسط طبقے کو شدید پریشان کر دیا ہے۔ حکومت اگر قانون پر حقیقی عمل درآمد چاہتی ہے تو اسے ان مفاد پرست عناصر کے خلاف بھی کارروائی کرنا ہوگی، تاکہ شہریوں کو زندگی بچانے والا سامان ان کی پہنچ میں رہے۔

ہم اکثر ریاست سے سوال کرتے ہیں کہ امن کیوں نہیں؟ نظم و ضبط کیوں نہیں؟ لیکن کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ہم قانون کے احترام میں اپنا کردار کیا ادا کر رہے ہیں؟ قانون کا احترام صرف جرمانے یا ڈر کی وجہ سے نہیں، ایک ذمہ دار شہری ہونے کی وجہ سے ہونا چاہیے۔ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنی حدود پہچان لے، قطار کا احترام کرے، تیز رفتاری سے بچے، ہیلمٹ یا سیٹ بیلٹ لازمی باندھے، تو ہمارے معاشرے کا چہرہ خودبخود بدل سکتا ہے۔ آئیے آج ایک عہد کریں، ہم صرف اپنے گھر والوں کو نہیں، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ پاکستان دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں آج ہی یہ عہد کرنا ہوگا کہ قانون کا احترام اپنی پہچان بنائیں گے، ٹریفک قوانین کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں گے، سڑکوں پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے، خود بھی بچیں گے اور دوسروں کی زندگی بھی بچائیں گے، کیونکہ یاد رکھیے، ریاستیں قانون سے چلتی ہیں اور قومیں کردار سے بنتی ہیں۔

آئیے ہم سب مل کر دکھائیں کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں، ہماری پہچان قانون پسندی ہے اور ہم اپنے وطن کو محفوظ، مہذب اور باوقار بنانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔

About Syed Imran Ali Shah

Syed Imran Ali Shah, a highly accomplished journalist, columnist, and article writer with over a decade of experience in the dynamic realm of journalism. Known for his insightful and thought-provoking pieces, he has become a respected voice in the field, covering a wide spectrum of topics ranging from social and political issues to human rights, climate change, environmental concerns, and economic trends.

Check Also

Ehd e Qayadat Aur Aaina e Qaum

By Asif Masood