Afaat Ke Intezam o Inseram Union Council Tak
آفات کے انتظام و انصرام یونین کونسل تک

موسمیاتی تبدیلیوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور شاید ہی کوئی ایسا خطہ بچا ہوا ہوگا جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات رونماء نہ ہوئے ہوں، اس موسمیاتی تبدیلی میں حضرت انسان کی کارستانیاں کسی طور بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہیں، جنگلات کی کٹائی، آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات، انڈسٹریز کے فضلات کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی، سبزہ کی جگہ کنکریٹ نے لے لی ہے، یعنی کہ ہر طور انسان کے اقدامات نے قدرت کے نظام کو زبردست متاثر کیا ہوا ہے، نتیجتاً موسمیاتی تبدیلیاں رونماء ہوئیں اور جس کی وجہ سے قدرتی آفات کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جو اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت اختیار کرے گا۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی شدید بارشوں، گلیشیئر پگھلاؤ اور کلاؤڈ برسٹ جیسے واقعات کی زد میں ہے۔ 2010 اور 2022 کے بعد 2025 کی مون سون نے دوبارہ ظاہر کر دیا کہ خطرہ مستقل اور بڑھتا ہوا ہے۔ پالیسی اور قانون (NDMA Act 2010) موجود ہیں، مگر عملی صلاحیت (preparedness & response) کو تحصیل کی سطح تک منظم کیے بغیر جانی و مالی نقصانات کم نہیں ہوں گے۔
مختصر تاریخ اور اہم ترین اعداد و شمار
1992 کا "سپر فلڈ"
اقوامِ متحدہ/ReliefWeb کے مطابق کم از کم 1171 اموات، 56 لاکھ سے زائد متاثرین اور 7108 دیہات متاثر ہوئے۔
2010 کا تاریخی سیلاب
یو این او سی ایچ اے اور دیگر بین الاقوامی تخمینوں کے مطابق تقریباً 20 ملین (دو کروڑ) افراد متاثر، 1، 700–1، 985 اموات، 1.7–1.8 ملین گھر تباہ/متاثر اور ملک کے پانچویں حصے تک علاقہ زیرِ آب، جدید تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک۔
2014 پنجاب/آزاد کشمیر/گلگت بلتستان فلڈز
NDMA/حکومتی مشترکہ "Recovery Needs Assessment" کے مطابق 2.5 ملین سے زائد متاثرین، تقریباً 367 اموات، ~1.3 لاکھ گھر جزوی/کلی متاثر اور 10 لاکھ+ ایکڑ زیرِ کاشت رقبہ متاثر۔
2022 کا تباہ کن سیلاب (ملک کا ایک تہائی زیرِ آب)
مشترکہ PDNA/World Bank/ADB/UN جائزے کے مطابق 33 ملین افراد متاثر، تقریباً 1700 اموات، مالی نقصانات اور معاشی خسائر مجموعی طور پر USD 30–31 بلین کے لگ بھگ، تعمیرِ نو کی ضروریات USD 16 بلین+۔
2025 کی مون سون (جون–ستمبر 2025 تک تازہ صورتحال)
NDMA کے تازہ ترین روزانہ صورتِ حال رپورٹ (8 ستمبر 2025) کے مطابق ملک گیر اموات 900+ (KP اور پنجاب سب سے زیادہ متاثر)، ہزاروں زخمی، لاکھوں کی نقل مکانی، اوچا/یورپی اپڈیٹس 8 ستمبر تک 910 اموات اور 2.1 ملین+ نقل مکانی رپورٹ کرتی ہیں۔ سندھ میں انڈس کے نچلے علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتیاطی انخلاء جاری ہے۔
اعداد و شمار میں وقفے وقفے سے تفاوت آ سکتا ہے کیونکہ مختلف ادارے (NDMA، UNOCHA، میڈیا) رپورٹنگ کے الگ کٹ آف ٹائم استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے میں نے تازہ ترین NDMA سِٹرپس اور اوچا/عالمی خبررساں اداروں کی متوازی رپورٹس بھی ساتھ دی ہیں۔
نقصانات کی نوعیت
انسانی المیہ: 2010 اور 2022 میں بالترتیب 20 ملین اور 33 ملین متاثرین، لاکھوں بے گھر، تعلیم و صحت کی سہولیات کو بڑے پیمانے کا نقصان۔
اقتصادی جھٹکا: 2022 میں USD ~30 بلین کے مساوی نقصان/خسارہ، زرعی سپلائی چین، سڑکیں، پل، آبپاشی انفراسٹرکچر متاثر۔
تعلیمی/صحت ڈھانچہ: 2010 کے بعد کی مطالعہ جاتی رپورٹس میں ہزاروں اسکول اور سینکڑوں صحت مراکز متاثر ریکارڈ ہوئے۔
ادارہ جاتی پس منظر: قانون ہے، خلا عمل میں ہے
National Disaster Management Act 2010 کے تحت وفاق (NDMA)، صوبے (PDMAs) اور اضلاع (DDMAs) کی تین سطحی ساخت قائم ہے۔ قانون واضح کرتا ہے کہ DDMA ضلعی سطح پر منصوبہ بندی، ہم آہنگی اور نفاذ کی مرکزی باڈی ہے، لیکن زمینی حقیقت میں اکثر اضلاع میں فنڈنگ، افرادی قوت، ڈیٹا/ٹیکنالوجی اور اختیارات کی واضح ڈیلیگیشن ناکافی ہے۔
پالیسی مسئلہ: "ضلع تک" نہیں، "یونین کونسل تک"
سیلاب کے خطرات مقامی ہائیڈرو لوجی، برساتی نالوں، گلیشیئر لیک آؤٹ (GLOFs) اور شہری نکاسی کے فرق سے تحصیل/شہر-وار بدل جاتے ہیں۔ جب تک ابتدائی انتباہ (early warning)، کمیونٹی کمیونیکیشن اور فوری ریسکیو کی صلاحیت تحصیل یا یونین کونسل کی سطح پر نہ ہو، "گولڈن آور" ضائع ہو جاتی ہے، خاص طور پر فلَیش فلڈ اور کلاؤڈ برَسٹ کے واقعات میں جیسا کہ 2025 کے شمالی علاقوں میں دیکھا گیا۔
قابلِ عمل تجاویز: DDMA سے آگے، TDMA (تحصیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹس) UCDMA
(یونین کونسل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی)
1۔ قانونی/ادارہ جاتی توسیع
NDMA Act اور صوبائی قواعد کے تحت تحصیل درجے پر ذیلی ڈھانچہ (TDMA/سب-ڈسٹرکٹ DRM یونٹ) بااختیار TORs کے ساتھ تشکیل دیا جائے: ہنگامی خریداری/تعیناتی کے اختیارات، ریسکیو 1122/لوکل گورنمنٹ سے براہِ راست لنکیج۔
2.مستقل بجٹ لائن (PFC/NFC الائنمنٹ)
DDMA/TDMA کے لیے سالانہ بجٹ لائن، "کنٹینجنسی فنڈ" اور پرفارمنس بیسڈ گرانٹس (جیسے: فعال وارننگ کوریج، مشقیں، اسکول سیفٹی پلانز کی تعداد)۔ تعمیرِ نو فنڈنگ میں Build Back Better اصول لاگو ہوں (2022 کی PDNA رہنمائی کے مطابق)۔
3.ملٹی-ہارڈ وارننگ اور آخری میل کمیونیکیشن
PMD/FFD ڈیٹا + سیٹلائٹ/ریڈار فیڈ کو تحصیل کنٹرول روم تک لایا جائے۔
Cell Broadcast/Emergency SMS، مسجد/تعلیمی اداروں کے لاؤڈ اسپیکر، کمیونٹی وارنٹِیر نیٹ ورک۔
اردو/مقامی زبان میں خطرہ-درجہ بندی شدہ الرٹس (Impact-based forecasts)۔
4.لوکل رِسک میپنگ (تحصیل ہیزرڈ اطلس)
ہر تحصیل کے لیے درجہ بہ درجہ سیلاب/لینڈ سلائیڈ/گلوف ہاٹ اسپاٹس کی ڈیجیٹل میپنگ، محفوظ انخلائی راستے، عارضی کیمپس سائیٹس اور حساس تنصیبات (اسکول/ہسپتال/پمپنگ اسٹیشنز) کی فہرست۔ (2025 کے واقعات نے سیاحت زونز کی حساسیت بڑھا دی ہے، اس لیے شمالی وادیوں میں خصوصی اطلس لازمی)۔
5.ریسکیو 1122 + لوکل باڈیز "جائنٹ آپریشن سیلز"
سیلاب موسم سے پہلے مشترکہ ڈرِلز، تحصیل سطح پر بوٹ، لائف جیکٹس، ڈی واٹرنگ پمپس اور کمیونٹی فرسٹ رسپانڈرز کی فہرست/تربیت، NDMA سِٹرپس کے فارمیٹ کے مطابق روزانہ ڈیش بورڈ۔
6.محفوظ تعمیرات اور زرعی/شہری منصوبہ بندی
فلڈ پلین منیجمنٹ: غیر قانونی آبادی کاری پر کنٹرول، فلڈ ریزیلینٹ ہاؤزنگ ڈیزائن، اسکول/بی ایچ یو کی عمارتوں کو ریزیلینس اسٹینڈرڈ کے مطابق آپ گریڈ۔
واٹر بورڈز/آبپاشی کے ساتھ تال میل سے بندوں کی مضبوطی اور قدرتی نکاسی بحالی (nature-based solutions)۔ (2014 اور 2022 کے بعد RNAs نے یہی سفارشات دی تھیں)۔
7.ڈیٹا شفافیت اور "ایک ونڈو" رپورٹنگ
DDMA/TDMA کی اوپن ڈیش بورڈ پر اموات/زخمی/گھر/فصل/سہولیات کا روزانہ آپ ڈیٹ، NDMA-UNOCHA فارمیٹ سے ہم آہنگی تاکہ بین الاقوامی مدد کی صورت میں نمبر فوراً قابلِ تصدیق ہوں۔
8.مقامی معیشت کی بحالی (Livelihoods First)
کیش-فار-ورک، مائیکرو انشورنس/انڈیکس انشورنس اور زرعی ان پٹس کی جلد بحالی، 2022 کے PDNA/عالمی بینک نے poor-first اپروچ تجویز کی تھی، اسی کو تحصیل سطح پر standard practice بنایا جائے۔
1992,2010,2014,2022 اور 2025 کے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیلابی خطرات کی جغرافیائی ساخت "مقامی" ہے، اس لیے ردِعمل بھی مقامی/تحصیل ہونا چاہیے۔ قانونی فریم ورک موجود ہے، اب ضرورت اختیارات، وسائل، وارننگ اور ڈیٹا کو DDMA سے TDMA، سے UCDMAیونین کونسل کی سطح تک نیچے لانے کی ہے، جیسا کہ CBDRM (Community based Disaster Management Approach) کے تحت پوری دنیا میں کامیاب ماڈلز پر عملدرآمد کی مثالیں موجود ہیں جس میں تمام متعلقہ ادارے مقامی انتظامیہ اور عوام الناس باہم مل کر آفات کا بھرپور مقابلہ کرتے ہیں، اس توسیع اور قابل عمل حکمت عملی کے بغیر ہم ہر چند برس بعد ایسے ہی بڑے جانی و مالی نقصان کے چکر میں پھنسے رہیں گے۔
ملک پاکستان کے نامور ماہرین ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ، ہمہ قسمی آفات سے قبل بھرپور پر لگایا جانے والا ایک روپے، آفت کے دوران اور بعد میں لگائے جانے والے 100 روپے سے بچا سکتا ہے، اس سے مراد یہ کہ آفت سے پیشگی تیاری بعد میں ہونے نقصانات سے کافی حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے، پاکستان میں موجود موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ، سال 2026 میں بارشوں اور سیلابی صورتحال رواں سال سے 30 فیصدی زیادہ ہونے کا خدشہ ہے، ارباب اختیار کے پاس وقت بہت کم ہے، اس حوالے سے حکومت پاکستان کو تمام صوبائی حکومتوں، متعلقہ قومی و صوبائی کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی اپنا کر، جامع منصوبہ بندی کرنی ہوگی، تاکہ ملک پاکستان کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔

