Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Hasib Shah
  4. Mehmood Khan Achakzai Ki Siasat

Mehmood Khan Achakzai Ki Siasat

محمود خان اچکزئی کی سیاست

محمود خان، خان شہید صمد خان اچکزئی کے صاحبزادے ہیں۔ خان شہید خدائی خدمت گار تحریک میں باچا خان اور بعد میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں ولی خان کے ساتھی تھے لیکن نیپ کی پشتون، بلوچ مشرکہ کاز کے لئے سیاست، پشتون قوم کی الگ سیاسی شناخت، برطانوی بلوچستان کے پشتون علاقوں کی جداگانہ آئینی حیثیت پہ اختلافات کی وجہ سے خان شہید کو نیپ سے اپنی راہیں جدا کرنی پڑی۔

یہ علیدگی تنظیمی اور نظریاتی بنیادوں پہ تھی۔ کیونکہ وہ ایک ایسا سیاسی پلیٹ فارم چاہتے تھے جو صرف پشتون قومی حقوق پہ مرکوز ہو۔ ان وجوہات کی وجہ سے ان کو 1967 میں نیپ سے راہیں جدا کرنا پڑی اور ان کو ایک سال بعد 1968 میں اپنی نئی جماعت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (PNAP) کی تشکیل پہ آمادہ کیا۔ اس جماعت كا مقصد پشتون قومی شناخت، صوبائی خودمختاری، آئینی جہد وجہد اور مرکزیت کے خلاف موقف پہ مبنی تھا۔ 2 دسمبر 1973 کو خان شہید ایک بم دھماکے میں شہید کئے گئے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے جوان سال بیٹے محمود خان اچکزئی نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے نیپ پہ پابندی کے بعد قوم پرست سیاست دباو میں آگئی اور پی این اے پی کو بھی اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کرنی پڑی۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد قوم پرست اور جمہوری جماعتوں کے کام کرنے کا دائرہ مزید تنگ کر دیا گیا۔ محمود خان اچکزئی نے اس عرصے میں پارٹی کو فعال اور خان شہید کے نظرہات کو زندہ رکھنے کی کوششیں جاری و ساری رکھی۔ 1981 میں ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں نے ضیاء الحق مارشل لاء کے خلاف MRD (Movement for Restoration of Democracy) بنائی جس کا مقصد ضیاء مارشل لاء کا خاتمہ اور جمہورپت کی بحالی تھی۔ تمام قوم پرست جماعتیں بشمول محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اس تحریک کا حصہ بنی۔

1983 میں اس تحریک نے سندھ اور بلوچستان میں بہت زیادہ شدت اختیار کرلی۔ دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے سیاسی اجتماعات پہ پابندی تھی لیکن پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جلوس نکالنے پہ ریاستی اداروں کی جانب کی گئی فائرنگ سے پارٹی کے پانچ کارکن شہید ہوگئے۔ محمود خان اچکزئی کو کسی ممکنہ گرفتاری کی وجہ سے افغانستان جانا پڑا۔ اس دور میں اکثر قوم پرست رہنماوں کو جیلوں میں ڈالا گیا یا پھر وہ جلا وطنی پہ مجبور ہوئے۔ 1989 میں شیر علی باچا کی مارکسی انقلابی نظریے والی مزدور کسان پارٹی اور محمود خان اچکزئی کی پشتون خوا نیشنل عوامی پارٹی کے انضمام کے بعد اس نئی پارٹی کو پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کا نام دیا گیا۔

1988 میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد منعقد ہونے والے پہلے انتخابات میں اس پارٹی نے محمود خان کے بغیر حصہ لیا اور صرف دو صوبائی نشستیں حاصل کرسکی۔ اس کے بعد سوائے 2008 کے باقی منعقد ہونے والے تمام انتخابات میں اس جماعت نے حصہ لیا ہے اور 2013 کے انتخابات میں تو یہ صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کے سامنے آئی جب انھیں صوبائی اسمبلی کی 14 قومی اسمبلی کی 4 اور سینیٹ کی 6 نشستیں ملیں۔ مسلم لیگ ن اور نیشنل پارٹی کے ساتھ مل کے صوبے کی مخلوط حکومت بھی بنائی۔ گورنر شپ بھی ان کی جماعت کو ملی جس پہ پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی کے سابق بیوروکریٹ بھائی محمد خان اچکزئی جس کا پارٹی کی عملی سیاست سے کوئی دور کا تعلق نہیں تھا ان کو غیر متوقع طورپہ پارٹی چئیرمین نے پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے مجوزہ ناموں ڈاکٹر کلیم اللہ، نواب ایاز جوگیزئ، اکرم شاہ اور عثمان کاکڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے گورنر نامزد کیا اور اپنے چھوٹے بھائی کو پی اینڈ ڈی کا وزیر۔ گورنرشپ پہ اپنے بھائی کی نامزدگی کے فیصلے سے پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت اور کارکنوں کے اندر پارٹی لیڈرشپ کی جمہوریت کے ساتھ والہانہ، اصولی وابستگی اور ان کی سوچ میں میرٹ پہ مبنی پالیسیوں کے حوالے سے سالہا سال سے قائم ایمان کی حد تک غیر متزلزل یقین کو شدید دھچکا لگا۔

محمود خان اچکزئی کی سیاست کے ایسے بے شمار پہلو ہیں جو مجھ جیسے عام اور غیر جانبدار قاری کےسمجھ سے بالاتر اور حالیہ عرصے میں اکثر تنقید کی زد میں رہے ہیں مثلاََ ان کی سیاست کے حوالے سے سب سے اہم پہلو ان کی افغانستان میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اس ملک کے قیام سے لے کے آج تک strategic depth (تزویراتی گہرائی) پہ مبنی پالیسی ہے جس کے موصوف سخت ناقد رہے ہے۔ جس میں 1979 میں USSSR کی افغانستان میں مداخلت کے بعد ہماری اسٹیبلشمنٹ کی وہاں مجاہدین کی سرپرستی، ان کی برسر اقتدار نیشنلسٹ خلق پارٹی کی حکومتوں کے خلاف اپنی پراکسیز کے طور پہ استعمال، ہماری ریاست کی وہاں رجعت پسند اور تنگ نظر قوتوں کی سرپرستی اور ان کو امریکہ، مغرب اور عرب ملکوں کی ایماء پہ مالی اور عسکری امداد ہے۔ لیکن محمود خان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ یہ افغانستان کے حوالے سے اپنے نظریات میں اکثر متردد اور ابہام کا شکار رہے ہیں۔

یہ اور ان کی جماعت افغانستان میں روسی در اندازی اور ان کے بٹھائے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے پرچمی دھڑے کے صدور ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ کے بھرپور حامی جبکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین اور اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان آنے والے مہاجرین کے سخت مخالف تھے۔ ان کی جماعت اس وقت ان کو بھگوڑوں کے نام سے منسوب کرتی اور ان کی اس جنگ کے دوران جلد از جلد ملک واپسی کا مطالبہ کیا کرتی تھی لیکن بعد میں افغان مہاجرین کی بے دخلی کی سخت مخالفت اور ان کے لئے قانونی شہریت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ موصوف طالبان کی 1996 میں برسر اقتدار انے کے بعد ان کے سخت مخالف رہے اور 7 اکتوبر 2001 میں امریکہ کی افغانستان پہ حملے کی حمایت میں کوئٹہ میں بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جس میں طالبان حکومت کے خاتمے اور وہاں لویہ جرگہ کے ذریعے کثیر الجہتی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔

حامد کرزئی کے 12 سالہ اور اشرف غنی کے 7 سالہ حکومت میں ان کے بھرپور حامی رہے لیکن 2021 میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کے بعد ان کی حمایت کی اور اپنے آپ کو طالبان حکومت کا وزیر داخلہ قرار دیا۔ جس نے ان کی جماعت میں شدید اختلافات کو جنم دیا۔ موصوف کی جماعت کا بلوچستان کے پشتون اضلاع کے حوالے سے موقف ہے کہ انھیں خیبر پختونخوا میں ضم کئے جائے یا پھر اس صوبے میں پشتون-بلوچ کی اسمبلی نشستوں سے لے کے ملازمتوں، ڈویژنز اور اضلاع تک میں برابری کی بنیاد پہ نمائندگی ہو یا پھر پشتون اضلاع پہ مشتمل ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔ اس سیاست نے پشتون، بلوچ اقوام کے درمیان نفرتوں اور نسلی تعصبات کو جنم دیا۔ یہ نفرتیں کئی دفعہ مسلح لڑائیوں میں تبدیل ہوئیں۔ کالجز اور یونیورسٹیز کی سطح پہ بھی ان کے سٹوڈنٹس یونیز کے درمیان ان اداروں میں معمولی باتوں پہ فسادات جنم لیتے رہے جس کی وجہ سے سیکیورٹی اداروں کو طلب کیا جاتا اوریہ ادارے مہینوں تک بند رہتے اور طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا۔ لیکن 1999 میں انھی بلوچ جماعتوں بی این پی اور بی این ایم کے ساتھ مل کے پہلے محکوم اقوام کی تحریک پونم (PONM) بنائی۔

اے این پی کے اتحاد سے نکلنے کے بعد اس کے پہلے سربراہ بلوچ قوم پرست بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطاء اللہ مینگل مرحوم بنے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے 2002 کا الیکشن اسی بی این پی کے ساتھ کچھ سیٹوں پہ ایڈجسٹمنٹ کرکے لڑا۔ محمود خان کی جماعت پہلے 1991 میں ذوالفقار مگسی اور پھر 2013 کے الیکشنز میں صوبے کی سب سے بڑی اکثریتی جماعت بن کے پہلے ڈاکٹر مالک اور پھر سردار ثناء اللہ زہری کی حکومت میں شامل رہی۔ لیکن تینوں دفعہ حکومت میں شامل ہوتے ہوئے انھوں نے الگ صوبے اور برابری کے اپنے دیرینہ مطالبات نہ اس وقت حکومت میں شامل ہوتے ہوئے اتحادی جماعتوں کے سامنے رکھے اور نہ دوران حکومت اپنے پورے پانچ سالہ دور میں یہ مطالبات کسی نہ کسی شکل میں اسمبلی میں قرارداد کی صورت میں سامنے لائے۔ البتہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد اور نئے انتخابات کی آمد کے ساتھ ان کی پارٹی پھر انہی پرانے مطالبات کے ساتھ سامنے آتی ہے اور یہ تقریباََ ہر انتخابات کے موقع پہ ان کی جماعت کا وطیرہ ہوتا ہے۔ لیکن انتخابات گزرنے کے بعد ان کی جماعت خواہ حکومت میں رہے یا اپوزیشن میں اس اسمبلی کی پوری مدت میں پھر انہیں اپنے اس بنیادی مطالبے سے سروکار نہیں رہتی۔

18-2013 کی اسمبلی میں جس میں ان کی جماعت حکومت کا حصہ تھی اس میں اپوزیشن جماعت مولانا فضل الرحمان کی جمیت علماء اسلام کے ایک بلوچ رکن نے 11 نئے اضلاع کے قیام کی قرارداد پیش کی جس میں 8 پشتون اور تین بلوچ اضلاع تھے لیکن بجائے اس کی حمایت کرنے کے پشتونخوا میپ نے اس کی مخالفت کی یوں پانچ سال دور حکومت میں صوبہ بنانا تو درکنار ان کی جماعت ایک پشتون ضلع بھی نہ بنا سکی۔ البتہ حیرت انگئز طور پہ اپوزیشن جماعت کے ایک بلوچ رکن کی پشتون اکثریتی اضلاع کے قیام کے قرارداد کی حمایت کی بجائے مخالفت کی اور پھر 2017 مین ان کی جماعت کی اسی اتحادی حکومت کے دوران منعقدہ مردم شماری میں پشتونوں کی آبادی کے ساتھ اس وقت تاریخ ساز کھلواڑ کیا گیا جب ان کی آبادی کو بلوچوں کی 75 لاکھ آبادی کے مقابلے میں آدھی37 لاکھ ظاہر کیا گیا لیکن اس سب کچھ پہ ان کی جماعت نے حکومت سے نکلنا تو دور کی بات مجرمانہ خاموشی برتی۔

یہی کچھ ان کی جماعت نے 1997 کی مردم شماری کے موقع پہ کیا جب اختر مینگل کی حکومت میں ان کی جماعت نے مردم شماری کا بائیکاٹ کیا اور اسے پشتون علاقوں میں زبردستی نہیں ہونے دیا جس سے پشتون اضلاع کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں اگلی مردم شماری تک وہی رہی جبکہ بلوچ آبادی والی نشستوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ پشتونخوا میپ کی اسی حکومت کے دوران کوئٹہ شہر میں 8 اگست 2016 کو ایک اندوہناک بم حملے میں 70 پشتون، بلوچ وکلاء شہید ہوئے لیکن ان کی جماعت نے اس security lapse پہ مستعفی ہونا تو دور کی بات اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کے لئے مشہور محمود خان اس کے پانچ دن بعد اس وقت کے کور کمانڈر جنرل ناصر جنجوعہ کے ساتھ چودہ اگست کی آزادی کی تقریب میں نظر آئے اور پھر 19 اگست کو افغانستان کے جشن آزادی کے موقع پہ ایک ایسی ہی تقریب میں اسلام آباد میں افغان سفارت خانے میں اتنڑ (پشتون لوک ڈانس) میں دکھائی دے اس بات نے بم دھماکے میں شہید ہونے وکلاء کے خاندانوں میں افسوس اور غم و غصے کی لہر کو جنم دیا۔ ان کی پارٹی کی اسی حکومت میں 2016 کے اگست ہی کے مہینے میں 21 پشتون مسافروں کی مستونگ کے مقام پہ ظالمانہ اور سفاکانہ شہادت پہ بھی ان کی پارٹی ٹس سے مس نہ ہوئی چہ جائیکہ اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوتی۔

نواز شریف کو جنرل ضیاء الحق کا دست راست ہونے اور اپنے آمرانہ اقدامات کی وجہ سے اپنے پہلے اور دوسرے ادوار حکومت میں ہمیشہ محمود خان کی بدترین تنقید کا سامنا رہتا تھا خصوصا نواز شریف کی جنرل ضیاءالحق والی افغان پالیسی تو تمام پشتون قوم پرست جماعتوں بشمول محمود خان کی پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے لئے تو بالکل ہی ناقبول تھی۔ امریکہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ افغان مجاہدین کی فتح قریب ہونے کے وقت نواز شریف کے بطور وزیر اعظم اس بیان پہ کہ وہ جلد ہی مجاہدین کی کامیابی کی خوشی میں کابل کے پل چرخی میں جاکے شکرانے کے نوافل ادا کریں گے۔ اس پہ محمود خان اچکزئی نے ردعمل دیا کہ نواز شریف کو چمن سے کابل تک ہزاروں، لاکھوں پشتونوں کی لاشوں سے گزر کے پل چرخی میں جاکے نماز پڑھنی پڑے گی۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد افغانستان مجاہدین کے ہاتھوں فتح بھی ہوگیا اور نواز شریف نے وہاں جاکے نماز بھی پڑھی لیکن محمود خان اچکزئی یا ان کی جماعت کی طرف سے ایسی کسی قسم کی مزاحمت سامنے نہیں آئی۔

1999 میں وہی نواز شریف جو اپنے دور میں امرانہ اقدامات اور افغانستان میں ضیاء پالیسی کا علمبردار تھا اس کی جنرل مشرف کے ہاتھوں برطرفی کے بعد اس کے لئے سب سے پہلے احتجاج کی کال دینے والا بھی یہی محمود خان اچکزئی تھا۔ 2017 میں نواز شریف کی ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے نا اہلی کے خلاف ایک دفعہ پھر موصوف محمود خان اچکزئی ہی سرگرم عمل نظر آئے۔ ان کی نااہلی کے بعد ان کے حق میں سب سے پہلا جلسہ کوئٹہ میں کیا اور اس میں نواز شریف کی موجودگی میں یہ بیان دیا کہ جو پشتون بھی نواز شریف کا ساتھ نہیں دیتا وہ بے غیرت ہے۔

2018 میں عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے متحد ہوئیں تو محمود خان اچکزئی بھی حسب سابق اس کا حصہ تھے اور تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو چوری کے مینڈیٹ سے تعبیر کیا۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے لئے ہر وقت اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے سرگرم رہتے اور پونے چار سال کے بعد جب عمران خان کی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے ختم کی گئی تو موصوف بھی اس عمل کا حصہ تھے۔ لیکن جونہی نئے الیکشن ہوئے اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ حکومت بنی تو محمود خان نے اس حکومت اور اس کے مینڈیٹ کے خلاف تحریک انصاف کے ساتھ مل کے تحریک تحفظ ائین پاکستان بنا ڈالی اور حال ہی میں عمران خان نے انھیں ان کی ان دو سالہ خدمات کے صلے میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے۔

ان کی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ شہید جو جب تک زندہ تھے پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے اور پارٹی ان کی وجہ سے بہت زیادہ فعال تھی 2021 میں ان کی اچانک شہادت کے بعد ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لئے موثر احتجاجی مہم نہ چلانے پہ پارٹی بحران کا شکار ہوگئی اس پارٹی کے مرکزی و صوبائی انتخابات کے مسئلے پہ مرکزی جنرل سکریٹری کی جانب سے مجلس عاملہ کا اجلاس بلائے جانے پہ چئیرمین محمود خان اچکزئی نے مرکزی وائس چئیرمین، مرکزی جنرل سکریٹری، صوبائی نائب صدور، صوبائی جنرل سکریٹری، مرکزی سکریٹری اطلاعات اور دوسرے دہائیوں پہ محیط پارٹی سے وابستگی رکھنے والے متعدد عہدیداران کو پارٹی سے فارغ کیا۔ جس کے بعد ان عہدیداران نے عثمان خان شہید کے جوانسال بیٹے خوشحال کاکڑ (جو آج کل قومی اسمبلی کے ممبر ہے) کی قیادت میں خان شہید کی سابقہ جماعت پشتون خوا نیشنل عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت کی تشکیل کی۔

محمود خان کی پارٹی نے اپنے کونسل سیشن میں محمود خان اچکزئی کو 55 سالہ روایت پہ عمل کرتے ہوئے حسب سابق بلا مقابلہ چئیرمین اور ان کے زیر تعلیم عملی سیاست سے دور بیٹے کو مرکزی سکریٹری کے عہدے پہ نامزد کیا اور یہ اس پارٹی کی پچھلے کئی دہائیوں سے روایت رہی ہے کہ اس کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کا چناو بلا مقابلہ ہوتا ہے جو اس جمہوریت جس کے محمود خان اچکزئی صبح، شام دعویدار ہے اس کی روح کے خلاف ہے۔ الغرض محمود خان اچکزئی کی سیاست اور شخصیت کا جمہوریت اور اصولوں کے ساتھ وابستگی کا جو ظاہری تصور خصوصا دوسرے صوبوں میں قائم ہے وہ عملا ویسا نہیں ہے اور ان کی جماعت کی سیاست بھی دوسرے جماعتوں کی طرح خاندانی موروثیت پہ مبنی اور تضادات سے بھرپور ہے۔

Check Also

Mehmood Khan Achakzai Ki Siasat

By Syed Hasib Shah