Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Hasib Shah
  4. Maduro Ke Iqtidar Ka Khatma Aur Trump Ke Azaim

Maduro Ke Iqtidar Ka Khatma Aur Trump Ke Azaim

مادورو کے اقتدار کا خاتمہ اور ٹرمپ انتظامیہ کے عزائم

وینزویلا، ہیوگو شاویز کے 1999 میں اقتدار میں آنے کے ساتھ ایک سوشلسٹ ریاست میں تبدیل ہوا جس نے آتے ہی بولیوین انقلاب کی طرز پہ بڑی صنعتیں (خصوصا تیل) قومیائی، سوشل ویلفیئر کا پروگرام دیا، جبکہ امریکہ دشمنی کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بنایا۔ نکولو مادورو نے 2013 میں میں ہیوگو شاویز کے اچانک انتقال کے بعد ان کی جگہ لی اور اپنے پیشرو کی سوشلسٹ پالیسیوں کو بالکل اسی طرح جاری و ساری رکھا۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے ان کے زیر اقتدار وینزویلا کے عوام کو امریکن پابندیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک، ادویات اور دوسری روزمرہ کی چیزوں کی وسیع قلت کا سامنا تھا۔

امریکن نواز اپوزیشن کی جانب سے ان پہ بد عنوانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مخالفین کے خلاف سیاسی جبر اور دباؤ کے وسیع تر الزامات کا سامنا تھا۔ امریکہ اور بہت سے مغربی ممالک مادرو کی حکومت پہ الیکشن میں بہت بڑے پیمانے پہ دھاندلی، منشیات کی سمگلنگ اور پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

وینزویلا کی معیشت زیادہ تر تیل کی آمدن پہ منحصر ہے دنیا کے چند بڑے ذخائر میں سے ایک جو توانائی سے متعلق جغرافیائی سیاست کو ان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون بناتا ہے۔ نئے سال کے شروع میں 3 جنوری کو امریکہ نے ونیزویلا میں راتوں رات ایک ملٹری آپریشن کرکے مادرو اور اس کی بیوی کو ان کے صدارتی محل کے کمپاؤنڈ سے پکڑ کے مجرمانہ الزامات (منشیات سے جڑی دہشت گرد سرگرمیوں اور سمگلنگ میں ملوث ہونے) کے تحت امریکہ منتقل کیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ امریکن فوج کی بہت ہی کمال مہارت اور سرعت پہ مبنی آپریشن تھا جس میں مادرو کے محافظوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور ان کی طرف کسی قسم کی منظم مزاحمت سامنے نہ آسکی۔ وینزویلا اور دوسرے بہت سے ممالک کی حکومتوں نے اسے ایک غیر قانونی اور ایک خودمختار ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف حملہ قرار دیا۔ اب رہی بات کہ اس کاروائی کے دوران کیوں اتنی معمولی سی مزاحمت دیکھنے کو ملی۔

امریکی حکومت کے ذرائع کے مطابق آپریشن کی رفتار اتنی تیز اور اس کا دورانیہ اتنا مختصر تھا کہ وینزویلا کی فوج کی حرکت میں آنے سے پہلے ہی یہ کاروائی سرآجام دی جا چکی تھی اور انکو کانوں کان خبر نہیں لگنے دی گئی۔ اس کے علاوہ بقول امریکن حکام کے مادرو کو سیاسی اور معاشی محاذ پہ بہت سی کمزوریوں کا سامنا تھا جس کی وجہ سے منظم مزاحمت سامنے نہیں آئی۔ لیکن بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ نقطہ نظر متنازع اور مبالغہ آمیز ہے۔ وینزویلا یک جماعتی غالب سوشلسٹ ریاست ہے جس میں اقتدار پہ اسی ایک جماعت کا سخت کنٹرول ہے۔ قومی تحویل میں لی گئی معیشت جس میں بالخصوص تیل کا شعبہ ریاستی ملکیت کی کمپنی (PDVSA) Petróleos de Venezuela، S-A کے پاس ہے۔

حزب اختلاف کی سیاسی سرگرمیوں پہ پابندی ہے۔ ریاست کا روزمرہ زندگی میں بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ امریکن حکام مادرو کو ایک امر اور بدعنوان حکمران کے طور پہ پیش کرتے رہے ہیں جبکہ وینزویلین رہنما امریکن پالیسیوں کو ایک سامراجی، جابر اور بالادست ریاست کی پالیسیز سے تعبیر کرتے ہیں۔ مادرو کی جماعت اگرچہ ان الزامات کو مسترد اور اس آپریشن کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے لیکن ان کی جگہ صدارت سنبھالنے والی ان کی وفادار نائب صدر روڈرگز کی حکومت نے معیشت کے استحکام کے لئے سیاسی قیدیوں اور تیل کی پیداوار کی برآمد پہ امریکن حکام کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے اشارے دئیے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹرمپ کی حکومت نے حملوں کے دوسرے ممکنہ سلسلے کا ارادہ فی الحال ترک کر دیا ہے۔ البتہ یہ عیاں ہے کہ امریکن قابض افواج تیل کے قریب مقامات پہ اپنی جغرافیائی موجودگی کو ممکن بنائے گی جب تک وینزویلا کے تیل کی دریافت اور ترسیل کا ٹھیکہ امریکن حکومت اپنے ہاتھ میں نہیں لیتی۔

دوسری طرف امریکن کانگریس ایک ایسے قرارداد کی منظوری پہ غور کر رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ کے دوسرے ممالک میں کاروائی کے اختیار کو محدود اور کانگریس کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔ مادرو حکومت کے ساتھ فوجی تعاون، تیل کے معاہدے، تجارتی شراکت داری رکھنے والے دو طاقتور ممالک رشیا اور چائنا نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر قانونی، ایک خودمختار ملک کی سالمیت، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور نوآبادیاتی دور کے نئے عزائم سے تعبیر کیا۔ دونوں ممالک اور دوسرے بہت سے ممالک بشمول اقوام متحدہ نے بھی سلامتی کونسل میں اس امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔

یہ دونوں ممالک ٹرمپ انتظامیہ کی اس حرکت کو ان کے توسیع پسندانہ عزائم اور یکہ تنہا عالمی طاقت کے طور پہ دنیا کے معاملات کو چلانے کے خواب سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی مخالفت جغرافیائی کے ساتھ ساتھ قانونی بھی ہے۔ ٹرمپ کے مستقبل کے ممکنہ اقدامات، واقعات کی پیش رفت اور ان کے عوامی بیانات پہ منحصر ہے۔ ان اقدامات میں وینزویلا کے تیل تک رسائی اور اس کی بڑے پیمانے پہ امریکہ کو ترسیل اور اس کے توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری شامل ہیں۔

روس اور چین سے دوری، امریکہ کے کیمپ میں شمولیت اور نئی سیاسی و معاشی صف بندی، لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک پہ نارکوٹکس کی روک تھام اور حکمرانی کے معاملات کے حوالے سے دباؤ، روس، چین اور کیوبا کے خلاف جغرافیائی سیاست میں وینزویلا کو دباو کے ایک موثر ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنا۔ لیکن ٹرمپ کی ان خواہشات کے رستے میں بہت سی رکاوٹیں بھی ہیں امریکی کانگریس جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا پے ٹرمپ کے یکطرفہ فوجی کارروائیوں پہ قدغن لگانے کی قرداد پاس کرنے پہ غور کر رہی ہے۔ بین الاقوامی قانونی اعتراضات ان یکطرفہ اقدامات کو محدود کر سکتے ہیں جبکہ ٹرمپ کا موقف، تزویراتی تیل کے مفادات، انسداد منشیات بیانیہ اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا امتزاج ہے۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ان واقعات کے ردعمل میں شاویز اور مادرو کے وفادار شہری کولیٹووس کاراکاس کی سڑکوں پہ گشت کر رہے ہیں گاڑیاں روک کر امریکی شہریوں یا امریکہ کے ساتھ روابط کے علامات تلاش کر رہے ہیں۔ یہ شاویز یا مدورو کے حامی گروہ ہیں جو حکومت یا سابقہ حکومت کے وفادار سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ کی ریاستی محکمہ نے ایک سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کولیکٹوس سڑکوں پر ناکے لگا کر گاڑیاں روک رہے ہیں اور امریکی شہریوں یا امریکہ کے ساتھ روابط کی علامات تلاش کر رہے ہیں اسلئے امریکن شہری فی الفور وینزویلا سے نکل آئے۔ اس کا مطلب ہے کہ حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور اس طرح نہیں رہنے ہیں جسطرح کا تصور ٹرمپ نے کیا تھا اور وینزویلا امریکہ کے لئے ایک نیا ویت نام، عراق یا افغانستان بننے جا رہا ہے۔

Check Also

Libra

By Rauf Klasra