DPO Shangla, Ghup Andhere Aur Madham Roshani
ڈی پی او شانگلہ، گھپ اندھیرے اور مدھم روشنی

مملکت عزیر کی تنزلی کے باب میں وجوہات و محرکات کا ایک طومار ہے جو ہر صاحبِ نظر کے ہاں مختلف جہتوں میں ہمارے سامنے آتا ہے کسی کے ہاں سول ملٹری چپقلش ملک کی بربادی کا جوہری محرک ہے کئی اہل دانش سیاستدانوں کی مالی بے راہ روی کو ملکی اضمحلال کا سبب بتا تے ہیں تو کوئی عوام کی شعوری سطح کے گراوٹ کو برائیوں کا جڑ قرار دیتے ہیں غرض یہ کہ اگر ان وجوہات کا اختصار کے ساتھ بھی ذکر ہوں تو کئی مجلدات پر مشتمل کتب مرتب ہو جائیں۔۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ سب محرکات اپنی جگہ درست اور قابل فہم ہے لیکن میری دانست میں سول ملٹری چپقلش کے بعد ہمارے ملک کی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ ریاست اور عوام میں بد اعتمادی کی وہ خلیج ہے جو وقت کے ساتھ اور گہری ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کا شہری اور شہری کا ریاست کے ساتھ وہ مضبوط رشتہ روز اول ہی سے قائم نہ ہوسکا جو کسی بھی عمرانی معاہدے یعنی آئین کا جز لاینفک اور اساس ہے کسی بھی قوم اور سماج کی ترقی اور اٹھان کے سفر میں ریاست اور عوام کا مبنی بر اعتماد رشتہ ہی وہ زادِ راہ ہے کہ جس کے بَل پر یہ سفر ترقی اور خوشحالی کے منزل پر منتج ہوسکتا ہے۔ بصورت دیگر تخریب اور تنزلی قوموں کا مقدر ٹھہرتی ہے یہی تاریخ کا سبق اور نسل انسانی کی فکری ارتقاء کا حاصل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ریاست اور عوام میں بد اعتمادی کب پیدا ہوتی ہے سادہ سا اصول ہے کہ بطورِ شہری میں اپنی کمائی کا ایک خطیر حصہ بصورتِ ٹیکس ریاست کو دان کرتا ہوں جس پر ریاستی بندوبست کی عمارت کھڑی ہے اور بدلے میں ریاست میری جان مال اور آبرو کی حفاظت کرتی ہے اب اگر ریاست اپنے اس بنیادی ذمہ داری میں کوتاہی برتے تو فی الواقع وہ اپنا جواز کھو دیتی ہے اور یوں شہری اور ریاست کے درمیان بداعتمادی کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔
اب ذرا غور کیجئے کہ کیا ہماری ریاست ان مندرجہ بالا ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برا ہورہی ہے میرے خیال میں جم غفیر کا جواب نفی میں ہوگا اور اس کی سب بڑی وجہ ریاستی بندوبست کو چلانے والے صاحب اختیار کارندوں کا وہ ناروا سلوک ہے کہ جس نے عوام کو ریاست سے دور کردیا ہے ہمارے ہاں مقابلے کے امتحان میں پاس ہونے والے آفیسر ہوں سول بیوروکریسی ہوں یا ملٹری اسٹیبلشمنٹ وہ سب با جماعت عوام کو حقیر رعایا سمجھ کر ان کی تذلیل کو اپنا فرض عین سمجھتی ہیں اور یوں وفاداری کی نفسیات کے بجائے منفی ردعمل کے نفسیات پروان چڑھتے ہیں۔
ہمارے ہاں کوئی بھی کسی بھی محکمے میں چپڑاسی سے لیکر چوٹی پر براجمان بڑے آفسر تک سب اپنے آپ کو مطلق العنان بادشاہ سمجھ کر عوام کو حقیر رعایا کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں سول بیوروکریٹ ہوں یا کوئی پولیس آفسر سب فرعون بن کر عوام سے فاصلہ اختیار کرتے ہیں کسی کی مجال جو کسی بڑے آفسر سے براہِ راست ملکر اپنی دادرسی کرسکے اگر ملنا ہوں تو تگڑی سفارش ناگزیر ہے وگرنہ بادشاہ سلامت تک پہنچنا جان جوکھوں کا کام ہے اور اسی خباثت نے ہمارے ملک کا ستیاناس کردیا ہے رشوت اقرباء پروری سمیت کئی برائیوں کا جنم اسی شاہانہ رویے کی پیداوار ہے۔
لیکن اس گھٹن زدہ ماحول میں جب کسی ایسے آفیسر سے ملاقات کا اتفاق ہوں جو عوام کا درد سینے میں سموئے ہر دم عوام کی خدمت میں ہمہ تن گوش ہوں تو امید کا ایک خوشنما جھونکا درماندہ اور دل گرفتہ دلوں میں تسکین و مسرت کے رنگ بھر دیتا ہے۔
اور ہمارے ساتھ بھی کچھ یوں ہوا کہ ایک مہربان کے توسط سے ڈی پی او شانگلہ جناب شاہ حسن خان کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہوا ان سے ملکر یہ خوش گوار حیرت ہوئی کہ شاہ حسن خان روایتی آفیسرز کے بالکل بر عکس اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں انتہائی ملنسار کم گو اور باوقار انسان ہے مالی بے ضابطگی اور شاہانہ طرز زندگی سے کوسوں دور ہے سادہ مزاجی اور انکساری جن کی شخصیت کا لازمہ ہے۔
شاہ صاحب سے گفتگو کا موقع ملا تو انہیں عوام کی شعوری سطح کی گرواٹ کے بارے میں خاصا فکر مند پایا حیرت انگیز طور پر شاہ صاحب نے اس بات پر کافی نکتہ چینی کی کہ عوام خود کی خدمت پر مامور کلیدی عہدوں پر فائز افسران سے ملنے سے آخر کیونکر کتراتے ہیں۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ شاہ صاحب کا اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ خاصا گہرا تعلق ہے یہ میرا احساس ہے کہ شاہ صاحب کے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہیں اور یہی وہ صائب رویہ ہے کہ جس کی اس ملک کے پسے عوام کو اشد ضرورت ہے اس کے علاوہ میں نے محسوس کیا کہ شاہ صاحب کی طبیعت میں عجز کا عنصر اطمینان کی حد تک موجود ہے وہ رعونت اور تکبر جو اس ملک کے ارباب دست وکشاد کا خاصہ ہے شاہ صاحب کا اس سے گزر بھی نہیں۔
اگر چہ میرا قلم کسی سُبک سَر کا کاسہ نہیں جو بقول فراز
غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
اور نہ مجھے قصیدہ گوئی کا کوئی شوق ہے لیکن جو تحسین کے لائق ہوں جو اس ملک کے عوام کو اپنا سمجھتے ہوں جو اس ملک کی خدمت کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہوں ایسے محترم اشخاص کی توصیف عین ملک سے وفاداری کا تقاضا ہے۔۔
ان سے ملاقات کے بعد دلِ ناشاد نے امید کی ایک کروٹ لی کہ شاہ حسن خان جیسے آفیسرز جو اگرچہ خطرناک حد تک اقلیت میں ہے لیکن کم ہی سہی جب تک موجود ہیں اس ملک کی ترقی اور تعمیر کا خواب زندہ رہے گا اور مبہم یقین کی شمع اپنی ٹمٹماتی روشنی سے وطن عزیز کے دروبام منور کرتی رہے گی۔

