Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Israeli Ki Jarhiyat, Lebanon Ki Aag Aur Mashriq e Wusta Ka Naya Imtehan

Israeli Ki Jarhiyat, Lebanon Ki Aag Aur Mashriq e Wusta Ka Naya Imtehan

اسرائیل کی جارحیت، لبنان کی آگ اور مشرق وسطی کا نیا امتحان

تاریخ کے کچھ دن عام نہیں ہوتے۔ وہ کیلنڈر کے صفحات پر نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر پر لکھے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں جنگ کی پہلی گولی سرحد پر چلتی ہے لیکن اس کی آخری بازگشت عالمی معیشت، سیاست اور انسانی زندگیوں میں سنائی دیتی ہے۔ گزشتہ چند روز میں اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں میں متعدد حملے کیے جن کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچے، خواتین اور ایک ہی خاندان کے کئی افراد شامل تھے۔ ان تصویروں نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا کہ جنگ کبھی صرف فوجیوں کو نہیں مارتی، یہ گھروں، خوابوں اور مستقبل کو بھی ملبے تلے دفن کر دیتی ہے۔ لبنان کے لیے یہ کوئی نیا منظر نہیں۔

1982ء میں اسرائیلی ٹینک بیروت کی گلیوں تک پہنچ گئے تھے۔ اس جنگ نے ہزاروں جانیں لیں اور ایک نئی مزاحمتی قوت حزب اللہ کو جنم دیا۔ آج چوالیس سال بعد تاریخ ایک بار پھر اسی دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار خطہ پہلے سے کہیں زیادہ بارود، میزائلوں اور سیاسی نفرتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف حزب اللہ کے عسکری مراکز ہیں، لیکن لبنان کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں میں عام شہری مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی مہم کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

مارچ 2026 سے اب تک لبنان میں کشیدگی کے نتیجے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔۔ اپریل 2026 اس بحران کا سب سے خونچکاں باب ثابت ہوا، جب اسرائیل نے لبنان پر اپنے حالیہ تاریخ کے شدید ترین فضائی حملے کیے۔ لبنانی میڈیا نے اس دن کو"بلیک ویڈنزڈے"کا نام دیا، ایک ایسا دن جس میں صرف 24 گھنٹوں کے اندر 357 افراد جان سے گئے اور 1,223 زخمی ہوئے۔ عالمی سطح پر اس کارروائی نے شدید ردعمل پیدا کیا اور بیس سے زائد ممالک نے کھل کر اس کی مذمت کی، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ سفارتی بیانات بندوقوں کی گھن گرج کو کم نہ کر سکے۔

دلچسپ اور اہم پہلو یہ ہے کہ اپریل 2026 میں امریکہ کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جو عارضی جنگ بندی طے پائی تھی، وہ کئی دہائیوں بعد پہلا موقع تھا جب دونوں فریقین نے براہِ راست سفارتی رابطہ قبول کیا۔ تاہم یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی ہفتوں کے اندر جنگ بندی زمینی حقائق کے دباؤ میں تحلیل ہونے لگی اور خطہ ایک بار پھر اسی پرانے خطرناک موڑ پر آ کھڑا ہوا جہاں امن محض ایک عارضی وقفہ اور جنگ ایک مستقل سایہ بن جاتی ہے۔

جون 2026 کا آغاز بھی مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایسا ہی ایک باب بن چکا ہے۔ بیروت کی فضاؤں میں گونجتے دھماکے، شمالی اسرائیل پر منڈلاتے خطرات، ایران کی سخت وارننگز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنے دیرینہ اتحادی بنجمن نیتن یاہو پر برہمی ایک ایسی کہانی رقم کر رہی ہے جس کے اثرات صرف لبنان یا اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے جھٹکے محسوس کر سکتی ہے۔

کہانی کیا ہے زرا سمجھتے ہیں۔ جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے دیکھا کہ ان کی مرضی کے بر خلاف امریکہ، ایران سے جنگ کے بجائے، ڈیل کرنے کا زیادہ خواہش مند ہے تو جنگی جنون میں مبتلا نیتن یاہونے لبنان پر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے، تازہ حملوں کی اس لہر نے جنوبی لبنان کو نشانہ بنایا اور پے در پے لبنانیوں کی قتل و غارت پر کمر بستہ ہوگیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان کو دھمکی دی کہ لوگ بیروت کے مضافاتی علاقوں کو خالی کر دیں۔ ظاہر ہے اس کا مطلب تھا کہ اگلا نشانہ بیروت ہوگا۔ اس پورے بحران کے پس منظر میں امریکہ کی سفارتی حکمتِ عملی بھی دباؤ میں نظر آتی ہے۔ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات واشنگٹن کے لیے پہلے ہی ایک نازک مرحلہ تھے اور تہران کی جانب سے واضح انتباہ کہ بیروت پر بڑے پیمانے کے حملے کی صورت میں وہ سفارتی عمل معطل کر سکتا ہے، صورتحال کو مزید حساس بنا گیا۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کو دیے گئے سخت پیغامات سامنے آئے، جن میں بیروت پر مجوزہ کارروائی روکنے پر زور دیا گیا۔ بین الاقوامی ذرائع، بشمول Axios، کے مطابق واشنگٹن نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی سے نہ صرف ایران کے ساتھ مذاکرات خطرے میں پڑ جائیں گے بلکہ اسرائیل کی عالمی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اسرائیل کی لبنان کے خلاف اس ننگی جارحیت پر ایران کا دماغ گھوم گیا، ایرانی سرکاری فوج نے دھمکی دی کہ اگر بیروت کو نشانہ بنایا گیا تو ہم شمالی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دیں گے، ساتھ ہی شمالی اسرائیل کے باشندوں سے کہا گیا کہ وہ جلد از جلد یہ علاقہ خالی کر دیں۔ لو جی اب ٹرمپ تو اس صورتحال میں برہم ہوگیا، انھوں نے بی بی (نیتن یاہو کا نک نیم) کو فون کیا اور ٹھیک ٹھاک کلاس لی۔ Axios نے تو سرخی لگا دی: "You are funking crazy"۔

میڈیا کے مطابق فون پر امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ میں نے تم پر جو احسانات کیے ہیں تمھیں ان کا احساس ہی نہیں۔ ابھی تم کرپشن الزامات میں جیل میں ہوتے۔ ٹرمپ کی یہ بات درست ہے، امریکی دباو کی وجہ سے ہی نیتن یاہو ابھی تک ٹرائل اور سزا سے بچا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ساری دنیا تمھاری حرکتوں کی وجہ سے تم سے نفرت کرتی ہے تم نے اسرائیل کا بیڑہ غرق کر دیا ہے، اب تم بیروت پر حملہ کرو گے تو دنیا کی نفرت میں اور اضافہ کرو گے۔ ٹرمپ کے یورپی اتحادی اسرائیل کی انہی گھٹیا حرکات کی وجہ سے امریکہ سے دور ہو رہے ہیں انھیں مزید ناراض کرنا، امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ بہرحال ٹرمپ کو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ بی بی کے بچھائے جال میں پھنس چکے ہیں، پیر ہی کو انھوں نے ایک جگہ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ: "میں تنگ آ چکا ہوں"۔ یہ بات بھی امریکی اخبارات میں رپورٹ ہوئی ہے۔

امریکی صدر کے ٹیلی فون کو پریس لیک نہیں کر سکتا جب تک کہ وائٹ ہاؤس خود خبر جاری نہ کرے۔ اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ اور غیر متوقع کردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ وہی ٹرمپ جنہوں نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا، وہی ٹرمپ جنہوں نے اسرائیل کے لیے غیر معمولی سفارتی حمایت فراہم کی، آج وہی اپنے قریبی اتحادی نیتن یاہو سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی گفتگو خاصی تلخ رہی۔ ٹرمپ کا خیال ہے کہ لبنان میں مسلسل حملے خطے کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں جس کے نتائج امریکہ سمیت پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔ واشنگٹن اس وقت ایران کے ساتھ ایک نازک سفارتی عمل کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ نیتن یاہو کی حکومت زیادہ جارحانہ راستہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں؟

جواب شاید مکمل "ہاں" میں نہ ہو لیکن یہ ضرور ہے کہ دونوں ممالک کے مفادات میں فرق واضح ہونے لگا ہے۔ امریکہ اس وقت عالمی سطح پر یوکرین، چین، معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بڑی جنگ واشنگٹن کے لیے دردِ سر بن سکتی ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو اپنی داخلی سیاست، سلامتی کے خدشات اور عوامی دباؤ کے تحت سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ادھر ایران نے بھی اپنے پتے میز پر رکھ دیے ہیں۔ تہران نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے مزید بڑھے تو اس کے اثرات شمالی اسرائیل تک پہنچ سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کی تقریباً 70 فیصد آبادی محض چند بڑے شہری مراکز میں رہتی ہے۔ اگر شمالی علاقوں میں مسلسل میزائل حملے شروع ہو جائیں تو نہ صرف لاکھوں افراد متاثر ہوں گے بلکہ معیشت، صنعت اور روزمرہ زندگی بھی شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل شمالی سرحد کو اپنی قومی سلامتی کا بنیادی مسئلہ تصور کرتا ہے۔

دنیا کی بڑی جنگیں اکثر کسی بڑے منصوبے سے نہیں بلکہ غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔ پہلی عالمی جنگ ایک گولی سے شروع ہوئی تھی۔ دوسری عالمی جنگ چند سیاسی غلط فیصلوں کا نتیجہ تھی۔ آج مشرقِ وسطیٰ بھی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک میزائل، ایک فضائی حملہ یا ایک جذباتی فیصلہ پورے خطے کو آگ میں دھکیل سکتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران، لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازع مزید پھیلتا ہے تو خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔

پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک بھی اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین صدیوں سے تہذیبوں، مذاہب اور سلطنتوں کا مرکز رہی ہے، لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ جنگوں، تنازعات اور خونریزی کی علامت بن چکا ہے۔ آج بیروت کے تباہ حال مکانات، اسرائیل کے شمالی شہروں میں بجتے سائرن، تہران کے سخت بیانات اور واشنگٹن کی پریشان سفارت کاری ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: کیا دنیا ایک اور بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا، لیکن ایک حقیقت آج بھی اتنی ہی واضح ہے جتنی کل تھی۔

لبنان کے بچے، اسرائیل کے شہری، ایران کے نوجوان اور دنیا بھر کے کروڑوں انسان اس وقت اسی دعا میں مصروف ہیں کہ بارود کی زبان خاموش ہو اور عقل و حکمت کو بولنے کا موقع ملے۔ کیونکہ اگر لبنان کی آگ مزید بھڑک گئی تو اس کے شعلے صرف بیروت اور تل ابیب تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پوری دنیا اس کی تپش محسوس کرے گی۔

Check Also

Zameer Ka Bojh

By Muhammad Umar Shahzad