Iran, America Mafahmati Yaddasht
ایران، امریکہ مفاہمتی یادداشت

دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک خبر لگتے ہیں لیکن دراصل وہ پورے خطے کی تقدیر بدلنے کی چابی ہوتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جو نیا سفارتی فریم ورک زیرِ بحث ہے، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک موڑ ہے۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے کی دشمنی، پابندیوں، پراکسی جنگوں اور باہمی عدم اعتماد کے بعد اب دونوں فریق ایک ایسی میز پر بیٹھنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں الفاظ گولیوں کی جگہ لے رہے ہیں اور مفاہمت طاقت کی نئی زبان بن رہی ہے۔
یہ بات بھی اب زیادہ پوشیدہ نہیں رہی کہ اس پورے عمل میں صرف دو ملک نہیں بلکہ کئی خاموش کردار بھی شامل ہیں۔ قطر اور پاکستان ان میں نمایاں ہیں۔ قطر نے گزشتہ برسوں میں خود کو ایک ایسے سفارتی مرکز کے طور پر منوایا ہے جہاں بڑے تنازعات کے ابتدائی رابطے بنتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان غیر رسمی پیغامات، حساس سفارتی اشارے اور ابتدائی اعتماد سازی میں دوحہ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ ایک متوازن مؤقف رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو برقرار رکھا بلکہ امریکہ کے ساتھ بھی روابط کو اس سطح پر رکھا کہ وہ ایک غیر رسمی پل کا کردار ادا کر سکے۔
اصل کہانی مگر اس وقت زیادہ گہری ہو جاتی ہے جب ہم اس مجوزہ معاہدے کے معاشی اور اسٹریٹجک پہلو کو دیکھتے ہیں۔ یہ صرف جنگ بندی یا سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک بڑے اقتصادی ری آرڈرنگ کی کوشش ہے۔ اندازہ ہے کہ ایران کی ممکنہ معاشی بحالی کے لیے تقریباً تین سو ارب ڈالر کے ایک بین الاقوامی پیکج پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ رقم کسی ایک ملک کی براہ راست امداد نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مالیاتی ڈھانچے کے ذریعے آئے گی جس میں خلیجی سرمایہ، نجی سرمایہ کار، بین الاقوامی ادارے اور ممکنہ امریکی شراکت داری شامل ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سرمایہ کاری حقیقت بنتی ہے تو ایران کی معیشت کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
اس وقت ایران کے توانائی اور صنعتی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہوا ہے۔ ریفائنریاں پرانی ہیں، بندرگاہی نظام دباؤ میں ہے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بحالی بھی توجہ مانگتی ہے اور بجلی کا نظام بار بار بحران کا شکار ہوتا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق اس پورے انفراسٹرکچر کی ازسرنو تعمیر، توانائی کے شعبے کی آپ گریڈیشن، ریلوے اور شاہراہوں کی توسیع اور صنعتی زونز کی بحالی پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ صورتحال کسی حد تک اس تاریخی مارشل پلان سے مشابہت رکھتی ہے جس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی معیشت بدل دی تھی۔ اس پورے فریم ورک میں ایک اور غیر معمولی پہلو امریکی وزارت خزانہ کا کردار ہے۔ ماضی میں یہی ادارہ ایران کے خلاف سخت ترین مالیاتی پابندیوں کا مرکز رہا ہے۔
"زیادہ سے زیادہ دباؤ"کی پالیسی کے تحت تیل کی برآمدات محدود ہوئیں، بین الاقوامی بینکنگ چینلز بند ہوئے اور ایرانی معیشت عالمی مالیاتی نظام سے بڑی حد تک الگ ہوگئی۔ لیکن اب اگر یہ معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو اسی وزارت خزانہ کو ایک بالکل مختلف کردار ادا کرنا ہوگا۔ یعنی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی، تیل کی برآمدات کے لیے خصوصی اجازت نامے، منجمد اثاثوں تک محدود رسائی اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ایران کی جزوی واپسی۔
اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ایران کے تقریباً ایک سو ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے مختلف عالمی مالیاتی اداروں میں منجمد ہیں۔ ان تک رسائی کا مسئلہ صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا بھی ہے۔ اسی طرح ایران کی تیل برآمدات جو پابندیوں سے پہلے ایک کروڑ بیرل یومیہ کے قریب تھی، وہ گزشتہ برسوں میں شدید کمی کا شکار رہی۔ اگر نرمی ہوتی ہے تو یہ شعبہ دوبارہ عالمی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس تمام منظرنامے کا ایک اور پہلو لبنان سے جڑا ہوا ہے۔ وہاں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی بھی اسی بڑے فریم ورک کا حصہ بنتی نظر آتی ہے۔ اگر لبنان میں حالات کسی مستقل جنگ بندی کی طرف جاتے ہیں تو یہ خطے کے سب سے حساس محاذ میں سے ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
یہ صرف ایک ملک کا معاملہ نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے طاقت کے توازن کا سوال ہے۔ لیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ واقعی ممکن ہے یا یہ ایک اور سفارتی خواب ہے جو حقیقت کے بوجھ تلے دب جائے گا۔ کیونکہ ایران کے اندر بھی طاقتور حلقے اس معاہدے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کی پالیسیوں میں تسلسل نہیں اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ پلٹ سکتی ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن میں بھی سیاسی تقسیم موجود ہے جہاں کچھ حلقے ایران کے ساتھ کسی بھی بڑی رعایت کو خطے کے توازن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔ جنگیں ہمیشہ متبادل تلاش کرتی ہیں۔ جب فوجی راستہ مہنگا اور غیر یقینی ہو جائے تو سفارت کاری ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ آج ایران اور امریکہ دونوں اسی مجبوری کے نقطے کے قریب کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف پابندیاں ہیں، معاشی دباؤ ہے اور اندرونی مسائل ہیں، دوسری طرف مسلسل کشیدگی کا عالمی اثر ہے جس سے کوئی بھی فریق مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکا۔
قطر اور پاکستان کا کردار اسی جگہ زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں ممالک اس بات کی مثال ہیں کہ عالمی سیاست صرف طاقت کے بڑے مراکز تک محدود نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات درمیانے درجے کے ممالک بھی اعتماد سازی کا وہ کام کر جاتے ہیں جو بڑی طاقتیں براہ راست نہیں کر سکتیں۔ سفارت کاری اکثر شور نہیں کرتی، لیکن اس کے اثرات بہت دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر یہ پورا عمل کامیاب ہو جاتا ہے تو ایران نہ صرف عالمی معیشت میں واپس آئے گا بلکہ اس کے انفراسٹرکچر کی بحالی ایک نئے معاشی دور کا آغاز کر سکتی ہے۔
تیل، گیس، ٹرانسپورٹ، توانائی اور صنعت کے شعبے دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک نئے توازن میں داخل ہو جائے گی۔ لیکن اگر یہ کوشش ناکام ہوگئی تو پھر وہی پرانا منظرنامہ واپس آ سکتا ہے جس میں اعتماد کم اور کشیدگی زیادہ ہوتی ہے۔ تاریخ یہاں بار بار ایک ہی سبق دیتی ہے کہ مواقع ہمیشہ دوبارہ نہیں ملتے۔ اس وقت دنیا ایک ایسے لمحے پر کھڑی ہے جہاں فیصلہ چند الفاظ، چند دستخط اور چند سفارتی وعدوں کے درمیان معلق ہے اور شاید آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ لمحہ تاریخ کا نیا آغاز تھا یا ایک اور کھویا ہوا موقع۔

