Sunday, 08 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Shehr e Iqtidar Ka Lahu Aue Bebas Riyasat

Shehr e Iqtidar Ka Lahu Aue Bebas Riyasat

شہرِ اقتدار کا لہو اور بے بس ریاست

اسلام آباد وہ شہر جس کے در و دیوار اقتدار کے دعووں سے گونجتے ہیں ایک بار پھر لہو کی بو سے پہچانا گیا۔ ترلائی کا دھماکہ کوئی اچانک سانحہ نہیں یہ ایک اعلان ہے اعلان اس بے بسی کا جسے ہم ریاست کہتے ہیں اور اس نااہلی کا جسے ہم سکیورٹی کہتے رہے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں دھماکہ ہونا یوں ہے جیسے تاج محل کے سائے میں کھنڈر اگ آئے ہوں۔ سوال یہ نہیں کہ حملہ کیوں ہوا اصل سوال یہ ہے کہ اتنے دعووں کے باوجود اتنے کیمروں اور ناکوں کے ہوتے ہوئے موت ریڈ زون کے دروازے تک کیسے پہنچی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس ایک دھماکے میں 40 زندگیاں بجھ گئیں 60 سے زائد زخمی ہوئے اور ان میں پانچ شہداء گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایسا خطہ جو خود دہائیوں سے ریاستی بے اعتنائی کا شکار رہا ہے کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں حالیہ مہینوں کے دوران 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان کی دہکتی ہوئی آگ خیبر پختونخوا کے زخم کھاتے راستوں سے ہوتی ہوئی اب اسلام آباد کے دامن تک آ پہنچی ہے یہ جغرافیہ نہیں بدل رہا، یہ ریاستی گرفت پگھل رہی ہے۔

سیف سٹی کیمرے کہاں تھے؟ ناکوں پر مامور محافظ کہاں دیکھ رہے تھے؟ اور سب سے اہم سوال جب بارود شہر میں داخل ہو رہا تھا تو ریاست کس خواب میں مگن تھی حسبِ روایت دھماکے کے بعد وہی پرانا بیانیہ گردش میں ہے حملہ آور افغانستان آتا جاتا رہا اچھا مان لیا مگر وہ تھا کون؟ نام؟ تصویر؟ نیٹ ورک؟ سہولت کار؟

عوام اب ادھوری کہانیوں پر تالیاں نہیں بجاتے جب مجرم کا چہرہ دھندلا رکھا جائے تو شکوک صاف دکھائی دیتے ہیں۔ آج یہ حملہ آور افغانی بتایا جا رہا ہے کل شاید بی ایل اے، پرسوں کوئی بیرونی ایجنسی اور اگر سب ناکام ہو جائیں تو کوئی نامعلوم پاکستانی۔ ریاست اگر واضح نہیں ہوگی تو سرحدیں اور چیک پوسٹس بھی محض کاغذی دیواریں رہیں گی امن و امان محض بندوق سے نہیں آتا وہ اعتماد سے آتا ہے اور اعتماد اُس حکومت پر ہوتا ہے جس کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو مگر یہاں بحث چل رہی ہے فارم 47 کی جیتے ہوؤں کو ہرانے کی اور ہارے ہوؤں کو مسلط کرنے کی جب حکمران اپنی کرسی کے تحفظ میں مصروف ہوں تو عوام کا تحفظ ایک فائل بن جاتا ہے جس پر بعد میں غور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں ریاستی رٹ روز چیلنج ہو رہی ہے اور آج شہرِ اقتدار کا لرز جانا اس حقیقت پر مہر ہے کہ مسئلہ کسی ایک صوبے یا ایک واقعے کا نہیں یہ نظامی دیوالیہ پن ہے۔ اسی لیے آج ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے یہ صرف غصہ نہیں یہ ایک چیخ ہے جو کہہ رہی ہے ہم غیر محفوظ ہیں آج پوری قوم ترلائی کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے یہ دکھ مشترک ہے یہ زخم اجتماعی ہے۔

اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور زخمیوں کو مکمل شفا عطا کرے آمین۔ لیکن صرف دعائیں کافی نہیں اسلام بے گناہ کے خون کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور عدل کو امن کی بنیاد بتاتا ہے اگر ریاست نے اب بھی خود کو درست نہ کیا اگر طاقت کے بجائے حکمت اور بیانیے کے بجائے سچ کا انتخاب نہ کیا تو تاریخ بڑے بے رحم فیصلے سناتی ہے ریاست کو اب خوابِ خرگوش سے جاگنا ہوگا کیونکہ جب شہرِ اقتدار خود محفوظ نہ رہے تو رعایا کو کون بچائے گا۔۔

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
کہ جنگل بستیوں تک آ گیا ہے

عدالت خوابِ غفلت میں ہے شاید
درندہ منصبوں پر چھا گیا ہے

جنہیں رہبر کہا تھا ہم نے خود ہی
وہی قافلوں کو بیچ کھا گیا ہے

چراغِ امن بجھنے کو ہے شاید
ہوا کا رخ بہت گہرا گیا ہے

ہمارے گھر کی دیواروں کے پیچھے
کوئی دشمن نہیں، اپنا گیا ہے

مرمویؔ دعا بھی اب امان مانگتی ہے
کہ جنگل بستیوں تک آ گیا ہے

زمیں چیخے، فلک بھی کانپ اٹھے
خدایا یہ کیسا دور ہم پر آ گیا ہے

Check Also

Fitrat Ki Kahani Rangon Ki Zubani

By Dr. Anila Zulfiqar