Mafahmat Ka Fareb, Mazahmat Ki Zaroorat
مفاہمت کا فریب، مزاحمت کی ضرورت

سیاست میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ ہی نہیں انسان کی اجتماعی غیرت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں جب طاقت کو اخلاقیات کا لبادہ اوڑھا دیا جائے اور مفاد کو اصول کہہ کر بیچا جائے تو پھر توقعات کی لاشیں خود بخود اٹھنے لگتی ہیں ایسے میں یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے کہ ہمیں ان سے اچھے کی امید کیوں تھی؟ کیونکہ جب میزانِ عدل جھک جائے تو ناپ تول کا کیا بھروسہ۔
8 فروری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال دراصل ایک تاریخ نہیں ایک پیغام ہے یہ پیغام اس نظام کے نام ہے جو عوام کی سانسوں پر ٹیکس لگاتا ہے اور پھر ہاتھ میں آئینہ پکڑا کر ترقی کے خواب دکھاتا ہے سوال یہ نہیں کہ دکانیں بند ہوں گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ضمیر کھلیں گے یا نہیں ہڑتال بازار کی خاموشی نہیں، شعور کی بلند آواز ہونی چاہیے۔
میری تحریر شور نہیں مچاتی خاموشی سے قارئین کے دل پر لگتی ہے میرا ہر لفظ آئینہ دکھاتا ہے آئینہ یہ کہ غلامی ہمیشہ زنجیروں میں نہیں آتی کبھی یہ مراعات کبھی مفاہمت کبھی قومی مفاد کے خوش نما نعروں میں لپٹی ہوتی ہے ہم نے بارہا مفاہمت کو عافیت سمجھا اور ہر بار قیمت ہماری آنے والی نسلوں نے چکائی مفاہمت اگر اصول سے خالی ہو تو امن نہیں تعطّل بن جاتی ہے اور تعطّل قوموں کو آہستہ آہستہ مٹا دیتا ہے۔
آج ضرورت کسی اندھے تصادم کی نہیں بلکہ منظم شعوری اور پُرامن مزاحمت کی ہے۔ ایسی مزاحمت جو آئین کی طاقت سے عوام کی شرکت سے اور اخلاقی برتری سے اپنا حق منوائے ایسی مزاحمت جو بندوق کے بجائے دلیل نفرت کے بجائے انصاف اور جلد بازی کے بجائے حکمت کو ہتھیار بنائے یہی وہ راستہ ہے جو قبضہ سوچ کے طلسم کو توڑتا ہے اور آزادی کو جذبات نہیں ادارے عطا کرتا ہے۔
ہمیں دشمن تراشی نہیں حق شناسی کرنی ہے ہمیں نعرے کم اور سوال زیادہ اٹھانے ہیں۔ فیصلے کون کر رہا ہے اور قیمت کون ادا کر رہا ہے وسائل کدھر جا رہے ہیں اور خواب کس کے بک رہے ہیں؟ آزادی کا بیانیہ کون لکھ رہا ہے اور عوام کہاں کھڑے ہیں؟
8 فروری کو نکلنا محض کیلنڈر پر نشان لگانا نہیں یہ اپنے بچوں کے نام خط لکھنے جیسا عمل ہے کہ ہم نے خاموشی کو قسمت نہیں مانا یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر یہی وہ واحد راستہ ہے جس کے آخر میں آزادی صرف لفظ نہیں رہتی رویہ بن جاتی ہے مفاہمت تب تک معتبر ہے جب تک وہ عزتِ نفس کے ساتھ ہو ورنہ وقت آ جاتا ہے کہ قومیں خاموشی اتار کر شعور پہن لیں اور پُرامن آئینی اجتماعی مزاحمت کے ذریعے اپنے مستقبل کا رخ خود متعین کریں یہی اصل سبق ہے یہی حقیقی آزادی کی ابتدا ہے۔
اگر کوئی ابھی سمجھتا ہے یہ قبضہ گروپ مافیا ملک اور قوم کے لئے کچھ اچھا کریگا تو یہ اسکی بھول ہے اب اس مافیا قبضہ گروپ کے منہ کو لہو لگ چکا ہے اب یہ جب تک ہیں ملک کو دیمک کیطرح چاٹیں گے تباہی پھریں گے اور اپنا ٹینور پورا کرکے کوئی لندن جائے گا کوئی بلیجم جائے گا کوئی کینڈا اور عوام منہ دیکھتی رہ جائے گی۔ ماضی کی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں مگر ہم نے ان مثالوں سے سبق نہیں سیکھا تماشہ دیکھتے رہے یہ تماشہ آخر کب تک ہم نے اپنی زندگی غلامی میں گزاری کیا اپنی نسلوں کو یہ غلامی کا طوق تحفہ دیکر جائیں گے یا حقیقی آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے وقت بہت کم ہے اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے تو پھر ہم کیوں کسی کی غلامی میں اپنی زندگی تباہ کریں تھوڑا نہیں پورا سوچئے۔۔
اب وقت مفاہمت سے نکل کر مزاحمت کی طرف آجکا ہے تو بہتر حکمت عملی سے متحد ہو کر حقیقی آزادی کے لئے نکلیں اور ان قبضہ گروپ سے جان چھڑائیں۔
پاکستان زندہ باد

