Chaye Ke Khokhay Par Aik Siasi Mukalma
چائے کے کھوکھے پر ایک سیاسی مکالمہ

گلگت کی ایک تنگ گلی میں واقع چائے کے کھوکھے پر شام اتر رہی تھی دھوئیں میں لپٹی کیتلی اخبار کے بکھرے ہوئے اوراق اور دیوار پر مسکراتے سیاستدانوں کے پوسٹر جن کی مسکراہٹ میں ہمیشہ کی طرح یقین کم اور مکاری زیادہ تھی۔
احمد، جوش اور غصے کا امتزاج کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے بولا بابا جی! پھر وہی ڈرامہ شروع ہوگیا ہے الیکشن قریب آئے نہیں کہ نو سرباز جاگ اٹھے ہیں کوئی نوکریوں کی بارش کا وعدہ کر رہا ہے کوئی سڑکوں کا جال بچھانے کا خواب دکھا رہا ہے کوئی ٹھیکے بانٹنے کی بات کر رہا ہے وفاق سے آئے ایک مگرمچھ نے تو حد ہی کر دی کہتا ہے بجلی کا مسئلہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لگتا ہے سب مگرمچھ شکار کے موڈ میں ہیں۔
بابا جی نے اخبار تہہ کیا چائے کی چسکی لی اور مسکرا کر بولے بیٹا احمد! یہ گلگت بلتستان ہے یہاں سیاست موسموں کے ساتھ بدلتی ہے الیکشن کا موسم آتے ہی وعدے اگنے لگتے ہیں ووٹ تک باتیں شیریں اقتدار کے بعد لہجے کھردرے عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ یادداشت کمزور ہے پچھلے پانچ سال بھول کر اگلے پانچ منٹ کے وعدوں پر یقین کر لیتی ہے۔
احمد جھنجھلا گیا لیکن بابا جی یہ بار بار کیوں؟ یہ لوگ اتنے ماہر کیسے ہو گئے ہیں کہ جال بھی ایسا بناتے ہیں اور شکار خوشی خوشی اندر چلا جاتا ہے؟
بابا جی نے گہری سانس لی جیسے برسوں کا بوجھ سانس کے ساتھ باہر آ رہا ہواس لیے کہ یہ دو نمبر محبِ وطن ہیں زبان پر وطن دل میں دکان مفاد پرستی انہوں نے حب الوطنی کو کاروبار بنا لیا ہے اور سب سے خطرناک کھیل اب شناخت کا ہے سنا ہے دس ہزار کے قریب غیر مقامیوں پٹھانوں یا سرحد پار سے آئے لوگوں کو گلگت کے ڈومیسائل دے دیے گئے اب بتاؤ جب شناخت بکے گی تو نوکری زمین وسائل کیسے بچیں گے؟
احمد کی مٹھی بھنچ گئی یہ تو کھلا ظلم ہے بابا جی! مقامی لوگ پہاڑوں میں محنت کریں اپنی پہچان بچائیں اور یہ جعلی کاغذوں کے سہارے سب کچھ ہڑپ کر جائیں جعلی ڈومیسائل جعلی محبت سب ووٹ بینک کا کھیل!
بابا جی نے آہستگی سے سر ہلایا بالکل حکمت عملی وہی پرانی ہے وعدے کرو شکار پکڑو پھر کاٹ ڈالو نہ نوکری ملی نہ ترقی آئی دریا بہتا ہے مگر پینے کو پانی نہیں پہاڑ کھڑے ہیں مگر بجلی ندارد ظلم بڑھتا رہتا ہے اور عوام پانچ سال بعد پھر وہی غلطی دہرا دیتی ہے۔
احمد کی آنکھوں میں نمی اتر آئی بابا جی کب تک؟ کب جاگیں گے لوگ کب یہ جھوٹے وعدوں سے نکل کر حقیقت دیکھیں گے؟
بابا جی کی آواز نرم ہوگئی مگر لہجہ سخت تھا جب درد حد سے بڑھے گا لیکن امید یہی ہے کہ تم جیسے لوگ سوال پوچھتے رہیں لکھو، بولو بے چین رہو شاید کسی دن یہ جال پھٹ جائے۔
احمد نے سر اٹھایا ان شاء اللہ بابا جی اب خاموشی نہیں یہ درد سب کو سنانا ہے۔
دونوں خاموشی سے چائے پیتے رہے باہر ہوا میں لہراتے سیاسی پوسٹر ایسے لگ رہے تھے جیسے عوام کو چھیڑ رہے ہوں جھوٹے منشور کھوکھلے نعروں کے ساتھ۔
بابا جی نے آخرکار قوم کے نام بات کی جیسے چائے کے کھوکھے سے تاریخ مخاطب ہوئے اے گلگت بلتستان کے صابر اور غیرت مند لوگو! اب بس کرو یہ بھولنے کی عادت تمہاری کمزوری بن چکی ہے جعلی ڈومیسائل کے ذریعے تمہاری شناخت چرائی جا رہی ہے نوکریاں باہر والوں میں بانٹی جا رہی ہیں اور تم پھر بھی انہی چہروں کو ووٹ دیتے ہو جاگو! ہر وعدے پر سوال کرو ہر امیدوار کا ماضی دیکھو فہرستیں مانگو ثبوت طلب کرو ووٹ تمہاری طاقت ہے اسے رحم اور جذبات میں ضائع مت کرو اگر آج نہ جاگے تو کل شکایت کا حق بھی کھو دو گے یہ خطہ تمہارا ہے اس کی حفاظت بھی تمہاری ذمہ داری ہے۔
چائے ختم ہو چکی تھی مگر سوال ابھی زندہ تھے۔

