Wednesday, 04 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Sahafion Aur Media Workers Ke Tahafuz Ka Tarmeemi Bill

Sahafion Aur Media Workers Ke Tahafuz Ka Tarmeemi Bill

صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ترمیمی بل

سینیٹ کا تاریخی قدم یا کاغذی وعدہ؟ پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل، خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا پیشہ رہا ہے۔ سچ بولنے کی قیمت اکثر گولی، اغوا، مقدمات، معاشی دباؤ اور سماجی تنہائی کی صورت میں وصول کی جاتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں اگر سینیٹ سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کا ترمیمی بل منظور ہوا ہے تو بظاہر یہ ایک خوش آئند، جرات مندانہ اور تاریخی پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ قانون واقعی صحافیوں کے لیے ڈھال بنے گا یا ماضی کے کئی قوانین کی طرح فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا؟

اس ترمیمی بل کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اظہارِ رائے سے مراد معلومات کو نشر اور شائع کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ شق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 کی روح سے ہم آہنگ ہے، جو آزادیٔ اظہار کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہی آزادیٔ اظہار سب سے زیادہ پامال کی جاتی رہی ہے، خصوصاً صحافیوں کے معاملے میں۔

بل کے تحت صحافیوں کے تحفظ کے لیے ایک خودمختار کمیشن کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس کا چیئرمین ہائی کورٹ کا جج یا جج بننے کی اہلیت رکھنے والا شخص ہوگا۔ شرط یہ رکھی گئی ہے کہ چیئرمین کے پاس کم از کم پندرہ سال کا قانونی تجربہ ہو، خصوصاً انسانی حقوق اور صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے۔ یہ شرط بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے کیونکہ ماضی میں اکثر ایسے ادارے بنائے گئے جن کی سربراہی ایسے افراد کے سپرد رہی جن کا نہ صحافت سے تعلق تھا اور نہ ہی انسانی حقوق سے کوئی عملی وابستگی۔

کمیشن کے چیئرمین اور ارکان کا تقرر وفاقی حکومت کرے گی، جبکہ ان کی مدت تین سال ہوگی اور اس میں کسی قسم کی توسیع نہیں ہو سکے گی۔ ایک طرف یہ شق ادارے کو مستقل مفادات سے بچانے کی کوشش ہے، مگر دوسری طرف تقرری کا مکمل اختیار حکومت کے پاس ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ کیا واقعی ایسے افراد منتخب کیے جائیں گے جو طاقت کے سامنے ڈٹ سکیں، یا پھر وہی "من پسند" چہرے سامنے آئیں گے؟

بل کے مطابق کمیشن صرف صحافی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھی، بیوی، زیرِ کفالت افراد اور قریبی رشتہ داروں کے تحفظ کا بھی ذمہ دار ہوگا۔ یہ شق اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ پاکستان میں صحافی کو خاموش کرانے کے لیے اس کے گھر، بچوں اور خاندان کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ کئی صحافیوں نے صرف اس لیے قلم روک لیا کہ انہیں اپنے بچوں کی جان کا خوف لاحق تھا۔

مزید برآں، کمیشن کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ صحافی کی پراپرٹی، اشیاء، گروپ، تنظیم اور حتیٰ کہ سماجی تحریک کا بھی تحفظ کرے گا۔ یہ شق اس لیے اہم ہے کہ اب دباؤ صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں رہا، بلکہ دفاتر سیل کرنا، چینلز بند کرنا، اخبارات پر پابندیاں لگانا اور مالی نقصان پہنچانا بھی معمول بن چکا ہے۔

بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران کسی بھی شخص کو صحافی کے خلاف پرتشدد رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ خلاف ورزی کی صورت میں سات سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ سزا پاکستان کے موجودہ قانونی ڈھانچے کے لحاظ سے خاصی سخت ہے، مگر اصل امتحان اس کے نفاذ کا ہوگا۔

ایک اور نہایت اہم شق یہ ہے کہ صحافی پر اس کے معلوماتی ذرائع ظاہر کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جا سکے گا۔ ایسا کرنے والے کو تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی۔ دنیا بھر میں صحافت کا بنیادی اصول یہی ہے کہ خبر کا ذریعہ محفوظ رہے، مگر پاکستان میں یہ اصول سب سے زیادہ پامال ہوا ہے۔

بل اس بات کی بھی ضمانت دیتا ہے کہ صحافی کسی شخص، گروہ، محکمے یا تنظیم کے دباؤ کے بغیر آزادانہ کام کرے گا۔ اس شق کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا طاقتور اداروں اور مفاداتی گروہوں کے خلاف بھی یہ شق اسی قوت سے لاگو ہو سکے گی؟

قانونی عمل کے حوالے سے بل میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کی شکایت پر تھانے کا ایس ایچ او ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہوگا، جبکہ تفتیشی افسر کو مکمل فوجداری اختیارات حاصل ہوں گے۔ مزید یہ کہ کمیشن شکایت کنندہ کی شناخت خفیہ رکھنے کی ہدایت بھی دے سکے گا، جو کہ صحافیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے کیسز کے لیے خصوصی سیشن کورٹس کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو وفاقی حکومت اسلام آباد اور صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد قائم کرے گی۔ یہ شق اس لیے اہم ہے کہ عام عدالتوں میں مقدمات برسوں لٹکے رہتے ہیں۔

تاہم بل کی ایک متنازع شق یہ بھی ہے کہ کمیشن کو خفیہ ایجنسیوں کے عمل اور پریکٹس کی تحقیقات کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ اگر کسی شکایت میں ایجنسی پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہو تو وہ شکایت متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دی جائے گی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس پورے قانون کی افادیت پر سوال کھڑا کرتا ہے، کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کے خلاف سب سے سنگین الزامات عموماً انہی طاقتور حلقوں کی طرف اٹھتے رہے ہیں۔

آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ کمیشن کا ہر رکن اور اسٹاف حکومت اور انتظامیہ سے آزاد ہوگا۔ یہ جملہ کاغذ پر تو بہت خوبصورت ہے، مگر عملی دنیا میں اس آزادی کی ضمانت کیسے دی جائے گی، اس پر خاموشی ہے۔

مختصراً، سینیٹ سے منظور ہونے والا یہ ترمیمی بل بلاشبہ ایک امید کی کرن ہے، مگر صرف امید کافی نہیں۔ صحافیوں کو تحفظ قانون سے نہیں، اس قانون کے بے لاگ، غیر جانبدار اور جرات مندانہ نفاذ سے ملے گا۔ اگر اس بل کو بھی محض دنیا کو دکھانے کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ صحافت کے زخموں پر مرہم نہیں بلکہ ایک نیا طنز بن جائے گا۔

صحافت ریاست کی دشمن نہیں، ریاست کا ضمیر ہوتی ہے۔ اگر ضمیر کو ہی خوف میں مبتلا کر دیا جائے تو سچ دفن ہو جاتا ہے اور سچ کے دفن ہونے سے صرف اندھیرے جنم لیتے ہیں۔

Check Also

Moscow Se Makka (22)

By Mojahid Mirza