Danish e Asr Aur Hamare Takhleeqi Rawaiye
دانشِ عصر اور ہمارے تخلیقی رویے

ادب کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا سب سے معتبر آئینہ ہوتا ہے، جبکہ ادبی ادارے اس آئینے کو صیقل کرنے اور نئی نسل کو علم و فکر کی روشنی سے منور کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان وطنِ عزیز کا ایک ممتاز قومی ادارہ ہے، جو برسوں سے اردو سمیت پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کے ادب کے فروغ، اہلِ قلم کی سرپرستی، علمی مکالمے کے احیا اور تخلیقی شعور کی آبیاری کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق اکادمی نے آن لائن علمی و ادبی پروگراموں کا سلسلہ شروع کرکے علم و ادب کے متلاشی افراد تک اپنی رسائی کو مزید مؤثر بنایا ہے، جو لائقِ تحسین اقدام ہے۔
اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کی علمی بصیرت، مدبرانہ قیادت اور ادب دوست فکرکے باعث ادارہ نئی توانائی اور وسعت کے ساتھ اپنے مقاصد کی جانب گامزن ہے۔ ان کی نگرانی میں منعقد ہونے والے علمی و ادبی پروگرام نہ صرف معیاری ہوتے ہیں بلکہ اہلِ علم، محققین، ادبا، شعرا اور نوجوان تخلیق کاروں کے درمیان ایک صحت مند فکری مکالمے کی فضا بھی قائم کرتے ہیں۔ انہی قابلِ قدر کوششوں کا تسلسل "چھٹے توسیعی خطبے" کی صورت میں سامنے آیا، جس کا موضوع "دانشِ عصر اور ہمارے تخلیقی رویے" تھا۔ یہ پروگرام اپنے موضوع، مقررین، علمی معیار اور فکری گہرائی کے اعتبار سے ایک یادگار علمی نشست ثابت ہوا، جس نے سامعین کو عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ایسے بامقصد اور معیاری پروگراموں کا انعقاد یقیناً اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان کی اس روشن روایت کا تسلسل ہے، جس کا مقصد علم، تحقیق، تنقیدی شعور اور تخلیقی رویوں کو فروغ دینا ہے۔
اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان ہمیشہ سے ادب، فکر اور تہذیبی شعور کے فروغ میں ایک مؤثر قومی ادارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ادارہ صرف کتابوں کی اشاعت یا ادبی تقریبات تک محدود نہیں بلکہ ایسے علمی و فکری مباحث کا بھی اہتمام کرتا ہے جو اہلِ قلم اور نئی نسل کے اذہان کو جِلا بخشتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی آن لائن منعقد ہونے والا چھٹا توسیعی خطبہ تھا، جس کا موضوع "دانشِ عصر اور ہمارے تخلیقی رویے" تھا۔ اس خطبے میں معروف محقق، نقاد اور دانشور ڈاکٹر امجد طفیل نے اپنے عمیق مطالعے اور منفرد اندازِ استدلال کے ساتھ اس اہم موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ پروگرام کی صدارت ممتاز ادیب پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی نے کی اور نہایت شائستہ انداز میں شاعرہ فرح رضوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
مجھے پاکستان ادبیات اکیڈمی کی علمی نشست میں شرکت کی خصوصی دعوت ڈاکٹر امجد طفیل صاحب کی جانب سے ملی، جسے میں اپنے لیے باعثِ سعادت اور اعزاز سمجھتا ہوں۔ میں دل کی گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس قابلِ قدر علمی مکالمے کا حصہ بننے کا موقع فراہم کیا۔ ایسے اہلِ علم کی حوصلہ افزائی یقیناً اس بات کی علامت ہے کہ وہ علمی روایت کو وسعت دینے اور نئے اذہان کو مکالمے میں شریک کرنے کے خواہاں ہیں۔
خطبے کا آغاز ہی اس انداز سے ہوا کہ سامعین ابتدا سے آخر تک متوجہ رہے۔ ڈاکٹر امجد طفیل نے موجودہ دور کی فکری پیچیدگیوں، تہذیبی تبدیلیوں اور ادبی رجحانات کو نہایت سادہ مگر مدلل انداز میں بیان کیا۔ ان کی گفتگو محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ سوچ کے نئے دریچے وا کرنے والی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تخلیق کار کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی آزاد فکر اور تنقیدی بصیرت ہوتی ہے۔ اگر کوئی معاشرہ صرف تقلید کو اپنا شعار بنا لے تو وہاں تخلیقی صلاحیتیں بتدریج ماند پڑ جاتی ہیں۔
ڈاکٹر امجد طفیل نے مغرب کے حوالے سے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی مفکرین اور ادیب اپنی جگہ اہم ہیں، ان کی علمی خدمات سے انکار ممکن نہیں، لیکن انہیں حرفِ آخر سمجھ لینا درست رویہ نہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مغرب میں بھی ہر نظریہ قابلِ تنقید سمجھا جاتا ہے، وہاں خود اپنے مفکرین پر علمی اعتراضات کیے جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ ہم مغربی فکر کو بلا تحقیق قبول کر لیتے ہیں جبکہ اپنے اہلِ علم اور اپنی فکری روایت کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی رویہ فکری جمود کو جنم دیتا ہے۔
خطبے کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے تخلیق کار کو اس کی تہذیبی شناخت سے جوڑا۔ ان کے مطابق ادب کسی خلا میں جنم نہیں لیتا بلکہ اپنی تہذیب، تاریخ، زبان اور روحانی اقدار سے وابستہ ہو کر ہی پائیدار بنتا ہے۔ اگر تخلیق کار اپنی جڑوں سے کٹ جائے تو اس کی تخلیق میں نہ گہرائی باقی رہتی ہے اور نہ ہی وہ اپنے معاشرے کی حقیقی نمائندگی کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تہذیب نے علم، تحقیق، انصاف اور انسانی وقار کو ہمیشہ بنیادی اہمیت دی ہے، اس لیے ہماری تخلیقی سوچ کو بھی انہی اصولوں سے روشنی حاصل کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر امجد طفیل نے اسلام اور سائنس کے درمیان مصنوعی تضاد کے تصور کو بھی نہایت مدلل انداز میں رد کیا۔ انہوں نے تاریخی شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمانوں نے سائنس، طب، فلکیات، ریاضی اور فلسفے کے میدان میں وہ خدمات انجام دیں جنہوں نے بعد کی دنیا کو نئی سمت عطا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر مذاہب اور جدید سائنس کے امتزاج کو تسلیم کیا جا سکتا ہے تو اسلام، جو بار بار علم، تدبر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ سائنس سے ہم آہنگ نہیں، تاریخی اور فکری لحاظ سے درست نہیں۔
خطبے میں لبرلزم، سیکولرزم اور عصرِ حاضر کے مختلف فکری رجحانات پر بھی متوازن گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی نظریے کو جذباتی انداز میں رد یا قبول کرنے کے بجائے اس کے تاریخی پس منظر، فکری بنیاد اور عملی اثرات کا جائزہ پیش کیا۔ یہی انداز علمی دیانت کی علامت ہے، کیونکہ دانش کا مقصد تعصب نہیں بلکہ حقیقت کی تلاش ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ کے حوالے سے ڈاکٹر امجد طفیل کی گفتگو خصوصی توجہ کی مستحق تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اقبال محض شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر تھے، جنہوں نے مسلمانوں کو خودی، خود اعتمادی اور فکری آزادی کا درس دیا۔ خصوصاً "ضربِ کلیم" کو انہوں نے عصرِ حاضر کے فکری بحرانوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اقبال کی شاعری آج بھی اسی طرح زندہ اور مؤثر ہے کیونکہ اس کا تعلق انسان کی داخلی بیداری اور فکری آزادی سے ہے۔
اس علمی نشست کی کامیابی میں میزبان ڈاکٹر نجیبہ عارف کا کردار بھی قابلِ تحسین رہا۔ انہوں نے نہایت وقار، متانت اور خوش اسلوبی کے ساتھ پروگرام کو آگے بڑھایا۔ ان کی گفتگو میں علمی شائستگی اور مہذب انداز نمایاں تھا، جس نے نشست کے حسن میں اضافہ کیا۔
پروگرام کے صدر ذی وقار پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی نے بھی اپنے صدارتی کلمات میں علمی مباحث کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس امر پر زور دیا کہ ایسے مکالمے علمی معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے خیالات نے خطبے کے مرکزی نکات کو مزید تقویت بخشی۔
اس آن لائن نشست میں ملک بھر سے اہلِ قلم، اساتذہ، طلبہ، محققین اور ادب سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی سنجیدہ علمی مباحث سننے اور سمجھنے والے لوگوں کی کمی نہیں۔ ڈیجیٹل ذرائع نے علم کی رسائی کو آسان بنایا ہے اور اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان نے اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔
بطور ایک طفل مکتب، صحافی اور ادبی کارکن، میں نے اس خطبے سے یہ سبق حاصل کیا کہ تخلیق صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ ایک فکری ذمہ داری بھی ہے۔ قلم کی اصل طاقت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ اندھی تقلید کے بجائے تنقیدی شعور، تہذیبی اعتماد اور اخلاقی بصیرت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ ایک ادیب کی ذمہ داری صرف معاشرے کی تصویر کشی کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر سمت کی طرف رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا کی رفتار نے گہرے مطالعے کی روایت کو متاثر کیا ہے، ایسے علمی خطبات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ پروگرام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی دانش صرف معلومات کے انبار کا نام نہیں بلکہ صحیح اور غلط میں امتیاز پیدا کرنے والی بصیرت کا نام ہے۔
آخر میں، میں ایک بار پھر ڈاکٹر امجد طفیل کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس علمی نشست میں شرکت کی دعوت دے کر مجھے اس فکری سفر کا حصہ بنایا۔ ساتھ ہی ڈاکٹر نجیبہ عارف، پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی اور اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان کو اس شاندار اور معیاری پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ محترمہ فرح رضوی صاحبہ نے اس آن لائن پروگرام کی نظامت کے جو فرائض بااحسن انجام دئے، اسکے لئے ان کو خراج تحسین پیش کرنا بھی ضروری ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان اسی معیار کے علمی و ادبی پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھے گی تو نہ صرف ہمارے اہلِ قلم کی فکری آبیاری ہوگی بلکہ نئی نسل میں مطالعے، تحقیق، تنقیدی شعور اور تخلیقی فکر کی مضبوط بنیادیں بھی استوار ہوں گی۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کے روشن فکری مستقبل کی ضمانت بنتا ہے۔

