Thursday, 01 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Wazir e Aala Ka Halqa Aur Intizami Badhali

Wazir e Aala Ka Halqa Aur Intizami Badhali

وزیر اعلیٰ کا حلقہ اور انتظامی بدحالی

وزیر اعلیٰ پنجاب صوبے میں کئی انقلابی منصوبوں کا آغاز کر چکی ہیں اور آئے دن کوئی نیا محکمہ یا کوئی نیا پروگرام دیکھنے کو ملتا ہے لیکن جس ٹیم کے ساتھ وزیر اعلیٰ اتنا سب کچھ کرنا چاہتی ہے وہ یا تو کاہل اور نااہل ہے اور یا پھر وہ اس رفتار کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے جس کا منصوبہ وزیر اعلیٰ نے بنا رکھا ہے۔

میں خود وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابی حلقہ میں رہائش پذیر ہوں اور اگر میں پنجاب کے اندر صرف اس ایک حلقہ کو مثال بنا کر پیش کروں تو یقین جانئیے کہ انتظامی طور پر مایوسی ہی نظر آتی ہے جہاں جرائم کی شرح میں کمی تو ضرور آئی ہے لیکن جو وزیر اعلیٰ کا خواب ہے وہ پورا نہیں ہو رہا ہے آج بھی لوگ غیر قانونی تعمیرات کرتے ہوئے یا پبلک مقامات پر قبضہ کرتے ہوئے ذرا نہیں ڈرتے ہیں اور اس کے پیچھے واحد وجہ اس علاقہ کے انتظامی افسران کی نااہلی ہے۔

آج سے کوئی ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ سوسائٹی کے کچھ لوگوں نے اسسٹنٹ کمشنر نشتر ٹاؤن سے ملاقات کی اور رہائشی آبادی میں بھاری ڈمپروں، ٹرکوں اور بڑے ٹرالروں کی بھرمار کے خلاف شکایت درج کروائی جو آئے روز حادثات کی وجہ بنتے ہیں جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے تحریری درخواست طلب کی اور بڑے اعتماد کے ساتھ مسئلہ کا حل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خود اگلے دن علاقے کا دورہ کریں گے لیکن اگلے دن اسسٹنٹ کمشنر نے نہ تو رابطہ کیا اور نہ ہی علاقے کا دورہ کیا اور موبائل پر رابطہ کرنے پر ان صاحب نے اگلے دن دوبارہ اپنے دورے کی نوید سنائی اور اس طرح کئی وعدوں کے باوجود انھوں نے معاملہ کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہاں تک کہ درخواست دہندہ کے فون سننا اور ان کے موبائل میسیج کا جواب دینا بھی بند کردیا اور آج ایک ماہ سے زیادہ کا وقت گزر گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کو نہ وقت ملا اور نہ ہی انھوں نے معاملہ کو حل کیا اور اگر کل کلاں کو کوئی بڑا حادثہ رونما ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس سارے معاملہ کی ذمہ داری ان اسسٹنٹ کمشنر صاحب پر ہی آنی چاہئیے یا پھر اس کی ذمہ دار وہ حکام ہیں جو ایسے افسران کے ساتھ لاہور شہر کو پیرس بنانے کے خواب دیکھتے ہیں اور آئے روز لوگوں کے ٹھیلے اٹھواکر حکومت کی عوامی پاپولیرٹی کو داؤ پر لگاتے ہیں لیکن اپنے کرنے کے کام نہیں کرتے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کئی بار حکم دے چکی ہیں کہ ہیوی ڈمپروں کو شہری آبادیوں میں داخل ہونے سے روکا جائے جبکہ یہاں حالت یہ ہے کہ نشان دہی اور تحریری درخواست کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر کوئی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے اور اندرون خانہ ان ڈمپروں کی سہولت کاری کررہا ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر اس سوسائٹی کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی گیٹ لگانے کی کوشش کی تو یہی اسسٹنٹ کمشنر اور پولیس مل کر ان شہریوں کو تنگ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

وزیر اعلیٰ سے کہنا یہ ہے کہ آپ کے انتظامی ماڈل کا سب سے اہم جزو اگر اسسٹنٹ کمشنر ہی آپ کے احکامات کو اہمیت نہیں دیتا ہے تو پھر آپ کو اپنے حلقہ کی فکر کرنی چاہئیے صوبہ تو بعد کی بات ہے۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھ چکا ہوں کہ گجومتہ سے فیروز پور روڈ پر تقریباً دو کلومیٹر سڑک سیوریج کی وجہ سے پچھلے ایک سال سے بند ہے اور اس کی مرمت کی کسی کو ذرا فکر نہیں ہے جس کی وجہ سے روزانہ صبح اور شام کے اوقات میں میلوں ٹریفک جام رہتی ہے اور ٹریفک کا دھواں، سڑک کی دھول مل کر سموگ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علاؤہ شاداب کالونی اور شاداب روڈ پر غیر قانونی دکانوں کی بھرمار ہے جو سڑک پر تجاوزات کھڑی کر چکی ہیں اور اس وقت بھی کئی رہائشی پلاٹس پر دکانیں بن رہی ہیں جن کے خلاف پیرا فورس نشتر ٹاؤن کو درخواست دی گئی ہے اور ساتھ ہی ایل ڈی اے کی لیڈی ڈائریکٹر سے ملاقات کرکے رہائشیوں نے شکایت درج کروائی ہے جس کے لئے خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر نے علاقے کا دورہ بھی کیا ہے لیکن کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ دکانوں کی تعمیر میں مزید تیزی آگئی ہے اور جب یہ غیر قانونی دکانیں بن جائیں گی تو پھر ان ہی ایل ڈی اے افسران کی منتھلی کا ذریعہ بنیں گی اس لئے ان تجاوزات کو شکایت کے باوجود نہیں روکا جائے گا اور وزیر اعلیٰ اسی طرح جلسوں میں کھڑے ہوکر ان کرپٹ افسران کی تعریف کرتی رہیں گی لیکن حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گی۔

وزیر اعلیٰ کے مختصر سے حلقہ میں بجلی چوری کی بڑی کاروائیاں آج بھی ہو رہی ہیں اور ڈائریکٹ کنڈے دور سے صاف دیکھے جا سکتے ہیں لیکن یہ کنڈے صرف واپڈا اور حکمرانوں کو دکھائی نہیں دیتے ہیں اور تاروں کے لٹکتے الجھتے گچھے وہ حادثہ برپا کرسکتے ہیں جو شاید ہیلمیٹ نہ پہننے سے بھی نہ ہو۔

اس وقت بھی زرعی زمینوں پر انویسٹر حضرات درجنوں گھر بنا رہے ہیں جن کے ساتھ ایل ڈی اے اور کارپوریشن کا عملہ تعاون کرتا ہے اور پھر نان الیکرٹیفائیڈ ایریا میں کئی میٹر دور سے تاریں لگا کر حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن کا عملہ بجلی فراہم کرتا ہے اور پھر معصوم شہریوں کو لاکھوں کا گھر کروڑوں میں بیچا جاتا ہے جس سے چند لوگ ارب پتی ہو گئے اور عام شہری اور حکومت کے لئے مسائل کے انبار لگ گئے کیونکہ ان آبادیوں میں نہ سکول ہے، نہ پارک ہے اور نہ ہی سیوریج اور قبرستان کی سہولت موجود ہے جس کی وجہ سے محروم افراد کو یہی انویسٹرز حکمرانوں کے خلاف سہولیات فراہم نہ کرنے پر ابھارتے ہیں اور اس طرح انویسٹرز مافیا اور سرکاری مشینری کے گٹھ جوڑ سے ہی ساری خرافات جنم لیتی ہیں اور ایسے حالات میں اگر کوئی شہری مافیا کے خلاف شکایت کرتا ہے تو ناصرف مافیا بلکہ سرکاری افسران بھی اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے کیونکہ یہ شکایت کنندہ ان افسران کے آرام میں ناصرف خلل ڈالتے ہیں بلکہ ان کی دیہاڑیاں بھی مارتے ہیں۔

آج بھی اس حلقہ میں منشیات کا کام چلتا ہے اور پولیس کے ڈالے گھنٹوں مخصوص افراد کے ڈیروں کے باہر کھڑے نظر آتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری بد انتظامیاں اور قانون شکنیاں اصل میں سرکاری مشینری اور انتظامی افسران کی وجہ سے ہے۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کو اپنے حلقہ سے کاروائی شروع کرتے ہوئے اپنی انتظامی مشینری کو ٹھیک کرنا ہوگا جن کی وجہ سے اس وقت وزیر اعلیٰ کا اپنا حلقہ بدترین صورتحال میں پھنسا ہوا ہے۔

Check Also

Imam e Muhammad Taqi Al Jawad

By Safdar Hussain Jafri