Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Lailaj Sarkari Hospital

Lailaj Sarkari Hospital

لاعلاج سرکاری ہسپتال

چند دن ہوئے کہ مجھے ایک جاننے والے نے رابطہ کیا اس کا موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ کے دوران ایک پسلی پر فریکچر آیا تھا اور وہ جنرل ہسپتال آؤٹ ڈور میں مشورہ کے لئے گیا تو اسے پیراسٹامول اور وٹامن ڈی کا کیپسول دیا گیا تھا۔ وہ شخص کافی تکلیف میں تھا اور اس نے بتایا کہ رات بھر درد کی وجہ سے وہ سو نہیں سکا تھا اور اس نے مجھے کہا کہ ڈاکٹر سے بات کرکے کوئی اچھی دوا لکھوادیں۔ جب ہسپتال کے آؤٹ ڈور میں ڈاکٹر سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ ہسپتال کے اندر سے تو صرف پیراسٹامول کی گولیاں ہی دستیاب ہیں اور ہم اس کے علاؤہ کوئی دوا نہیں لکھ سکتے ہیں۔

جب مریض نے ڈاکٹر سے کہا کہ جناب آپ مجھے کوئی اچھی دوائی لکھ دیں کیونکہ وہ سخت تکلیف میں تھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے کہ باہر کی دوا لکھ کر دیں کیونکہ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے ہدایات ہیں کہ مریض ٹھیک ہو نہ ہو لیکن دوا وہی دینی ہے جو ہسپتال کے اندر ملتی ہے اس لئے اگر تو آپ مناسب علاج کروانا چاہتے ہیں تو کسی پرائیویٹ ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور یا پھر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے مل لیں وہی آپ کو کوئی درست راستہ بتا سکتا ہے جس پر وہ صاحب میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے ملنے کے لئے ان کے آفس گئے تو بڑے قد کاٹھ والے سکیورٹی گارڈ نے اسے روک دیا اور کہا کہ صاحب آفس میں موجود نہیں ہیں چنانچہ آپ بچہ وارڈ میں جا کر ان سے ملاقات کر سکتے ہیں کیونکہ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کے پاس دہرا عہدہ ہے اور وہ ایم ایس کے ساتھ ساتھ بچہ وارڈ کا پروفیسر بھی ہے۔

اب وہ بیمار شخص گھنٹہ بھر میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو ڈھونڈتا رہا لیکن ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور آخر میں مجبوراً وہاں سے واپس چلا گیا اور پھر شام میں کسی آرتھو پیڈک ڈاکٹر کے پاس گیا اور پرائیویٹ فیس دے کر اپنا علاج شروع کروایا۔ اس حوالے سے جب آؤٹ ڈور میں مختلف ڈاکٹروں سے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم مجبور ہیں کہ سب جانتے ہوئے بھی ہم مریض کو میرٹ پر دوا نہیں دے سکتے ہیں اور یہ کوئی ایک مریض کی بات نہیں ہے بلکہ ہر مریض اسی طرح آکر ہم سے لڑتا ہے۔

اسی طرح کے معاملات تقریباً سبھی ہسپتالوں میں درپیش ہیں۔ اس کے علاؤہ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں جہاں دو دو ہڈی و جوڑ کے شعبے ہیں لیکن ان ہسپتالوں کے پاس گھٹنوں کی تبدیلی اور کولہے کی تبدیلی کے امپلانٹ موجود نہیں ہیں اور آرتھو پیڈک وارڈ میں ہونے والے یہ بڑے آپریشن ہیں جو کثرت سے ٹرشری کئیر ہسپتالوں میں ہوتے ہیں اور اگر اس طرح کے آپریشنز کو نکال دیا جائے تو پھر ان ہسپتالوں میں آرتھو پیڈک کے شعبہ جات عملاً مفلوج ہی سمجھے جا سکتے ہیں اور کسی سرکاری ہسپتال اور ہڈی و جوڑ کے پہلوانوں میں کوئی خاص فرق نہیں رہتا ہے۔

اب جب ہسپتالوں میں اس طرح کے گھٹنے اور کولہے کی تبدیلی کے مریض آتے ہیں تو انھیں کوئی نہیں پوچھتا ہے اور اگر تو کوئی ڈاکٹر بازار سے امپلانٹ منگوا کر مریض کا آپریشن کر دے تو اس کو اپنی جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے جبکہ ہسپتالوں کی انتظامیہ صاف الفاظ میں ہڈی و جوڑ کے سربراہان کو کہتی ہے کہ آپریشن ہوں نہ ہوں اور مریض علاج کے بغیر بھلے مر جائیں لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کو خوش کرنے کے لئے بازار سے کچھ نہیں منگوانا ہے جس کے بعد سرکاری ٹرشری کئیر ہسپتالوں کی حالت بھی تحصیل کی سطح کے ہسپتالوں جیسی ہوگئی ہے اور دوسری طرف پرائیویٹ ہسپتالوں اور پرائیویٹ آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں کی موجیں لگ گئی ہیں اور لگتا یہی ہے کہ بیوروکریسی، سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ اور پرائیویٹ ہسپتالوں کے مالکان ایک پیج پر ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں کو عملاً غیر فعال کیا جائے اور پھر ان کی نجکاری کی جاسکے۔

اسی طرح کی حالت دیگر سرجری کے شعبہ جات کی ہے جیسا کہ گردہ و مثانہ کے ایک سینئر پروفیسر نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں یورولوجی کی کئی اہم سرجریوں میں استعمال ہونے والے ڈی جے ہی دستیاب نہیں ہیں اور یہ ڈی جے گردے کے کئی آپریشنوں کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں جن کی عدم دستیابی کی وجہ سے یو آر ایس سمیت پائلوپلاسٹی جیسے اہم آپریشنز میں گردوں کو ناکارہ ہونے سے بچاتے ہیں اور اس ڈی جے کی عدم دستیابی سے زیادہ تر آپریشن آخری وقت میں ملتوی کرنا پڑتے ہیں اور چونکہ مریضوں سے مارکیٹ سے کوئی دوا یا سرجری کا سامان منگوانا ممنوع ہے اس لئے مریض ان ہسپتالوں میں خوار ہوتے ہوئی نظر آتے ہیں اور آخر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ ہسپتالوں کی انتظامیہ اس سلسلہ میں کسی قسم کا تعاون کرنے کو تیار نہیں ہوتی ہے۔

چند دن پہلے ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کے کلینک پر ایک مریض سے ملاقات ہوئی جسے کسی ضروری لیبارٹری ٹیسٹ کی ضرورت تھی چونکہ اس ٹیسٹ کہ سہولت ہسپتال میں موجود نہیں تھی اس لئے مریض کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ چونکہ ہم ٹیسٹ نہیں کرسکتے ہیں اس لئے علاج بھی نہیں کریں گے اس لئے آپ کسی پرائیویٹ ڈاکٹر سے مل لیں نتیجتاً وہ مریض پرائیویٹ کلینک پر آنے پر مجبور ہوا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ مفت ادویات کی سیاست نے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے سارے نظام کو ہی عملی طور پر تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس وقت محکمہ صحت کی حالت یہ ہے کہ پہلے موبائل کلینکوں کو ڈاکٹروں اور دوائیوں کے بغیر چلاتے رہے ہیں اور اب سرکاری ہسپتالوں کو بھی ​ادویات کے بغیر چلارہے ہیں اور پہلے موبائل ہسپتالوں کو تباہ کرکے ان کی نجکاری کی گئی ہے چنانچہ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں کو عملاً مفلوج اور ڈس کریڈٹ کرکے ان کو بھی پرائیویٹائز کیا جائے گا یعنی حکومت مفت علاج نہیں کرنا چاہتی ہے بلکہ سارے ہسپتالوں کی نجکاری کے منصوبے پر گامزن ہے۔

مجھے کچھ موبائل ہسپتالوں کے کیمپوں میں جانے کا اتفاق ہوا تو سب سے پہلے تو ان کیمپوں میں ڈاکٹر کی بجائے ٹیکنیشن اور ڈسپنسر علاج کرتے تھے اور دوسرا ضروری ادویات بھی موجود نہیں ہوتی تھیں یہی وجہ ہے کہ ان کیمپوں میں مریضوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی طرح ایک کلینک آن ویل پر کام کرنے والی ایل ایچ وی نے بتایا تھا کہ یہ سارے موبائل ہسپتالوں کے منصوبے پر علاج نہیں صرف سیاست ہوتی ہے اسی طرح اب سرکاری ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی شدید کمی ہے اور ضروری ادویات ناپید ہیں اس لئے یہ سارے ہسپتال علاج نہیں سیاست کررہے ہیں اور پھر حیران کن بات ہے کہ جو حکومت عطائی ڈاکٹروں کے خلاف آپریشن کرنا چاہتی اور موبائل ہسپتالوں میں حکومت کی سرپرستی میں عطائیت ہوتی رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ محکمہ صحت سرکاری ہسپتالوں کو غلط پالیسیوں سے لاعلاج بنارہی ہے۔

Check Also

Muhabbat Mein Be Awaz Zulm

By Najeeb ur Rehman