Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Hospitals Ki Mojuda Halat

Hospitals Ki Mojuda Halat

ہسپتالوں کی موجود حالت

میں نے اپنے پچھلے کالم میں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی اور لیبارٹری ٹیسٹوں سمیت ایکسرے رپورٹس سے متعلق مسائل پر بات کی تھی کہ اسی دوران وزیر اعلیٰ پنجاب نے مختلف ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ، پرنسپلز اور وائس چانسلر حضرات سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور ساتھ ہی اڑھائی کروڑ روپے کی انسولین کی چوری کی خبر بھی دی ہے۔

افسوس کے ساتھ ہسپتالوں میں موجود مختلف مافیاز کا ذکر کیا جو عام مریض کے علاج کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور ساتھ ہی ہسپتالوں میں مریضوں کی لمبی قطاروں کا ذکر بھی کیا اور دکھتے دل کے ساتھ اظہار کیا کہ صحت کا بجٹ تین سو ننانوے ارب سے بڑھا کر چھ سو تیس ارب روپے کرنے کے باوجود مفت ادویات اور مفت علاج کے مقاصد پورے نہ ہو سکنا مایوس کن ہے۔

وزیر اعلیٰ کی اس تقریر نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن میں سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر اڑھائی کروڑ روپے کی انسولین چوری کا سیکرٹری اور وزیر اعلیٰ کو علم ہے تو پھر کیا اس معاملہ کی تحقیقات ہوئیں اور ذمہ داران کو سزا ملی اور اگر سزا نہ دینے کی بجائے صوبے کے ایم ترین عہدیداران صرف شکایات تک ہی محدود رہے ہیں تو یقین جانئیے یہ بھی ایک بڑا جرم ہے کیونکہ جب سرکاری افسران کو سزا نہیں ملتی ہے تو ان کا سینہ مزید چوڑا ہو جاتا ہے اور وہ اور بھی بڑے ڈاکے مارتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مفت ادویات کی فراہمی کے اندر سے مریضوں کو کچھ ملے نہ ملے لیکن بہت سارے لوگوں کی دیہاڑیاں خوب لگتی ہیں جہاں ادویات پر کمیشن، ادویات پیمنٹ کے بیجوں پر کہ بیک بھی وصول ہوتے ہیں اور ادویات مریض کو لکھنے پر کمپنیوں سے پیسے لینے کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن سرکاری ادویات کی خریداری کر جو غدر مچتا ہے اس کے بارے میں الگ سے کالم لکھا جا سکتا ہے۔

ہم نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ نوازشات کے لئے کم مدت کی ایکسپائری ادویات بھی خرید لی جاتی ہیں جن کو بعد میں چوری کروا کر کنزیوم کروایا جاتا ہے۔ میں نے کوٹ خواجہ سعید ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو ایک بار رابطہ کرکے بتایا تھا کہ ان کے ہسپتال کی ادویات چوری ہورہی ہیں اور مہنگے جان بچانے والے ٹیکے، اینٹی بائیوٹک گولیاں اور یہاں تک کہ انسولین کی بوتلیں مارکیٹ میں بک رہی ہیں اور ایک شخص ملازمین سے سرکاری ادویات خرید کر مارکیٹ میں بیچ کر اپنا کاروبار چمکا رہا ہے لیکن اس اطلاع کے باوجود آج تک ادویات کی چوری کا مکروہ دہندہ چل رہا ہے اور اس ہسپتال میں تمام اہم شعبہ جات بغیر ڈاکٹروں کے کام کررہے ہیں اور یورولوجی، آرتھو پیڈک، ناک کان گلا کے شعبہ جات جہاں روزانہ سینکٹروں مریض آتے تھے وہاں اب کوئی ڈاکٹر ہی موجود نہیں ہے اور یہ شعبے عملاً ختم ہو چکے ہیں جبکہ ہسپتال کا عملہ مریضوں کی جعلی پرچیاں بنا کر انسولین سمیت مہنگی ادویات فارمیسی سے لیتا ہے اور مارکیٹ میں بیچ دیتا ہے۔

ایسی ہی حالت باقی ہسپتالوں میں بھی ہے جبکہ ان ساری سرگرمیوں کو میڈیکل سپرنٹینڈنٹ حضرات تحفظ دیتے ہیں کیونکہ ایسی حرکات سے ہسپتالوں میں مریضوں کا ایک فیک ڈیٹا تشکیل پاتا ہے جس سے ہسپتال کی انتظامیہ کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے اور ادویات کا سٹاک جب استعمال ہوتا ہے تو نئی ڈیمانڈ بھی پیدا ہوتی ہے جس میں کمیشن الگ سے ملتا ہے۔ جبکہ لاہور ہی کے ایک بڑے ہسپتال میں راتوں رات آکسیجن کے تیس سے زیادہ سلنڈر غائب ہو گئے اور کاروائی پر پلمبر کو لیکیج کا ذمہ دار ٹھہرا کر معطل کردیا گیا جو بعد میں بحال ہوگیا اور قومی خزانہ اسی طرح لوٹا جاتا ہے جبکہ مریضوں کے ساتھ جو برتاؤ ہسپتال کا عملہ کرتا ہے وہ الگ داستان ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں سب سے زیادہ بدمعاش طبقہ پارکنگ کا عملہ ہے جو سر عام مریضوں کو گالیاں دیتا ہے اور مریضوں کے لواحقین سے ہاتھا پائی کرتا ہےاور شکایت کے باوجود ان کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہے کیونکہ یہ پاور فل لوگ ہوتے ہیں اور تو اور اکثر پولیس بھی ان کا ساتھ دیتی ہے۔

مجھے ایک بار میو ہسپتال کے ذمہ دار عہدیدار نے بتایا تھا کہ ان کے ہسپتال کے دو سو سے زیادہ ملازمین گھوسٹ ہیں جو تنخواہیں تو ہسپتال سے لیتے ہیں لیکن کام جانے کن اہم شخصیات کے گھروں پر کرتے ہیں لیکن کوئی ان کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا ہے اور گنگا رام ہی کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ ہمارے پاس عملہ کی حالت یہ ہے کہ صفائی پر مامور عملہ آپریشن تھیٹروں میں بطور اسسٹنٹ آپریشن کرواتا ہے اور اسی طرح کی اطلاعات جنرل ہسپتال کے بارے میں بھی ہیں۔

تمام سرکاری ہسپتالوں میں عرصہ سے ڈاکٹروں کی بھرتیاں بین ہیں اور دیگر عملہ کی بھی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی قطار بنانے اور آؤٹ ڈور کی پرچی بنانےکے لئے لوگ ہی نہیں ملتے ہیں اور پھر جو لوگ آنلائن پرچی بنانے کے دعوے کرتے ہیں تو اکثر آؤٹ میں انٹرنیٹ یا تو چلتا نہیں ہے اور یا پھر مناسب طریقے سے کام نہیں کرتا ہے جس کی وجہ سے مریض گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور جہاں تک ڈاکٹروں کا تعلق ہے تو میرا مشاہدہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر زیادہ مریض دیکھتے ہیں اور اوسطاً ایک ڈاکٹر پچاس سے ڈیڑھ سو مریضوں کا معائنہ کرتا ہے۔

اگر آپ ہڈی کے آؤٹ ڈور کا چکر لگا لیں یا پھر ناک کان گلے اورگائنی کے آؤٹ ڈور کا مشاہدہ کریں تو مریضوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے ہاں البتہ ایسے موقع پرست ڈاکٹر بھی ہیں جو ڈیوٹی سے جلدی غائب ہو جاتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے اور ان لوگوں کو بھی کسی نہ کسی بڑے کی آشیرباد ہوتی ہے جو من پسند ڈاکٹروں کو خفیہ ڈیوٹیاں دیتے ہیں جہاں سے غائب ہونا آسان ہوتا ہے۔

میری ایک بار کسی ڈاکٹر دوست کی ترقی کے سلسلہ میں اینٹی کرپشن کی رپورٹ کے لئے ان کے آفس جانا ہوا تو وہاں موجود ایک ڈائریکٹر نے بتایا کہ آج تک کسی ڈاکٹر یا ٹیچر کا کرپشن یا کریمنل ریکارڈ نہیں ملا ہے پھر بھی جانے کیوں ان کے ادارے ان کی رپورٹ اینٹی کرپشن سے مانگتے ہیں اس ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور دیگر انتظامی عہدیداران کے حوالے سے پھر بھی کرپشن کے الزامات مل جاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے نہیں۔

اسی طرح اگر ہسپتالوں میں دیکھیں تو زیادہ مسائل کا تعلق ہسپتالوں کے انتظامی امور سے ہے اور بدقسمتی کی بات ہے کہ جو بھی سرکاری افسران انسپکشن کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں جاتے ہیں تو وہ کسی ڈاکٹر یا نرس پر الزامات تھوپ کر واپس آجاتے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ کی انسپکشن ٹیم نے کچھ ہسپتالوں کے متعلق جاندار بد انتظامی کی رپورٹ دی بھی ہے لیکن اس رپورٹ کے نتیجہ میں بھی کچھ نرسوں کا تبادلہ ضرور ہوا لیکن میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور انتظامی افسران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سرکاری ہسپتالوں میں جتنی بھی فنانشل کرپشن، ادویات کی عدم دستیابی، سرجیکل آلات کی غیر موجودگی، پارکنگ عملہ کی بدمعاشی سمیت مریضوں کی دیکھ بھال کے مسائل ہیں وہ سراسر انتظامی طرز کے ہیں جن پر کاروائی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے اور یہ انھیں ہسپتالوں کی انتظامیہ کی منافقت ہے کہ وہ سچ بولنے اور درست اعدادوشمار پیش کرنے کی بجائے محکمہ صحت کے افسران اور سیاسی قیادت کو خوش رکھنے کے لئے حقیقی مسائل پر بات نہیں کرتے ہیں اور سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں جبکہ میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران یہی لوگ فنڈز کی کمی کی شکایت بھی کرتے ہیں اور عملہ کی قلت کا ذکر بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی ادویات اور سرجیکل آلات کے لئے ناکافی فنڈز کی بات بھی کرتے ہیں لیکن یہ ہمت نہیں رکھتے کہ متعلقہ افسران سے رابطہ کرکے اپنے ہسپتال کی مشکلات کی بات کریں جبکہ انھیں افسران کو خوش کرنے کے لئے ڈاکٹر حضرات کو تنگ کرتے ہیں کہ ادویات ہسپتال کے اندر سے دی جائیں۔

اس وقت سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹر اس قدر فرسٹریشن کا شکار ہیں کہ انھیں سمجھ نہیں آتا ہے کہ مریضوں کا میرٹ پر علاج کریں یا ہسپتال انتظامیہ کے جھوٹے دعووں کو تحفظ دیں یا پھر خاموشی سے اپنی نوکری کریں جبکہ جو بھی سرکاری افسر ہسپتال کی انسپکشن پر آتا ہے وہ بنیادی مسائل پر بات کرنے کی بجائے موبائل فون کے استعمال یا سفید کوٹ کے نہ پہننے پر سرزنش کرکے چلا جاتا ہے۔

میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ ہسپتالوں میں مزے لوٹتے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور پرنسپل حضرات کی اصل جاب ہے کیا کہ وہ اپنے سٹاف کو تحفظ دینے اور کام کے لئے سازگار ماحول دینے کی بجائے دھمکیاں دے کر ڈاکٹروں کی زبان بند کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ میو ہسپتال کے ہی ایک سینئر ڈاکٹر نے ہسپتال کے آفیشل گروپ میں بے ہوشی کی گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے آپریشن نہ کر سکنے کی شکایت کی تو اس کو میڈیکل سپرنٹینڈنٹ نے بلا کر خوب بدتمیزی کی اور پھر بعد میں اس سینئر کنسلٹنٹ کا انتقام کے طور پر تبادلہ ساہیوال کر دیا گیا اور اسی طرح اسی ہسپتال کے ایک ٹرینی ڈاکٹر نے میڈیا پر ضروری ادویات نہ ملنے کی بات کی تو آج تک وہ ڈاکٹر ہسپتال انتظامیہ اور بیوروکریسی کے انتقام کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

اب حالات یہ ہیں کہ ہسپتالوں میں کبھی ادویات کی وجہ سے اور کبھی بے ہوشی کی گیس نہ ہونے کی وجہ سے اور کبھی ضروری سرجیکل آلات نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں آپریشن ملتوی ہوتے ہیں لیکن کوئی بھی ڈاکٹر زبان کھولنے کو تیار نہیں ہے اور جو منہ کھولتا ہے اس کا تبادلہ ہو جاتا ہے اور جو کسی مجبور مریض کا ترس کھا کر آپریشن کرتا ہے اور ضروری سرجری کے آلات عدم دستیابی کی وجہ سے مارکیٹ سے منگوالیتا ہے تو اس کو معطل کردیا جاتا ہے اور اس سارے کھیل میں فائدے وہی ہسپتالوں کی انتظامیہ کے لوگ اٹھاتے ہیں جو اوپر سب کو خوش رکھتے ہیں اور خود کرپشن میں اپنے ہاتھ رنگتے ہیں اور ڈاکٹروں اور نرسوں کے لئے خوف کی علامت بنتے ہیں جبکہ مریضوں کے علاج میں دھوکہ دہی سے کام لیتے ہیں۔

اس وقت ہسپتالوں میں ڈاکٹر عدم تحفظ کا شکار ہیں اور مریض بھی مشکلات سے دو چار ہیں اور دعوے ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ مفت ادویات فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہیں اور ساتھ ہی ادویات کی چوری پر بے بسی بھی ظاہر کرتی ہیں اور پھر ڈاکٹروں کو رگڑا لگانے کی دھمکیاں بھی دیتی ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے موبائل فون چھین لئے گئے ہیں، ادویات لکھنے کا اختیار چھین لیا گیا، آزادی سے مریض کے علاج کا اختیار چھین لیا گیا اور بات بات پر دھمکیاں اور ایف آئی آر کروانے کا خوف مسلط کردیا گیا ہے اور پھر خاموش رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

وزیر اعلیٰ ایم ایس حضرات کی بجائے کسی دن مختلف شعبہ جات کے سینئر پروفیسروں سے بات کرلیں تو شاید بہتر تصویر سامنے آ جائے ورنہ سیاسی میڈیکل سپرنٹینڈنٹس کبھی بھی مسئلہ کا حل نہیں بن سکتے ہیں اور ہسپتالوں کے مسائل ایسے ہی قائم رہیں گے اور وزیر اعلیٰ سب اچھا ہے سنتی رہیں گی اور مریض خوار ہوتے رہیں گے جبکہ عوامی فنڈز گٹروں کے ڈھکن کی طرح چوری ہوتے رہیں گے اور ان گٹروں میں عوام اور ان کا پیسہ غرق ہوتا رہے گا اور نظام ایسے ہی بدبودار لوگوں کے ہاتھوں محبوس رہے گا۔

Check Also

Ye Middle Class Ke Mohabbat Karne Wale

By Azhar Hussain Azmi