Cancer Ke Khilaf Maryam Nawaz Ke Iqdaam
کینسر کے خلاف مریم نواز کے اقدام

مریم نواز نے وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد جو اچھے کام کئے ہیں ان میں سے کینسر کے علاج کے لئے کینسر ہسپتال کی تعمیر کا فیصلہ بڑا اہم تھا اور بڑے مختصر وقت میں یہ ہسپتال جنوری کے مہینے میں اپنا کام شروع کر دے گا اور اس منصوبے کا پہلا مرحلہ کا آغاز ہو جائے گا جس کے بعد کینسر کے مریضوں کے مفت علاج کی راہ میں رکاوٹیں دور ہو جائیں گی جبکہ اس سے پہلے شوکت خانم ہسپتال کام تو کررہا تھا لیکن اس کے علاج کے اخراجات ایک عام آدمی اٹھانے کی سکت نہیں رکھتا ہے جبکہ انمول ہسپتال سرکاری سرپرستی میں کام تو کررہا تھا لیکن کینسر کے بڑھتے ہوئے مریضوں کے لئے اس ہسپتال میں سہولیات ناکافی ہیں اس کے علاؤہ پروفیسر شہریار نے بھی رائیونڈ میں کینسر کیئر ہسپتال کا آغاز کیا ہے۔
لیکن یہ ہسپتال ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ کینسر ایک موذی مرض ہے جس کا علاج ناصرف تکلیف دہ ہے بلکہ بہت مہنگا بھی ہے اور مریم نواز نے پنجاب کے پہلے سرکاری کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھ کر ایک بڑا کام کیا ہے جبکہ اس سے پہلے میو ہسپتال میں بھی ایک جدید طرز کی مشین فراہم کرکے کینسر کے بہت سارے مریضوں کے علاج کی ناصرف سہولت فراہم کی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں کینسر کے علاج کے لئے ماہر ڈاکٹروں کی تربیت کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔ گزشتہ روز میری اس سلسلہ میں میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر ہارون حامد سے ملاقات ہوئی تھی جنہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ ہسپتال میں کینسر کے جدید طریقہ علاج پر روشنی ڈالی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے دورہ چین میں کوابلیشن طریقہ علاج کو دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اس جدید طریقہ علاج کو پاکستان میں بھی متعارف کروایا جائے گا جس کے بعد پہلی جدید مشینری کی درآمد کرکے میو ہسپتال میں نصب کروایا گیا ہے جس کے بعد کینسر کے مریضوں کا باقاعدہ علاج شروع ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر ہارون حامد نے بتایا کہ اس طریقہ علاج میں مریضوں کی سلیکشن بہت اہم ہے اور عموماً پہلی اور دوسری سٹیج کے مریض اس طریقہ علاج سے فائیدہ اٹھا سکتے ہیں اور ابتدائی طور پر پھیپھڑوں، گردوں، جگر کے ٹیومر کے علاج میں کوابلیشن کا طریقہ بڑا کارآمد ثابت ہوا ہے اور ایسے بھی مریض دیکھے گئے ہیں جو ہسپتال میں ٹیومر کے ساتھ آئے تھے اور پہلے ہی سیشن میں ان کا ٹیومر مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
انھوں نے بتایا کہ ایسے ٹیومر جہاں پر مریض کا آپریشن کرنا مشکل ہو اور یا پھر کیمو تھراپی سے نقصان ہونے کا احتمال ہو تو کوابلیشن طریقہ علاج ان مریضوں کے لئے بڑا سود مند ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مریض جتنی جلدی علاج کے لئے آ جائے اتنا ہی علاج آسان ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر ہارون نے بتایا کہ اس طریقہ علاج میں مریض کے ٹیومر کو ٹھنڈا کرکے اس کے پھیلاؤ کو روکا جاتا ہے جس سے مریض کی جان بچ جاتی ہے اور وہ دوبارہ سے اپنی زندگی خوشحال طریقہ سے گزارنے لگتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی تک کوابلیشن مشین صرف میو ہسپتال میں ہی دستیاب ہے لیکن حکومت اس طریقہ علاج کو پنجاب کے مزید ہسپتالوں اور ضلعوں میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ہارون نے بتایا کہ اس وقت تک ان کے پاس تین ماہر ڈاکٹر موجود ہیں جو اس طریقہ علاج پر عبور رکھتے ہیں جبکہ پچاس مزید ڈاکٹرز کی ٹریننگ کی جارہی ہے تاکہ آگے چل کر باقی ہسپتالوں میں بھی اس مرض کا علاج ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر ہارون حامد نے بتایا کہ اس وقت تک ایک مریض کے علاج پر پندرہ سے سولہ لاکھ روپے خرچ آتا ہے جس کی ساری ذمہ داری پنجاب حکومت نے اٹھا رکھی ہے اور کسی بھی مریض کو علاج کی غرض سے ایک روپیہ بھی ادا نہیں کرنا پڑتا جو کہ واقعی وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے مریضوں کے لئے بڑا تحفہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ میں کوابلیشن تھراپی سے کینسر کے تین درجن کے قریب مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ سینکٹروں مریض علاج کے مراحل سے گزر رہے ہیں اور اس طرح درجنوں خاندانوں کو اس منصوبہ سے زندگی کی نئی امید ملی ہے اور کینسر کے خود سے بھی لوگوں کو نجات ملی ہے۔
ڈاکٹر ہارون حامد نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز جس طرح سے کینسر کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے چند سالوں میں پنجاب میں کینسر کا مریض بغیر علاج کے نہیں مرے گا اور ہر مریض کو سستا اور معیاری علاج میسر آسکے گا۔ ڈاکٹر ہارون نے مزید کہا کہ اگر حکومت کینسر کے علاج کے لئے اسی طرح سر پرستی کرتی رہی تو آنے والے دنوں میں میو ہسپتال میں کوابلیشن کا بڑا شعبہ قائم کیا جائے گا جس میں ناصرف مریضوں کا علاج ہو سکے گا بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کو کینسر کے علاج کی تربیت بھی دی جا سکے گی۔ انھوں نے بتایا کہ میو ہسپتال میں کوابلیشن مشینری کی تنصیب کے بعد کینسر کے مریضوں کا رحجان تیزی سے ہسپتال کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے بعد بنیادی کینسر وارڈ میں بھی مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
اس لئے ضروری ہے کہ ان شعبوں میں ڈاکٹروں اور عملہ کی کمی کو دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں جس کے حوالے سے حکومت پالیسی بنا رہی اور ساتھ ہی ادویات کی مد میں اگر میو ہسپتال کو اس کا ڈیمانڈ کیا گیا بجٹ مل جائے تو اس سے خاص طور پر کینسر کے مریضوں کا بڑا بھلا ہو جائے گا کیونکہ کینسر کی ادویات مہنگی ہیں اور ان کی خرید پر ہسپتال کا بڑا بجٹ صرف ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر ہارون حامد نے وزیر اعلیٰ کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مریم نواز کینسر کے علاج میں دلچسپی لے رہی ہیں تو جلد پنجاب سے کینسر کا علاج مشکل نہیں رہے گا۔

