Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Basant Ki Kamzor Mansuba Bandi

Basant Ki Kamzor Mansuba Bandi

بسنت کی کمزور منصوبہ بندی

ایک طویل عرصہ کے بعد لاہور میں بسنت کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا گیا ہے اور ایک بات تو کھل کر سامنے آگئی کہ حکومتیں اور شہری انتظامیہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے ہیں بلکہ انھیں نظام چلانے کے لئے عوام کی شمولیت کے فارمولہ کو سمجھ لینا چاہئیے ورنہ بات بات پر پرچے کرنے سے حکومت کی رٹ کبھی بھی قائم نہیں ہو سکتی ہے۔ اسی لئے تو مہذب معاشرے اپنی عوام کی تربیت کرتے ہیں اور انھیں اتنا زیادہ نظام کے اندر مضبوط مقام دیتے ہیں کہ بد نظمی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور جب حکومتیں زور زبردستی سے اور بات بات پر پرچے درج کرنے کی دھمکیوں سے سسٹم کو چلانا چاہتی ہیں تو نظام مملکتِ تو دور کی بات کوئی ایک تہوار بھی ڈھنگ سے نہیں منایا جا سکتا ہے کیونکہ حکمران جس عوام کو کرپٹ سمجھتے ہیں اس میں پورے ڈھانچے کا قصور ہے جو خود حکومتوں نے انتظامی اداروں اور پولیسنگ کے نظام کے ذریعہ عوام کو دیا ہے۔

اب حالت یہ ہے کہ عوام کا ان اداروں پر نہ تو اعتماد رہا ہے اور نہ ہی ان کا احترام ہی کہیں دکھائی دیتا ہے اور اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ اعتماد سازی اور احترام سازی کا بوجھ بھی حکومت اور ان متعلقہ اداروں پر ہوتا ہے جبکہ یہاں ہر برے کام کی ذمہ داری عوام پر ڈالی جاتی ہے۔

اس سال جب حکومت نے بسنت منانے کا فیصلہ کیا تو جس طرح سے مخصوص افراد کو پتنگ سازی اور ڈور کی تیاری کے لائسنس دئیے گئے میں سمجھتا ہوں کہ اس پورے عمل نے ناصرف بسنت کے تہوار کو پھیکا کردیا بلکہ اس فیصلے سے ممنوعہ ڈور اور پتنگوں کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ جب شہر میں پتنگیں اور ڈور دستیاب نہ ہو سکے تو لوگوں نے مختلف شہروں سے ڈور اور پتنگیں منگوانا شروع کردیے جس کے بعد ممنوعہ ڈور کے استعمال کے امکانات میں اضافہ ہوگیا۔

ہمارے علم میں ایسے بارہا واقعات آئے جس میں پشاور، ہری پوری، کراچی اور فیصل آباد جیسے شہروں سے لوگوں نے ڈور اور پتنگیں منگوائیں جن میں سے کچھ لوگ پولیس نے پکڑے اور ان سے ڈیل کرکے چھوڑ دیا اور ایک صاحب سے تو آدھی پتنگیں اور ڈور تقسیم کرکے ڈیل کی اور انھیں جانے دیا اور جہاں کہیں سے بھی لوگ ممنوعہ ڈور اور پتنگوں کے ساتھ پکڑے جاتے تھے تو پولیس ان سے ڈور اور پتنگیں چھین کر چھوڑ دیتی تھی جس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پکڑی گئی پتنگوں اور ڈور کا کوئی ریکارڈ بھی یقیناً قائم نہیں ہوا ہوگا جس کے بعد یقیناً یہی ڈور اور پتنگیں کسی نہ کسی طور پر مارکیٹ میں فروخت ہوئی ہوں گی تو پریشان کن بات یہ ہے کہ خود قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون شکنی کے ذمہ دار بن گئے۔

بد قسمتی کی بات ہے کہ حکومت نے ہر معاملہ میں پولیس کو اس قدر اختیارات دے رکھے ہیں کہ اب پولیس خود ہی فیصلہ سازی کے معاملات بھی چلانے لگی ہے جس کے بعد پولیس کی وردی قانون شکنی کا نشان بن گئی ہے۔ گزشتہ دو تین دنوں میں کئی نوجوانوں کو پولیس نے پکڑا اور پیٹی بھائیوں کے فون کرنے پر چھوڑ دیا لیکن ڈور اور پتنگیں ضبط ہوگئیں جبکہ بے شمار لوگوں نے بتایا کہ انھیں پولیس نے پکڑا اور پرچہ بھی درج کروادیا لیکن پتنگوں اور ڈور کی تعداد پوری ریکارڈ میں شامل نہیں کی گئی تھی یہاں تک کہ کاہنہ میں حکومتی لائسنس یافتہ ڈیلر سے بھی پولیس کے جوانوں نے پتنگیں چھین لی تھیں اور یہ واقعہ صرف اس لئے منظر عام پر آگیا کہ دوسری طرف پتنگیں بیچنے والا خود لائسنس یافتہ تھا ورنہ غیر قانونی طور پر پتنگوں کا کاروبار کرنے والوں کو تو پولیس ایف آئی آر کے اندراج کی دھمکی دے کر خاموش کروا دیتی ہے۔

مجھے وہ وقت یاد آگیا جب فلیٹیز ہوٹل سے بار سے نکلنے والوں کو پولیس پکڑ لیتی تھی اور پھر ان سے بوتل لے کر چھوڑ دیتی تھی کچھ ایسے ہی حالات بسنت میں پتنگوں اور ڈور کے سلسلہ میں نظر آ رہے ہیں حالانکہ اگر حکومت عوام کو اعتماد میں لیتی اور لاہور شہر میں ہی بڑے پیمانے پر ڈور اور پتنگوں کی تیاری اور فروخت کی اجازت دے دیتی تو زیادہ کنٹرول کے ساتھ لوگ اس کلچرل تہوار کو منا سکتے تھے جبکہ اس وقت لاہور میں بڑے پیمانے پر دوسرے شہروں اور یہاں تک کہ دوسرے صوبوں سے ڈور اور پتنگیں آ چکی ہیں اور عملاً حکومت کی رٹ کمزور ہی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف بے شمار دھوکے بازوں نے آنلائن پتنگیں فراہم کرنے کے نام پر لوگوں سے ایڈوانس پیسے وصول کرکے خود غائب ہو گئے جس کا تدارک کرنا بھی حکومت ہی کی ذمہ داری تھا اور اب جو بسنت کے دن کے حالات دکھائی دے رہے ہیں تو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ان تین دنوں میں جہاں عوام کی طرف سے قانون شکنیاں ہوں گی وہیں حکومتی محکمے بالخصوص پولیس کا راج ہوگا جو جس بھی گھر میں چاہے گی تو پتنگوں کی چیکنگ کے بہانے گھس جائے گی اور عام شہریوں کے لئے بسنت کے تہوار کو عذاب بنادے گی اور پھر جن نوجوانوں پر پرچے ہوں گے ان کے کیریئر الگ سے خراب ہوں گے۔

ابھی کل کی بات ہے کہ میں قصور کسی کیمپ کے سلسلہ میں گیا اور واپسی پر للیانی ٹول پلازہ پر پولیس کا بڑا ناکہ لگا ہوا تھا جہاں درجنوں پولیس والے ہر گزرتی گاڑی کو روک رہے تھے اور گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے اور یقیناً مقصد یہی ہوگا کہ قصور سے جو لوگ ڈور اور پتنگیں لے کر آئیں گے ان کو دبوچ لیا جائے گا اور پھر اچھی خاصی رشوت کے ساتھ پتنگیں اور ڈور بھی قبضے میں آجائیں گی اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت نے پولیس کو کرپشن کے اتنے مواقع فراہم کئے ہیں کہ اب پہلے سے کرپشن میں نمبر ون پولیس مزید ہتھ چھوٹ ہوگئی ہے ​اور اس کا نتیجہ حکومت اور پولیس سے نفرت کی صورت میں سامنے آرہا ہے اور پولیس کا خوف بڑھتے بڑھتے ایک دن ختم ہو جائے گا۔

قصہ مختصر کہ حکومت نے بسنت کے گڑھے مردے کو زندہ کرکے اور اس کی حکومتی سطح پر سرپرستی کرکے جو نامکمل انتظامات اور کمزور منصوبہ بندی کی ہے اس سے اللہ کرے کہ بسنت خیرو عافیت سے گزر جائے کیونکہ حادثے یا پولیس کے غضب کی صورت میں نقصان عوام کا ہی ہوگا۔

Check Also

Ye Middle Class Ke Mohabbat Karne Wale

By Azhar Hussain Azmi