Ashrafia Ka Dohra Mayar
اشرافیہ کا دہرا معیار

یہ وہ کلمات ہیں جو کسی وقت میاں نواز شریف نے تسلسل سے استعمال کیا کرتے تھے جب انھیں ایک عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا اور وزارت عظمیٰ ان کے ہاتھ سے چلی گئی تھی حالانکہ اقتدار پھر بھی ان کی ہی جماعت کے پاس رہا تھا۔ یقین جانئیے یہ جملہ ہماری قومی نفسیات کا حصہ ہے۔
میں بہت سارے سرکاری افسران اور اہم عہدوں پر بیٹھے افراد کو دیکھتا ہوں کہ جب انھیں کسی اہم عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ اس طرح سے چیختے چلاتے دکھائی دیتے ہیں اور ہر وقت دھائیاں دیتے ہیں کہ ان کو نکال کر ناصرف ان کے ساتھ بلکہ پورے نظام کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور پھر یہ افراد دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کو نکالنے کے نتیجہ میں اب پورا نظام تباہی کا شکار ہو جائے گا۔
بطور صحافی ہم سے ایسے افراد رابطہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے لئے آواز اٹھانی چاہئیے اور اس زیادتی کو عوام کے سامنے لانا چاہئیے جو ان کے ساتھ کی گئی تھی جس کی وجہ سے نظام تباہی کا شکار ہو جائے گا اور ہم اکثر میرٹ پر ان لوگوں کی آواز بنتے بھی ہیں۔ ہم نے نواز شریف کے ساتھ اقامہ کی بنیاد پر ہونے والی زیادتی پر بھی بات کی تھی اور کسی بھی سرکاری عہدیدار کے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک پر بھی اپنے تئیں قلم اٹھایا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان زیادتیوں کے خلاف حکام بالا تک آواز پہنچائی جائے لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ جب یہی لوگ دوبارہ سے کسی اہم پوزیشن پر براجمان ہوتے ہیں تو یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور پھر دوبارہ وہی آمر بن کر اس طرح سے پورے نظام کے بادشاہ بن جاتے ہیں گویا ان کے گرد موجود ہر شخص ان کی ریاست کا ادنیٰ سا غلام ہو جس کے اندر دنیا جہاں کی خرابیاں موجود ہوتی ہیں اور تب یہ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان پر تنقید کرنے والے اور ان کی بات نہ ماننے والے سارے غدار اور نظام کے دشمن ہیں جو ان کے اقتدار یا عہدے سے جلتے ہیں اس لئے وہ لوگ ان کی صاف شفاف اور اعلیٰ پائے کی شخصیت کو داغدار کرنے میں مصروف ہیں۔
ایسی صورت میں جب کبھی ہم جیسے صحافی ان لوگوں پر تنقید کرتے ہیں تو یہ ہمیں اپنا ازلی دشمن سمجھنے لگتے ہیں اور وہی لوگ جو برے وقت میں صحافیوں کو اپنے لئے آواز اٹھانے کے لئے رابطے کرتے اور منت سماجت کرتے ہیں تو اقتدار اور طاقت کے نشے میں فرعون بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ پھر کبھی پیسے کی خاطر اور کبھی اپنے اختیارات کو بچانے کے لئے دوسروں کو کچلنے لگتے ہیں اور لوگوں کے کیرئیر اور نوکریوں کو ختم کرکے بچت اور ترقی کی کہانیاں سناتے ہیں۔ ان لوگوں کو جب ہم پوچھتے ہیں کہ یہ دہرا معیار کیوں کہ کل تک جن اقدامات پر چیخ و پکار کی جارہی تھی اور آج ان ہی اقدامات کو کرنے کے لئے چابک ہاتھ میں تھام لیا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ نظام کو چلانے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے سخت انتظامی فیصلے کرنا بہت ضروری ہوتا ہے جبکہ خود جب ان لوگوں کے خلاف انتظامی فیصلے ہوتے ہیں تو ان کو برا لگتا ہے۔
وطن عزیز کی ساری اشرافیہ کلاس کا یہی وطیرہ ہے کہ یہ لوگ خود کو ہمیشہ اقتدار اور بڑے عہدوں کے مالک سمجھتے اور یہ لوگ کروڑوں روپے کی مراعات وصول کرتے ہیں اور اپنے خاندانوں کے لئے عالیشان گھر، بڑی بڑی گاڑیاں اور پرتعیش دفاتر بناتے ہیں اور پھر بھوک اور ننگ میں مبتلا لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں جن کی سفاکانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ ایک عام آدمی نہ تو گھر میں بجلی افورڈ کر سکتا ہے اور نہ ہی پنکھا لگانے کی عیاشی کرسکتا ہے جبکہ یہ لوگ ان ہی قابل رحم لوگوں کی جیبوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا پھندا ڈال کر اپنے لئے عیاشیوں کا سامان پیدا کرتے ہیں اور اس عام آدمی سے ناصرف نفرت کرتے ہیں بلکہ اسے معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کا جینا مشکل کر دیتے ہیں۔
کل تک مجھے کیوں نکالا کا نعرہ لگانے والے نواز شریف کی آج ملک اور پنجاب میں حکومت ہے اور یہی حکومت کرپشن کے خلاف جہاد کرنے کے دعوے کرتی ہے لیکن یہاں پر موٹر سائیکل سواروں کا ہیلمیٹ نہ پہننا بڑا جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ بجلی کے پیداواری منصوبوں پر کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والوں اور گیس کی ڈیلوں پر مال بنانے والوں کے لئے کوئی سزا نہیں بلکہ یہی وہ عقل کل ہیں جو ملک کا دیوالیہ نکال کر بھی خود کو ذہانت کے ارسطو سمجھتے ہیں اور ملک کے وسائل پر قابض ہیں۔
ملک کے سارے نظام کی باگ دوڑ سنبھالنے والے اور قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے ان تمام افراد کے خاندان دہری شہریت کے حامل ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ملک چھوڑ دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے اور اپنی ساری بد انتطامیوں کا الزام یہ اس نظام کو ٹھہراتے ہیں جس کے مزے یہ زندگی بھرلوٹتے ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ بیوروکریسی، سیاست اور جیوڈیشری کے کرتا دھرتا ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد چوبیس گھنٹے بھی ملک میں رہنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہم دور کی بات نہ بھی کریں تو یہاں ایک سرکاری کلرک بھی خود کو سسٹم کے لئے ناگزیر سمجھتا ہے۔
چند ماہ پہلے لاہور کے ایک ہسپتال میں تعینات میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کو دہرے عہدوں میں سے ایک عہدہ چھوڑنا پڑا تو اس نے اور اس کے فالوورز نے بڑا اودھم مچایا کہ اس کو کیوں نکالا تو آپ خود سمجھ لیں کہ اقتدار اور اختیارات کے بڑے بڑے سرخیلوں کے دماغوں کی کیا حالت ہوگی۔ جب میں سطور لکھ رہا تھا تو مجھے کسی نے ایف آئی آر کی کاپی بھیجی جس میں ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کے کچھ نمائندوں پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے گرفتار کرکے پرچہ درج کرلیا گیا۔

