Saturday, 28 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Mujhe Kya Bura Tha Marna

Mujhe Kya Bura Tha Marna

مجھے کیا برا تھا مرنا

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ قصہ شروع کہاں سے کریں؟ ہم قمر کو زیادہ نہیں جانتے تھے۔ جاننے کا دعویٰ تو خیر انور کے لئے بھی نہیں۔ انسان ساری عمر ساتھ رہنے والوں کو نہیں جان سکتا تو اجنبیوں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ ہر لمحہ ایک نئی حیرانی و تحیر کا سامنا رہتا۔ انسان نہ ہوا پیاز ہوگیا، ہر نیا واقعہ، ہر نیا حادثہ اک پرت اتار دیتا ہے۔ یہ بھی غنیمت کہ زندگی بہت طویل نہیں سو کچھ بھرم رہ بھی جاتے ہیں۔

بات کدھر سے کدھر نکل گئی، قصہ تھا قمر اور انور کا۔

چلیے انور سے شروع کرتے ہیں۔ انور میرے میاں کی کمپنی میں سیلز رپریسنٹیٹو (sales representative) تھے۔ پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹے اور گھر بھر کے لاڈلے دلارے انو۔ عقل واجبی، شکل مناسب، سانولا بلکہ قدرے دبتا رنگ۔ جسم کسرتی اور مزے کی بات کہ اس جسم پر زعم بھی بہت۔ انو میاں اپنے گمان میں سلمان خان تھے اب یہ الگ بات کہ اس کسرتی جسم میں بھیجہ کسی چڑیا جتنا۔ شارپنس اور اسمارٹنس کا دور دور گزر نہیں۔ اماں ابا حیات نہ تھے اس لئے ان پر سب کی ممتا چھلکتی تھی۔ بہنوں نے تو گویا انہیں ہاتھ کا چھالا ہی بنا لیا تھا۔ کئی سال کی سپلی کے بعد مرتے کھپتے بالآخر BSc سے پار لگے۔ ہزار ہا سفارشات پر میرے میاں کے دفتر میں ملازمت ملی۔ انور میاں آدمی چرب زبان تھے اور خوشامد کی اہمیت سے کما حقہ واقف بلکہ سچ تو یہ کہ اس فن میں ید طولی رکھتے تھے۔

بہنیں ان کے سہرے کے پھول کھلانے کی سر توڑ مہم میں جتی ہوئی تھیں پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوتا۔ ہمیں حیرانی تو تھی کہ لڑکیوں کی اس قدر نا قدری کے باوجود بھی انہیں کوئی لڑکی کیوں کر نہیں جڑتی؟ ایک دن انور میاں نے اس راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا کہ بڑی باجی چاہتی ہیں کہ لڑکی پڑھی لکھی اور برسرروزگار ہوتاکہ گھر کی گاڑی آسانی سے چلے۔ ہم بڑی باجی کی دور اندیشی اور بصیرت کے قائل ہو ہو گئے۔

ایک شام انو میاں لجائے لجائے مٹھائی سمیت وارد ہوئے اور اپنے رشتہ طے ہونے کی نوید سنائی۔ ہم نے مبارک باد دی اور خوش بھی ہوئے کہ چلو یہ بیل منڈھے تو چڑھی۔ پر جانے کیوں نوشے میاں کچھ بجھے بجھے سے تھے۔ ہم نے اپنے میاں، ناصر سے پوچھا تو انہوں نے راز کھولا کہ لڑکی یعنی قمر النساء، انور کی بڑی بہن کی کلاس فیلو اور دوست ہیں۔ انو سے عمر میں تین سال بڑی اور شکل وصورت بہت واجبی۔ مختصر قد و قامت کی منحنی سی خاتون۔ لائبریری سائنس میں ماسٹرز ہیں اور ان کے والد جامعہ کراچی میں پروفسر تھے۔ قمر چونکہ پوزیشن ہولڈر تھیں سو جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری میں آسانی سے نوکری مل گئی اور والد کے انتقال کے بعد وہی گھر قمر کے نام الاٹ ہوگیا ہے۔

لو بھئی بلی کے بھاگوں چھینکاں ٹوٹا، بہنیں سر پیر منہ گاڑی کئے اسٹبلیش (stablish) لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں وہ تو مل گئی اب اور کیا چاہئے؟

وہ سب تو سہی ہے پر دل کا کیا کرے کوئی؟ انور میاں کو ہیما مالنی پسند ہے اور ان کو اپنے لئے ویسی ہی دلہن مقصود۔

ناصر نے صورت حال واضح کی۔

دل تو چاہا کہ کہوں، اپنی شکل دیکھی ہے؟

پر خوف خدا نے روک لیا۔ بات پھر دل کی بھی اور دل کا کیا جائے اور کیا ہی کہا جائے۔ دل تو سدا کا پاگل اور اتھرا، چاند کا تمنائی ہی رہتا ہے۔ انو میاں پر قدرے ترس آیا اور آنے والی کے نصیبے نے متفکر بھی کیا۔ دعا یہی تھی کہ سب خیر رہے اور یہ مٹیریل میرج نہ ہو بلکہ اس رشتے میں دل کی شادمانی بھی شامل رہے۔

میں نے مایوں اور شادی میں شرکت نہیں کی کہ میرا چھوٹے بچوں کا ساتھ اور جنوری کی کڑکڑاتی سردی۔ بقول میری امی، میں منہ لکّی بھی یعنی سوشل بی نہیں ان کی بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔ ولیمے میں شرکت کی اور مجھے دولہن اچھی لگی۔ جو الوہی خوشی شادی اور ولیمہ کے دولھا دولہن کے چہروں پر ہوتی ہے وہ سرے سے مفقود تھی۔ واپسی پر ناصر سے اپنے خدشے کا ذکر کیا تو کہنے لگے کہ نہیں تمہارا وہم ہے، مجھے تو دونوں خوش لگے۔ میں نے کہا خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔

ہفتے دس دن کے بعد ناصر نے دونوں کو کھانے پر بلایا۔ انور اور قمر دونوں ہی اچھے لگ رہے تھے۔ قمر نے میرون ویلوٹ کا کامدار سوٹ پہنا تھا اور مناسب جیولری کے ساتھ بلاشبہ جچ رہی تھی۔ مجھے مزاج بات کی بھی اچھی لگی۔ نازک سی قمر، سمجھو امیتابھ اور جیا جیسا جوڑ تھا دونوں کا۔ دل مل جائے تو ہر بات ثانوی۔ جانے کیوں میرا یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا تھا کہ ان کے رشتے میں کوئی عنصر کم ہے، کوئی کڑی گمشدہ ہے۔

شادیاں کون سا کارِ آساں؟ آشیانے کی تعمیر تو 24/7 کا عمل۔ بنیاد پر ہر روز صبر کی سل جس پر خونِ جگر کا گارا ملنا پڑتا ہے۔ خیر شہر سکھائے کوتوالی، وقت کے ساتھ ساتھ ان کو بھی زندگی کرنے کا ڈھب آ ہی جائے گا۔

قمر کا اکثر میرے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ میں تو شاید دو چار ہی بار اس کے گھر گئی تھی پر بلاشبہ اسے گھرداری کا سلیقہ تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ قمر اور انور تین پیاری پیاری بیٹیوں کے والدین بن گئے۔ وقت کی گزرن کے ساتھ ساتھ قمر کی خاموشی اور آنکھوں کے حزن میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ وہ کبھی کبھی مجھ سے دبی زبان میں انور کی بدسلوکی اور سسرال والوں کے ناروا سلوک کی شکایت کر جاتی تھی۔

"اب بتائیں بھابھی میں یہ بچیاں میکہ سے لے کر تو نہیں آئی نا؟ اور نہ ہی میرے اختیار میں بیٹا پیدا کرنا ہے"۔

انور بچیوں سے ذرا پیار نہیں کرتے۔ ہر وقت ان کو جھڑکتے ہیں اور بس اٹھتے بیٹھتے بیٹے بیٹے کی گردان ہے۔

جب بقرعید پر آئی تو دیگر اشیائے خورد و نوش کے ساتھ کھانے کی میز پر شیر مال بھی تھی جو اتفاقاً تینوں بچیوں کی پسندیدہ تھی۔ بچیوں نے بہت رغبت سے کھائی۔ کہنے لگی بھابھی شیرمال بچیوں کو بہت پسند ہے مگر انور بچیوں کے لئے کبھی نہیں لاتے۔ پہلے گھر کا راشن لایا کرتے تھے اور اب وہ بھی چھوڑ دیا ہے۔ گھر کا کل خرچ میری ذمہ داری ہے۔ کوئی شکایت کروں تو کہتے ہیں کہ "تمہیں گھر میں رکھا ہوا ہے یہ احسان کیا کم ہے! ورنہ اپنے باپ کی دہلیز ہی پر بیٹھی بیٹھی بڈھی پھونس ہو جاتیں"۔

بتائیں بھابھی میں کیا ان کے ساتھ بھاگ کر آئی ہوں؟

سب کچھ جانتے بوجھتے شادی کی تھی نا؟

اب شکایت کیوں؟ اب تو انہوں نے اپنا کمرہ بھی الگ کر لیا ہے۔ کہتے ہیں انہیں کہ مجھ سے کراہت آتی ہے۔

یہ کہہ کر قمر نے جو رونا شروع کیا تو میرے تو ہاتھ پیر ہی پھول گئے۔ دل کو انتہائی تکلیف بھی ہوئی۔ دکھ اور حیرت بھی کہ عورت کا تلنا ہمشہ شکل پر ہی کیوں ہوتا ہے؟ کیا عورت محض ایک خوبرو چہرہ اور خوبصورت جسم کی حامل جنس ہی ہے؟

اس کے باقی سارے اوصاف صفر بٹا صفر؟

عورت کے ایمان، خوب سیرتی اور وفا و حیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں؟

دنیا کے بازار میں بیوی کا مول اتنا کم کیوں؟

کس سے منصفی چاہیں۔ اس پدر سری معاشرے میں ان سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ قمر کے مسئلے کا حل میرے پاس نہیں تھا۔ ناصر سے کہا کہ اشاروں کنایوں میں انور کو سمجھائیں۔ شادی کو گیارہ سال ہو گئے ہیں، بچیاں بڑی ہو رہی ہیں۔ مجھے قمر کی بچیوں پر بڑا ترس آتا تھا۔ بہت ہی معصوم اور سہمی ہوئی بچیاں، بالکل ویسی ہی افتاں و خیزاں جیسی disputed گھر کی بچیاں ہوتی ہیں۔ ماں کے آنکھ کے اشاروں پر چلتی اور باپ سے چھپتی ہوئی۔ بخدا ان زندہ باپ کی یتیم بچیوں کو دیکھ کر دل کٹتا تھا۔ ایسی تسلیم و رضا کی پیکر بچیاں، لگتا تھا کہ قمر نے اپنا صبر بھی ان بچیوں کو گھول کر پلا دیا ہے۔

مجھے اس عورت کے صبر اور استقلال پر حیرت تھی۔ غریب گھر اور باہر کی دہری مشقت کی چکی میں پس رہی تھی۔ اس کی صحت بلکل دگرگوں تھی اور وہ اپنی عمر سے کہیں بڑی لگنے لگی تھی۔ انور نے طعنے دے دے کر اس کا کلیجہ چھلنی کر دیا تھا اور اس کی عزت نفس کی دھجیاں بکھر چکی تھیں۔ مجھے بلکل نہیں لگتا تھا کہ یہ گاڑی چلے گی۔ ہم دونوں سمجھا سمجھا کر اور ثالثی بن بن کر تھک چکے تھے۔ سمجھ سے بالا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

تقدیر کی ترکش کا سب سے کاری وار ابھی باقی تھا۔

قمر چونکہ یونیورسٹی کیمپس میں ہی رہائش پزیر تھی سو خود ہی پیدل مرکزی لائبریری چلی جاتی تھی۔ اُس بدنصیب صبح اسے دیر ہوگئی تھی۔ انور میاں اپنی بائیک پر دفتر کے لئے نکل رہے تھے، اس نے کہا مجھے بھی لائبریری چھوڑتے جائیں۔ وہ پیچھے بیٹھی، انور تیز رفتاری سے بائیک چلا رہے تھے۔ سڑک پر اونچا سا اسپیڈ بریکر تھا انور نے دھیان نہیں دیا۔ قمر اس جھٹکے سے نیچے گری اور فٹپاتھ کے کنارے سے اس کی کمر ٹکرا گئی۔ انور کو پتہ بھی نہیں چلا کہ قمر گر چکی ہیں۔ لوگوں کے اشارے اور چیخنے چلانے پر انہیں علم ہوا کہ قمر تو اسکوٹر سے گر چکی ہیں۔

قمر کو لیاقت ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ کمر کے دو مہرے ٹوٹ گئے ہیں۔ قمر، کمر کے نیچے سے معزور ہو چکی تھی۔ تین مہینے قمر ہسپتال میں رہیں پھر گھر آ گئی۔ اس برے وقت میں قمر کی بہنوں نے بہت ساتھ نبھایا اور اس کی دیکھ رکھ کی۔ میں بھی قمر کی عیادت کو گئی تھی، گھر پر ایک عجیب سی ویرانی اور وحشت تھی۔ انور نے اپنی بے گانگی و بے زاری چھپانے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ میں جتنی دیر قمر کے پاس بیٹھی رہی وہ میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بے آواز روتی رہی۔ میرے پاس تسلی کے الفاظ بھی نہیں تھے۔ کچھ ماہ بعد پتہ چلا کہ قمر کو مائنر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ یہ سنکر دل بیٹھ گیا۔ یا اللہ! اس بے زبان کا ابھی اور کتنا امتحان باقی ہے؟

کچھ عرصے بعد طبیعت میں قدرے بہتری کا سن کر میں بڑی ہمت جوڑ کر اس کی عیادت کو گئی۔ مجھے وہ پہلے سے بہت زیادہ نڈھال لگی، بالکل ہڈیوں کا ڈھانچہ۔ ایک چپ تھی جو اس پر طاری اور ایک اشک فشانی جو جاری تھی۔ بڑی بیٹی نبیلا ماں کے پائنتی بیٹھی تھی اور چھوٹی دونوں نیچے قالین پر بیٹھی ہوم ورک کر رہی تھیں۔ ساتھ والے کمرے سے مسلسل باتوں اور کھنکتے قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھی۔

ہم نے نبیلا سے پوچھا کوئی آیا ہے کیا؟

کہنے لگی امی کی فزیوتھیراپسٹ ہیں۔

اف میرے خدا!

اف! کیا کچھ جھیل رہی ہے بدنصیب۔ ابھی یہ ستم بھی باقی تھا اس نحیف جان پر؟

اپنی ہی نظروں کے سامنے لیلی مجنوں کا یہ تماشا دیکھنا بھی اس کے نصیب میں رقم تھا۔ کاش بجائے جسم بےحس ہونے کے دماغ ہی سن ہو جاتا تو اس عذاب سے تو بچ جاتی۔

میں نے بڑے ٹوٹے دل سے قمر سے رخصت لی۔

ایک ہفتے بعد کی بات ہے، کوئی ڈھائی بجے ناصر کا فون آیا کہ قمر کا انتقال ہوگیا ہے۔ لحظے بھر کو اطمنان ہوا کہ غریب کی جان چھوٹی پر فوراً ہی خیال یہ آیا کہ اب بچیوں کا کیا ہوگا؟

کیا کہہ سکتے تھے، جس نے پیدا کیا ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ ان تینوں کے بھاگ میں کیا ہے؟ کاتب تقدیر ہی محرم ہے اس لکھت کا۔

قمر کے گھر پہنچے، جنازہ تیار ہی تھا۔ قمر کی بہنیں خاموش اور اداس تھیں اور نندوں کے چہروں پہ اطمنان تھا۔ وہاں واضح طور پر میکہ اور سسرال دو گروپ میں بٹا ہوا تھا۔ منہ دیکھنے کا غلغلہ ہوا تو دو لوگ سہارا دیکر انور کو لائے، گو کہ اسے سہارے کی قطعاً ضرورت نہ تھی۔ نہایا دھویا، کلین شیو بالکل فریش لگ رہا تھا۔ میں نے بچیوں کو ڈھونڈا تو قمر کے کمرے میں نبیلا دونوں چھوٹی بہنوں کو اپنے دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لیے بلکل خاموش بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو نہیں تھا مگر ضبط کی حالت کچھ ایسی تھی کے دیکھنے والے کا کلیجہ شق ہو جائے۔ وہ ایک ٹک دیوار کو دیکھ رہی تھی شاید اپنا نوشتہ پڑھ رہی تھی۔

قمر کی وفات کے دس دن بعد ہی ناصر نے بتایا کہ انور نے پندرہ دن کی چھٹی لی ہے اور کل بعد نمازِ عصر اس کا نکاح ہے۔

ہم نے بےساختہ پوچھا اسی فزیوتھیراپسٹ سے؟

ہاں!

بچیاں کہاں ہیں؟

تینوں بیٹیوں کو اس نے اپنی بہنوں میں بانٹ دیا ہے۔

اللہ اللہ!

کیا کوئی باپ اس قدر بھی کٹھور ہو سکتا ہے؟

شاید یہ فیصلہ بچیوں کے حق میں بہتر ہو۔ پھوپھی پھر بھی سوتیلی ماں سے تو بہتر ہی ہوگی۔ وہ تینوں بچیاں بلی کے بلونگڑے کی طرح تیرے میرے گھر کر دی گئیں۔

انور میاں کو قمر کی موت کے بعد یونیورسٹی کا مکان خالی کرنا پڑا اور انہوں نے اپنی منجھلی بہن کے گھر کے قریب، انچولی میں کرائے پر گھر لے لیا۔ جیسا کہ عموماََ ہوتا ہے سال کے اندر اندر وہ ایک صحتمند بیٹے کے باپ بن گئے۔ بیٹے کا باپ بننے پر انور کی خوشی کا عالم نہ پوچھئے۔ نتیجتاً تینوں بیٹیاں باپ کی نظروں میں مزید دھندلا گئی۔ وقت کو تو گزرنا ہی ہے۔ کون راستے میں گرتا ہے، کون جان ہارتا ہے، یہ وقت کا دردِ سر نہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ کوئی کوئی اتنا بھی

نا مراد کہ وقت کے کشکول میں اس کے لئے ایک لمحہ جاں فزا بھی نہیں۔

Check Also

Jahan Gandagi, Wahi Zindagi

By Syed Mehdi Bukhari