Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Manju

Manju

منجو

اسے ہر بات کی جلدی رہتی تھی گو کہ اس کے مزاج میں بلا کا تحمل تھا۔ ساری حیاتی وہ پہلے "تولو پھر بولو" کی پیروکار رہی۔ اب جب ہم اس کی زندگی کو ریوائنڈ کرکے دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا کہ اسے واقعی جلدی تھی۔

آنے کی بھی اور جانے کی بھی۔

چاٹگام کی سرسبز وادی میں واقع ایک چھوٹے سے مکان کے صحن چگتی مرغیاں اور ان مرغیوں کی بیٹ پر پڑے ترچھے قدم کے سبب پھسلتی امی۔ یوں پریگننسی کے ساتویں ہی مہینے اُس کا جنم ہوا۔

وہ ست ماسو تھی، نحیف و کمزور۔ اپنی پیدائش کے مقرر کردہ وقت سے دو ماہ پہلے آ جانے والی بے چین روح۔

میری منجھلی بہن "زرین کمال" جیسے ہم پیار سے منجو کہتے ہیں۔ امی بتاتی تھیں کہ جب وہ صحن میں گریں تو تکلیف کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اتفاق سے اس وقت صلاالدین چچا گھر پر موجود تھے وہ امی کی بگڑتی حالت دیکھ کر بھاگ کر ڈاکٹر صاحبہ (غالباً ڈاکٹر مہرالنسا) کو بلا لائے۔ نو مولود زرین نیلی پڑ چکی تھی مگر زندگی باقی تھی جو ڈاکڑ صاحبہ کی ان تھک کوششوں سے لوٹ آئی۔ ڈاکٹر نے اس کی پیٹھ پر کئی مرتبہ ہاتھ تھپتھپایا، مصنوعی تنفس دیا اور گرم پانی سے اس کی ٹکور کی، تب کہیں جا کر منجو بی لوٹیں۔ امی کا سارا لاڈ پیار زرین کے لیے مختص کہ وہ صحیح معنوں میں اس کی حقدار بھی تھی۔ وہ ہمیشہ امی کا دایاں ہاتھ رہی، امی کی مشیر و دم ساز۔

زرین ہم سے فقط سوا دو سال بڑی تھی۔ بچپن میں میری اور زرین کی بہت لڑائی رہتی تھی اور وجہ ہمیشہ بلی کی مالکانہ حقوق کا قضیہ۔ ڈھاکہ میں زرین اور آپا میں گاڑھی چھنتی تھی اور میرے بچپنے کے سبب دونوں ہمیں منہ لگانے کی روادار نہ تھیں مگر سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد جب وسط تہتر میں ہم لوگ کراچی آئے تو ہم بھی ٹین ایج میں داخل ہو چکے تھے سو میری اور زرین کی بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی بلکہ تب ہم تینوں بہنیں ہی باہم شیر و شکر تھے۔

زرین ڈھاکہ میں آٹھویں جماعت میں تھی اور سقوط کی وجہ سے اسے اپنے دو سال کے ضائع جانے کا شدید قلق تھا۔ اس کا حل اس نے یہ نکالا کہ کراچی میں اس نے ایک ہی ساتھ دس پیپرز کا امتحان دے کر ایک ہی ہلے میں میٹرک پاس کر لیا۔

اپوا کالج سے اس نے انٹر کیا، اسے وہ کالج سخت ناپسند تھا۔ شومئی قسمت کہ اپنے انٹر کے مضامین میں اس نے اردو ایڈوانس بھی رکھ لی جب کہ اردو اس کی سوا ستیاناس تھی۔ اسے ادب سے رتی بھر لگاؤ نہ تھا مگر اسپورٹس کی دلدادہ تھی۔ کرکٹ کی تو شیدا تھی اور ایک ایک بال اور شاٹ سمجھتی بھی۔ ظہیر عباس پر فدا، خاص کر ظہر عباس کا بینڈنا باندھ کر بلا گھماتے ہوئے میدان میں آتے ہوئے سورج کو دیکھنے کی ادا پر سو جان سے نثار۔ ووین رچرڈ اور للی بھی اس کے پسندیدہ کھلاڑی تھے۔ ہمیں کرکٹ کی سمجھ نہ تب تھی اور نہ ہی آج ہے مگر ہم نے زرین کی دلداری میں، اس کے ساتھ کرکٹ کا کوئی میچ مس نہیں کیا۔ ہم دونوں کا میچ دیکھنے کے دوران شور، الاماں الاماں۔ زرین کے جانے کے ساتھ ہی میچ کا سواد بھی گیا۔

وہ ٹی وی ڈراموں سے زیادہ اسپورٹس پروگرام اور کرنٹ افیئرز کی شوقین تھی۔ کمنٹریٹر میں چشتی مجاہد اور افتخار احمد اسے بے حد پسند، منیر حسین کو بے دلی سے سنتی، بقول اس کے اردو کمنٹری سننے میں مزہ نہیں، بالکل پھیکی۔ ماہ نامہ کرکٹر وہ اپنے جیب خرچ سے پابندی سے خریدتی تھی بلکہ عمران خان کا ایک رنگین پوسٹر بھی خرید کر کمرے کی دیوار پر لگا دیا تھا، جو ہمیں سخت نا پسند تھا بلکہ ایک دفعہ تو ہم نے جل کر یہ مشورہ بھی دے دیا تھا کہ زینت امان کا پوسٹر لے آؤ تا کہ دونوں کی کہانی، دیوار پر ہی سہی مکمل تو ہو جائے۔ بےسری تو خیر وہ تھی ہی مگر گانے سننے کا ذوق اور بھی بد تر۔ دنیا میں جو گانے کسی کو پسند نہ آتے وہ منجو کے پسندیدہ ہوتے۔ ریڈیو کے فرمائشی پروگرام میں وہ گانوں سے زیادہ، قصبے اور شہروں عجیب و غریب ناموں کو انجوائے کرتی۔ وہ ہر فن مولا تھی، فیوز جوڑنا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ استری، بلنڈر جوسر تک کو قابل استعمال کر لیتی۔

کراچی ریڈیو سے جمعرات کو پیش کردہ ڈرامے اسٹوڈیو نو کبھی نہیں چھوڑتی تھی۔ اس زمانے میں ہم لوگوں کے پاس معمولی سا ٹرانسسٹر تھا جس کے انٹینے میں تار جوڑ کر ٹی وی ڈرامے سننے کی ترکیب بھی لڑایا کرتی اور یہ کام وہ میری محبت میں کرتی تھی۔ ٹی وی آرٹسٹ میں سلیم ناصر، راحت کاظمی، سائرہ کاظمی اور خالدہ ریاست اس کے پسندیدہ ترین تھے۔ جب وہ بی کام کر رہی تھی تو اس نے اپنے بال بھی خالدہ ریاست کے انداز میں ترشوائے تھے۔ اپنے خم دار چمکیلے بالوں میں اکثر آڑی مانگ اور کبھی کبھار بیچ کی مانگ نکال کر ہیر پن بھی اُسی کی وضع کی لگایا کرتی تھی۔ اس کا پسندیدہ ڈرامہ بندش اور تیسرا کنارہ تھا۔

میٹرک کی چھٹیوں میں زرین نے کریم آباد میں واقع مینا بازار کی اوپری منزل میں لیڈی ٹیلر سے سلائی بھی سیکھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں خاصی صفائی تھی، مگر اسے سلائی میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی۔ کھانا تو ظالم ایسا غضب کا بناتی کہ اس کے ہاتھ کی مسور کی دال پر مرغ مسلم قربان۔ کھانے کی پیش کش کا خصوصی دھیان رکھتی۔ کراکری کلیکشن کی بے حد شوقین تھی۔

انٹر آرٹس میں کرنے کے بعد وہ آرٹس کے مضامین سے اس قدر بے زار ہوئی کہ میری چیتی منجو نے بڑا ہی ڈیرنگ (daring) فیصلہ لیا۔ اس نے پریمیر کالج میں بی کام میں داخلہ لے لیا۔ محلے میں اس کی دوست قیصرہ اور وہ، دونوں ساتھ ہی کالج جاتی، آتیں۔ وہیں کالج میں اس کی دوستی فرحت اور نزہت سے ہوئی۔ فرحت نے تو اس کے ساتھ جامعہ کراچی سے ایم کام کیا مگر نزہت کی زندگی بہت مختصر تھی۔ اس کا اپنڈکس پھٹ گیا تھا اور وہ عین جوانی ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

عجیب بات کہ زرین کی بیشتر دوستیں کم ہی حیات لکھوا کر لائیں تھیں، نزت، شہر بانو اور قیصرہ سب کی سب جلدی ہی راہی عدم ہوئیں۔

زرین نے ایم کام میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ اس زمانے میں ایم کام کی کلاسز جامعہ کراچی کے شعبہ ایم بی اے کی پرانی بلڈنگ کی تیسری منزل پر ہوتی تھی۔ اس کی کلاس میں فقط پانچ لڑکیاں تھیں، مبشرہ، فرحت، افروز اور زرین، پانچویں کا نام ذہن میں نہیں آ رہا ہے، شفیق، ہمایوں اور ابوبکر اس کے اچھے دوست تھے بلکہ ابوبکر کا تو پوائنٹ بھی عزیزہ آباد ہی کا تھا۔

زرین کے اساتذہ اس کی لائق مندی اور ذہانت سے بہت متاثر تھے اور وہ اپنے یونیورسٹی کے دور میں، اپنے شفیق اساتذہ اور پر خلوص دوستوں کی سنگت کے باعث بہت خوش تھی۔ زرین ایم کام فائنل میں تھی تو ہم ایم ایس سی پریویس میں داخل ہوئے۔ وہ ایک سال ہم دونوں بہنوں نے رج کے انجوائے کیا تھا۔ مزے کی بات کہ زرین ہی میری پہلی استاد بھی تھی۔ اسکول میں داخلے سے ایک دن پہلے اُسی نے ہمیں اے، بی سی سکھائی تھی۔ ہم اور میری دوست صوفیہ اکثر بریک میں زرین کے ڈپارٹمنٹ میں چلے جاتے اور پھر ہم لڑکیوں کے قہقہوں سے پورا فلور گونج رہا ہوتا تھا۔ ہم نے زرین کی سنگت میں جامعہ میں اپنا پہلا سال بھرپور گزارا تھا۔

ہم دونوں رات رات بھر پڑھا کرتے تھے۔ نیند کو بھگانے کے لیے رات ایک ڈیڑھ بجے گرم دودھ میں اولٹین گھولی جاتی۔ دودھ بنانے کی ہم دونوں کی باری مقرر تھی۔ زرین بڑے سلیقے سے خوب کھولتا ہوا دودھ، مگ میں انڈیل کر ٹرے پر رکھ کر پیش کرتی۔ میری باری کے دن ہم پھوہڑ، لبڑ سبڑ ہلکا دودھ گرم کرکے مگ اس کے سامنے رکھ دیتے۔ میری اس حرکت سے وہ بہت چڑ جاتی تھی۔ اس کا ہمیشہ یہ شکوہ رہتا کہ تم دودھ کھولاتی کیوں نہیں ہو؟

میرا جواب ہوتا، کیوں کہ تم دودھ ٹھنڈا کرکے پیتی ہو۔

میرے اس جواب پر وہ مزید تپ جاتی اور جھنجلا کر کہتی ہم ٹھنڈا پئیں یا گرم، دودھ ہمیں بالکل بھاپ اڑاتا ہوا چاہئے۔

اب بھلا یہ کیا منطق ہوئی؟

زرین کو اللہ تعالیٰ نے بڑی لگن سے بنایا تھا۔ اس کی صورت و سیرت میں خوبصورتی کا عجیب دل آویز امتزاج و توازن تھا۔ وہ قہقہہ بہت کم لگاتی تھی مگر اس کی مسکراہٹ جان لیوا ہوتی۔ باریک ترشے ہونٹوں پر پھیلی بھلی سی نرم مسکراہٹ جو کبھی کبھی اپنے اندر اسرار بھی لیے ہوتی۔ وہ تھی بھی بہت گہری، اس کے من کا بھید پانا آسان نہ تھا۔ منجو بلا کی سلیقہ مند اور جامہ زیب۔ اس پر ہر رنگ کھلتا تھا مگر پیلا، نارنجی اور فیروزی رنگ شاید بنا ہی اسی کے لیے تھا۔ پیلے رنگ میں زرین، سونے کی ڈلی لگتی تو فیروزی میں اپسرا۔ گھر داری کے طریقے سلیقے اور گھریلو آرائش میں اسے کمال حاصل تھا۔ وہ بہترین انٹیریر ڈیزائنر بھی تھی، سادی سی چیز کو خاص بنانے کے ہنر سے آشنا۔ وہ بہت مستقل مزاج، متوازن طبعیت اورحلیم و ملنسار شخصیت تھی۔ ساری حیاتی میکہ اور سسرال اس کا قدر دان رہا۔ شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ملے جسے منجو سے کوئی شکایت ہو۔ محلہ، پڑوس اور ملازم سب اس کے گرویدہ تھے۔ وہ نیکی اتنی راز داری سے کرتی کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوتی۔ وہ نہ صرف سب کے سکھ، دکھ کی خبر رکھتی بلکہ شریک بھی رہتی۔

اللہ میاں نے اسے بڑی فرصت اور دلداری سے بنایا تھا۔ خاص طور پر اس کے ہاتھ اور پیر۔ اس جیسے حسین ہاتھ پیر ہم نے کسی کے نہ دیکھے۔ ہم لوگ ایک بار کہیں قرآن خوانی میں مدعو تھے۔ جسے جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گیا۔ ان کے گھر لمبی سی گیلری میں چاندنی بچھی تھی ہم وہیں کونے میں سپارہ لے کر پڑھنے بیٹھ گئے۔ زرین شاید اندر کسی کمرے میں تھی۔ گیلری کے ساتھ ہی ان کی بیٹھک تھی۔ بیٹھک کے دروازے پہ جھولتا پردہ فرش سے کوئی ڈیڑھ دو بالش اونچا تھا۔ وہیں صوفے پر کوئی لڑکی بیٹھی تھی جس کے بلا کے خوب صورت پیر میرے ارتکاز میں برابر مخل رہے۔ اللہ معاف کرے میری توجہ سپارے پر کم اور اس لڑکی کے پیروں کی طرف زیادہ تھی۔ ہم یہی سوچ رہے تھے کہ جس لڑکی کے پیر اتنے خوبصورت ہیں وہ خود کس قدر حسین ہوگی! لاکھ لاحول پڑھا، استغفار پڑھا مگر لہراتے پردے کے پیچھے سے چھب دکھاتے پیروں نے ہمیں بے قرار ہی رکھا۔ آخر ہم پانی پینے کے بہانے اٹھے اور ٹہلتے ہوئے بیٹھک کی سمت چلے گئے۔ پردہ ہٹایا اور جلوے نے جہاں نظریں خیرہ کیں وہیں بے تحاشہ ہنسی بھی آئی کہ صوفے پر بیٹھی لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ اپنی "منجو بی" ہی تھیں۔ اس دن صحیح معنوں میں زرین کے پیروں کے حسن کا اندازہ ہوا۔

اس کے بعد سے ہم ہمیشہ زرین کے لیے فلم پاکیزہ کا معروف مکالمہ بولا کرتے تھے۔

"آپ کے پاؤں دیکھے، بہت حسین ہیں انہیں زمین پر مت اتاریے گا"۔

وہ حسین پیر زندگی کے بوجھ سے جلد اکتا گئے اور چار اپریل 2006 کو شام ڈھلے تھک کر رک گئے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت فرمائے آمین ثم آمین

رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسی بے فیض سی رہ جاتی دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

اک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے دہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا
کیا کہوں اے میرے دل میں اتر آنے والے

جانے والے تیرے مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہو گئے تعبیر بتانے والے

ہر زخم کسی اور کے سینے کا سعود
چھیڑ جاتا ہے میرے زخم پرانے والے

Check Also

Dolat Kis Ko Dhundti Hai?

By Muhammad Tayyab Ilyas