Thursday, 02 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Hans Raj Aur Kasbi

Hans Raj Aur Kasbi

ہنس راج اور کسبی

میری اس سے ملاقات بالکل ایک فلمی منظر تھا۔ وہ کریانہ کی دکان کے تھڑے سے اتر رہی تھی اور میں تیزی سے اوپر چڑھ رہا تھا۔ ہماری زور دار ٹکرنے جہاں اس کا خریدا گیا سامان بکھیر دیا وہیں میرا وجود بھی۔ تھڑے سے گرنے باعث اسے گھٹنے میں شدید چوٹ آئی تھی۔ میں نے انسانی ہمدردی کے ناطے اس کا ضائع شدہ سامان دوبارہ مول لے کر اسے اپنی نیلی کلٹس میں اس کے گھر اتارا دیا (مگر کیا یہ واقعی محض انسانی ہمدردی تھی؟) راستے بھر عقب نما آئینہ ایک حیرت کدہ بنا رہا اور ہماری آنکھیں الجھتی رہیں۔ اس کی مے گوں آنکھوں کو درد اور نمناکی نے سحر طراز کر رکھا تھا۔

میں کہ پیشے سے محاسب یا حساب دار پر طبیعت سے شاعر تھا۔ بچ نہ سکا اور تیرِ نظر سے گھائل ہوا۔ ظالم دل کو اس سے کیا غرض کہ کس عمر کے جسّہ میں دھڑکتا ہے، نا مراد صرف رگوں میں خون ہی نہیں پہنچاتا بلکہ پسلی سے پیدا کیے گئے گم شدہ کی شناخت پر بھی مکمل ادراک رکھتا ہے۔ اس سنِ پختگی میں میرا دل مچلا اور ایسا اتھرا ہوا کہ میں تیسرے دن اس کی چوکھٹ پر تھا۔ یہ میرا شعوری فیصلہ ہر گز نہ تھا مگر انجانی کشش مجھے کشاں کشاں اسے کے دروازے تک لے آئی تھی۔

پہلے پہل وہ کہنہ دروازہ نیم وا رہا۔ پھر مکمل کھل گیا اور اس کے ساتھ ہی میرے اندر بھی کئی در وا ہوتے چلے گئے۔ میں لہلہی دوپہر میں گاڑی مرکزی شارہ پر پارک کرتا اور اپنی پی کیپ کو مزید نیچے سرکا کر ماسک پہن لیتا۔ کووڈ کے دین ماسک بھی بہروپ دھارنے میں بہت معاون۔

اس کا دو کمروں پر مشتمل مختصر سے ساز و سامان سے مزین گھر بڑا ہی صاف ستھرا رہتا۔ اس کا گھر مختصر تھا مگر بکھرا ہوا نہیں، سلیقے سے سمٹا ہوا جیسے غربت نے شائستگی سے رہنا سیکھ لیا ہو۔ ویسے بھی وہاں جھاڑنے پھٹکنے کو تھا ہی کیا؟

ایک کمرے میں ڈب کھڑبی مسہری اور ایک بے رنگی لوہے کی الماری جس میں لگا شیشہ بالکل دھندلا چکا تھا، اس میں عکس سے زیادہ وقت کی دھول نظر آتی۔ دوسرے کمرے میں چار مونڈھے اور ایک دری، البتہ اس میں ایک ٹرانسسٹر ضرور اضافی جو ماہ لقا کے ساتھ ساتھ گردش کرتا رہتا۔ نہیں نہیں! ماہ لقا اس کا اصلی نام نہیں تھا، یہ تو میں اسے اس نام سے پکارتا تھا۔ ماہ لقا بہت کم گو تھی اس کے سراپے پہ ایک دبیز مگر آمادہ چپ چھائی رہتی، جس میں نہ کوئی سوال ہوتا اور نہ ہی مطالبہ۔ جو سچ پوچھو تو اسے نطق کی ضرورت بھی کب تھی؟

جہاں بدن بولے اور آنکھیں جہانوں کی سیر کرا دیں وہاں الفاظ برتنا، نری فضول خرچی ہی مانی جائے گی۔ اس کے سادے سے کھانے لذت کا کیا کہنا! بھری دوپہری میں اس کے ساتھ دری پر بیٹھ کر ابلے چاول، بے بگھاری دال، پاپڑ اور کچلے لہسن و لال مرچ کی چٹنی کے آگے کباب جی اور بندو کے تکّے، سب پھیکے۔

میں جو عادی شکاری تھا جانے کیسے مگر اب اس کا اسیر ہوتا جا رہا تھا یا شاید مجھے اس کی لت لگ چکی تھی۔

اس کا پلمبر میاں، اجمل اس کے جوڑ کا ہرگز نہ تھا پر برادری کی اجارہ داری میں ٹاٹ میں کمخواب کا پیوند نہایت آسانی سے لگ جاتا ہے۔ ابھی محبت کی راگنی پوری طرح سے چھڑی بھی نہ تھی کہ ہماری کہانی بھی موڑ مڑ گئی کہ بھلا کہانیاں کب سیدھی چلتی ہیں؟ وہ نہ صرف موڑ لیتی ہیں بلکہ بسا اوقات توڑ بھی دیتی ہیں۔

جانے دیواریں بول اٹھیں یا دروازے نے چغلی کی مگر تاڑتی نظروں نے بھید پا لیا۔ میں بے نقاب ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا پر میں بھاگ نکلا، شاطر کھلاڑی جو ٹھہرا۔

ہاں، میں کچے آنگن کی دیوار پھاند کر بھاگ نکلا!

اس وقت، اس جگہ، اس لمحے سے۔

اور شاید خود سے بھی۔

میں نے اس کی کرب ناک چیخیں سنی مگر مڑ کر نہ دیکھا۔

دو دن تو اس دہشت نے مجھے بخار میں جکڑے رکھا کہ اگر میں پکڑا جاتا تو کیا ہوتا؟

سچی بات ان دو دنوں میں مجھے، ماہ لقا مطلق نہ یاد آئی۔ تیسرے دن اس کا خیال آیا اور پھر مسلسل ہی آتا رہا یہاں تک کہ آٹھویں دن میں نے ہمت مجتمع کی اور خوب بابو صاحب بن کر اس کی گلی میں گیا۔ آج میرے سر پر نہ پی کیپ تھی اور نہ ہی ماسک۔

ماہ لقا کی گلی کے شروع ہی میں ایک بہت چھوٹی سی پرچون کی دکان تھی۔ اس کے مالک سے میں نے اجمل پلمبر کا پتہ پوچھا۔

فق دکاندار نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میں نے اجمل کا نہیں بلکہ کسی بھوت کے گھر کا پتہ دریافت لیا ہو۔ اس نے ہونٹوں کے کنارے سے تمباکو تھوک کر کہا۔

آپ کو خبر نہیں؟

میرے حلق میں کچھ اٹک سا گیا۔ کیا؟

اُسے تو جیل ہوگئی۔

جیل مگر کیوں؟

اجی حضت! ہفتے دس دن پہلے محلے میں بڑا ہی فضیحتا مچا۔ اجمل کی جورو سے کوئی چوری چھپنے ملنے آتا تھا، محلے والوں کو شک تو تھا سو اُس دن انہوں نے دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی ٹھانی۔ غیض سے بھرے محلے والوں نے اجمل کے گھر کا دروازہ توڑا دیا اور غیرت کے نام پر بڑا ہنگامہ ہوا!

میرے کانوں میں سیٹیاں سی بجنے لگیں۔ اور۔۔ اور۔۔ اس کی بیوی؟

وہ ہنسا، ایک زہر آلود، کمینی ہنسی۔

بیوی؟ کون سی بیوی؟

وہ تو۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑ کر نفرت سے پیک تھوکی اور کہا "وہ تو کسبی تھی صاحب، کسبی!"

میرے قدم جیسے زمین نے جکڑ لیے۔

بڑی ہی ڈھیٹ ہڈی تھی سالی، اجمل نے بیوی سے اس کے آشنا کا نام اگلوانے کی سر توڑ کوششیں کی۔ اس نے اپنی بیوی پر مسلسل چھ سات گھنٹے تک بدترین تشدد کیا۔ بیوی کے سارے نٹ بولٹ کھول ڈالے، ہتھوڑی سے اس کی ہڈیاں چورا چورا کر دیں مگر اس چھنال نے۔ اپنے عاشق کا نام پھوٹ کر نہ دیا۔ رات گئے تک محلے میں اس کی دل دوز چیخیں گونجتی رہی پر بھائی کسی کی زنانی کے معاملے میں کوئی پرایا کیسے بولے؟

اجمل پر قتل کا کیس ہے صاحب!

میں نے بے اختیار دکان کے ساتھ لگے کھمبے کا سہارا لیا۔ دنیا جیسے ایک لمحے کو رک سی گئی تھی

کس کا قتل؟

میری آواز جسے کسی کھارے کنوے سے آئی۔

دکاندار نے آنکھیں سکیڑ کر غور سے مجھے دیکھا، "آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں صاحب؟"

دکاندار کی آواز شاید کسی اور سیارے سے آ رہی تھی۔

مجھے شدت سے ابکائی اور میں نے جواب دینے کے بجائے سڑک کی طرف دوڑ پڑا۔

وہیں جہاں میری نیلی کلٹس کھڑی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے بے اختیار عقب نما آئینے میں دیکھا، وہاں۔۔ وہاں۔۔ اس کی آنکھیں تھیں، وہی صحر طراز آنکھیں۔ آج بھی ان میں وہی نمی اور وہی خاموش احتجاج تھا!

میں نے پلکیں جھپکیں اور لمحے بھر کو سب غائب ہوگیا۔

تب مجھے احساس ہوا کہ میں اسے بھول کیوں نہیں پا رہا تھا؟

کیونکہ میں اسے چھوڑ کر بھاگا ہی نہیں تھا۔ میں تو وہیں مر گیا تھا، اسی دن، اسی پل۔

اب میں اپنی ہی کہانی کا زندہ گواہ بن کر بھٹک رہا ہوں۔ ایک ایسی گواہی جو کبھی عدالت میں پیش نہ ہو سکی مگر میری روح کے کٹہرے میں مستقل گونجتی رہے گی کہ میں اب شکاری نہیں بلکہ گھائل شکار تھا۔

Check Also

Khush Kar Ditta e Dhol Sipahiya

By Dr. Abrar Majid