Thursday, 14 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Birhan

Birhan

برہن

میں نے ساتویں منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ آہستگی سے کھولا۔ گیلری میں مدہم روشنی تھی، کنسول پر رکھے پیالے میں گھر کی چابی رکھتے ہوئے میں نے گہری سانس لی۔ پیالے کے ساتھ ہی تھائی لینڈ سے لائی ہاتھی دانت کی طشتری میں چنبیلی اور رات کی رانی کے پھول مہک رہے تھے۔

سمن، میری بیوی خوشبوؤں کی شیدائی مگر ساتھ ہی شدت سے ماحول دوست بھی۔ یہ روم فریشنرز یا باتھ روم کی صفائی کے لیے بھی کیمیکلز کے استعمال کے سخت خلاف۔ میرے گھر میں کسی بھی قسم کا کوئی کیمیکل نہیں آتا۔ اس ظالم کا بس چلے تو مجھے بھی پرفیوم اور بالوں پر جیل استعمال نہ کرنے دے۔ میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے اور کہا، جانم گھر تمہاری راج دھانی ہے سو جو چاہے کرو مگر خدارا خاک سار کو بخش دو! اب میں عطر لگا کر تو دفتر جانے سے رہا! ویسے وہ بھی کون سے کیمیکل فری ہوں گے؟

ہماری خوابگاہ میں موتیے کی مدھر خوشبو رچی ہوئی تھی۔ میں نے بے خبر سوتی ہوئی سمن کو دیکھا۔ اسے دیکھ کر میرا جی دھک سے رہ گیا، یہ اتنی زرد اور کمزور کیوں؟

کب، کیسے؟

بے شک میں ہفتے بعد گھر لوٹا ہوں مگر ہم برابر اسکرین پر باتیں کرتے رہے ہیں، کل پرسو تک تو یہ ایسی زرد و نڈھال نہ تھی؟

پچھلے ماہ ہی ہم نے دھوم دھام سے شادی کی دسویں سالگرہ منائی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مطمئن ہیں۔ خوشی تو خیر فرٹیلیٹی رپورٹ کا لفافہ کھلتے ہی نابود ہو چکی تھی کہ ہماری زندگیوں میں اولاد کی نوید نہیں۔ یہ بہت بڑا دھچکہ تھا، خاص کر میرے لیے کہ اس کمزوری پر میری مردانگی شرمسار تھی۔ بہت وقت لگا ہم دونوں کو سنبھلنے میں۔ میں نے سمن کو بندھن سے آزاد کرنا چاہا مگر اس نے پنجرے کی مینا رہنے کو ترجیح دی۔ میری خود غرض انا نے بھی زیادہ اصرار نہ کیا کہ معاشرے میں بھرم بنا رہے۔ باوجود میرے اصرار، سمن بچہ گود لینے کی ہامی نہ تھی سو یہ باب ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہوا۔ زندگی روٹین پر چلتی رہی۔ سمن کو بہترین لائف اسٹائل دینے کے غرض سے میں نے اپنے آپ کو کام میں غرق کر لیا، نتیجتاً مہینے میں دس بارہ دن، میں سفر میں رہتا۔ سمن نے کٹی پارٹیز اور شاپنگ سے اپنے آپ کو بہلائے رکھتی۔

گڈ مارننگ جانِ من!

میں نے قونیہ سے لیا گیا چاندی پر عقیق کا منقش حسین کنگن سمن کی گود میں رکھا۔

شکریہ، کیسا رہا تمہارا ٹرپ؟

اس نے کنگن پر ایک سرسری نظر ڈال کر اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

تم بھی چلتی ناں، اس دفعہ کے ٹرپ میں ڈیڑھ دن کہ لیے قونیہ بھی شامل تھا۔ وہیں جلال الدین رومی کے مزار کے احاطے کے باہر لگے بازار سے تمہارے لیے یہ کنگن لیا تھا۔

کیا کرنا ہے دنیا دیکھ کر؟

بہت دیکھ لی۔ لو کافی پیو۔

ناشتا ابھی کرو گے یا ٹھہر کر؟ ویسے تمہیں تو منگل کے دن آنا تھا اتوار کو کیسے آ گئے؟

اس نے گرما گرم کافی کا مگ مجھے تھمایا۔

بس دل بے طرح وحشت زدہ ہوا تو میں نے بقیہ کام ولید کے حوالے کرکے گھر کی راہ لی۔

تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا سمن؟

تم بہت کمزور لگ رہی ہو!

میں نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا؟

میں۔۔ میں۔۔ بالکل ٹھیک ہوں۔ مجھے کیا ہونا ہے! فضول کا وہم مت پالو۔

سمن نے اپنا کافی کا مگ اٹھایا اور ٹیرس کی طرف چلی گئی۔ میں اس کی پشت پر لہراتے، خوب صورت چمکیلے بال دیکھتا رہا۔ وقت سمن سے پہلو بچا کر جبکہ مجھے روندتا ہوا گزر رہا تھا۔ اپنے چھدرے بالوں کو ہاتھوں سے سنوار کر میں بھی اس کے پیچھے پیچھے ٹیرس پر آ گیا۔ ہمارا ٹیرس بھی گویا منی ایمیزون ہی تھا۔

کیا خیال ہے آج لانگ ڈرائیو پر نہ چلیں!

لانگ ڈرائیو پر!

مگر۔۔ مگر۔۔ میرا تو آج کا سارا شیڈیول پہلے سے طے ہے۔ اب لاسٹ منٹ میں تبدیلی سب کے لیے ناگواری کا سبب ہوگی۔

سمن نے بکھرے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔

بات تو تمہاری درست، چلو پھر میں کچھ دفتری کام نبٹا کر اپنی نیند پوری کرتا ہوں۔

سمن گزرے ہفتے، مجھے شدید الجھی اور بکھری محسوس ہوئی تھی، سو آج شب میں نے اس کے پسندیدہ ریستوران میں ٹیبل بک کروا دی۔ شاید بدلا ماحول کھل کر گفتگو میں معاون ہو۔

اتوار کا سست دن اور اسکرین پر چلتا سی این این۔

میں اپنے لیے فریش کافی بنا رہا ہوں، تم بھی لو گی ناں!

نیکی اور پوچھ پوچھ۔

یہ کہتے ہوئے سمن نے ٹی وی آف کیا اور ٹیرس کی طرف چل دی جہاں مالی پودوں کی کٹائی چھٹائی میں مصروف تھا۔

کافی کا مگ اسے تھماتے ہوئے میں پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔ بادلوں کی آنکھ مچولی نے موسم کی حدت بہت کم کر دی تھی۔ ابھی میں اسے شام کے پروگرام کے متعلق بتانے ہی والا تھا کہ میرا فون بج اٹھا، میں فون لینے لیونگ روم میں آیا۔

ولید سے باتیں کرتے ہوئے، میری نظریں سلائڈنگ دروازے کے پار کھڑی سمن پر پڑی۔ اس نے کافی کا مگ منڈیر پر رکھا

اور۔۔ اور۔۔ بالکونی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔

س۔۔ م۔۔ ن۔۔ سمن

او میرے خدا سمن! میں پہلے بالکونی پھر لفٹ کی طرف بھاگا۔

نیچے کمپاؤنڈ میں لوگوں کا مجمع لگا تھا اور ان کے بیچ میری سمن مڑی تڑی گڑیا کی طرح خون کے تالاب میں۔۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہیں رہا۔ ہسپتال کے بستر پر مجھے ہوش آیا اور میرے بدترین خدشات کی تصدیق ہوگئی۔ یہ کیا کیا سمن نے؟ کیوں؟

پولیس نے مجھے بھی شامل تفتیش کیا، میں دہرے دکھ سے گزر رہا تھا۔ تدفین ہوگئی اور تعزیت کے لیے آنے والے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے مگر میرے سوال وہیں کے وہیں تھے۔ کیوں، کیوں؟

سمن کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ نے اب سارے سوالات ختم کر دئیے۔

اس میں تحریر ایک جملہ مجھے توڑ گیا۔

مرحومہ تین ماہ کے حمل سے تھیں۔۔

Check Also

Pakistan Mein Inqilab Kaise Aaye Ga?

By Mohsin Khalid Mohsin