Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Hussain Awan
  4. Shab e Barat Aur 14 Shaban

Shab e Barat Aur 14 Shaban

شبِ برات اور 14 شعبان

قرآن مجید کی روشنی میں 14 شعبان یا جسے عوامی طور پر شبِ برات کہا جاتا ہے اس کے بارے میں سب سے پہلی اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں نہ تو 14 شعبان کا کوئی ذکر موجود ہے، نہ شبِ برات کی اصطلاح پائی جاتی ہے اور نہ ہی اس رات کو مغفرت، تقدیر کے فیصلے، عمر و رزق کی تقسیم یا کسی خاص اجتماعی عبادت سے جوڑا گیا ہے۔

قرآن جس واحد رات کو واضح طور پر بابرکت، فیصلۂ امور اور نزولِ قرآن کے ساتھ جوڑتا ہے وہ لیلۃ القدر ہے جیسا کہ سورۃ الدخان آیات 3 اور 4 میں فرمایا گیا اِنَّا اَنُزَلُنَاهُ فِيُ لَيُلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنُذِرِيُنَ فِيُهَا يُفُرَقُ كُلُّ اَمُرٍ حَكِيُمٍ اور سورۃ القدر میں یہ وضاحت کر دی گئی کہ یہ رات رمضان میں ہے اور ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے مقابلے میں شعبان کی کسی رات کے بارے میں قرآن مکمل طور پر خاموش ہے، یہی خاموشی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ 14 شعبان کو شبِ برات کے نام سے موسوم کرنا قرآن کی تعلیم نہیں بلکہ بعد کے ادوار کی پیداوار ہے۔

تاریخی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ابتدائی تین صدیوں میں نہ صحابہ، نہ تابعین اور نہ تبع تابعین کے ہاں شبِ برات کے نام سے کوئی دینی تصور موجود تھا، نہ مکہ و مدینہ میں اس رات کو کسی خاص نام یا عبادت سے پہچانا جاتا تھا، تاریخ اور اسلامی تہذیب کے محققین کے مطابق سب سے پہلے 14 شعبان کی رات کو ایک مخصوص نام اور رسومات کے ساتھ منانے کا تصور عباسی دور کے اواخر میں عراق اور خراسان کے بعض علاقوں میں سامنے آیا جہاں فارسی اور قبل از اسلام مذہبی روایات پہلے سے موجود تھیں۔

فارسی تہذیب میں سال کے مخصوص دنوں میں ارواح، مغفرت اور فیصلوں سے متعلق تصورات رائج تھے جنہوں نے اسلامی معاشرے میں بتدریج اثر ڈالا، یہی وجہ ہے کہ لفظ برات بھی عربی نہیں بلکہ فارسی الاصل سمجھا جاتا ہے جس کا مفہوم نجات یا آزادی کے کاغذ سے لیا گیا، بعد ازاں یہ تصور ایران، خراسان اور پھر برصغیر تک پھیلتا چلا گیا جہاں صوفی روایت، عوامی وعظ اور ثقافتی میلانات نے اسے مزید مضبوط کیا۔

اس تاریخی پس منظر کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حجاز، مکہ، مدینہ اور ابتدائی فقہی مراکز میں اس رات کو کبھی کوئی خاص دینی حیثیت حاصل نہیں رہی، حدیث کی طرف رجوع کیا جائے تو بعض کتب حدیث میں نصف شعبان کی رات کے حوالے سے چند روایات ضرور ملتی ہیں جن میں یہ ذکر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے اور مشرک و کینہ رکھنے والے کے سوا سب کو معاف کر دیتا ہے، یہ روایات سنن ابن ماجہ، مسند احمد اور طبرانی میں مختلف اسناد کے ساتھ منقول ہیں مگر محدثین کے نزدیک ان تمام روایات کی اسناد کمزور ہیں۔

امام بخاری نے واضح الفاظ میں کہا کہ نصف شعبان کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں، امام ابن حزم نے ان روایات کو ناقابلِ حجت قرار دیا، امام نووی اور امام ذہبی نے بھی ان پر اعتماد نہیں کیا، شیخ البانی نے متعدد طرق جمع کرنے کے باوجود یہ نتیجہ نکالا کہ ان سے کوئی مستقل دینی حکم اخذ نہیں کیا جا سکتا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی روایت میں بھی تقدیر لکھے جانے، رزق کی تقسیم، موت و حیات کے فیصلے، اجتماعی عبادت، مخصوص نمازوں، قبرستان جانے، چراغ جلانے یا مٹھائی بانٹنے کا کوئی ذکر موجود نہیں، یہ تمام تصورات بعد کے ادوار میں عوامی مذہبیت، ثقافتی اثرات اور غیر مستند واعظانہ بیانیے کے ذریعے دین کا حصہ بنا دیے گئے۔

فقہی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ چاروں ائمہ نے اس رات کو کبھی دین کا خاص حصہ قرار نہیں دیا، امام مالک سے جب نصف شعبان کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اہل مدینہ اس رات کو کسی خاص عبادت کے لیے نہیں جانتے، امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی اس رات کو مخصوص عبادت یا رسم کی رات بنانا ثابت نہیں، امام شافعی نے اس باب میں کسی مضبوط دلیل کے نہ ہونے کی نشاندہی کی، امام احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر نفل عبادت کرے تو یہ عمومی عبادت کے دائرے میں آتا ہے لیکن اجتماعی طور پر اس رات کو خاص سمجھنا درست نہیں، امام ابن تیمیہ نے بھی یہی اصول بیان کیا کہ نصف شعبان کے بارے میں بعض آثار ہیں مگر کوئی مخصوص عمل یا جشن ثابت نہیں، شاہ ولی اللہ دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ میں یہ واضح کیا کہ دین میں وہی چیز معتبر ہے جس کی اصل قرآن یا سنت متواتر میں ہو۔

قرآن خود بار بار اس بات سے خبردار کرتا ہے کہ دین میں اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے جیسا کہ سورۃ الشوریٰ آیت 21 میں فرمایا اَمُ لَهُمُ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمُ مِّنَ الدِّيُنِ مَا لَمُ يَاُذَنُ بِهِ اللہُ اور سورۃ الاعراف آیت 3 میں حکم دیا گیا اتَّبِعُوا مَا اُنُزِلَ اِلَيُكُمُ مِّنُ رَّبِّكُمُ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنُ دُوُنِهٖ اَوُلِيَاءَ، اس پورے تناظر میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ 14 شعبان کی رات کو شبِ برات کے نام سے موسوم کرنا، اس سے مخصوص عقائد وابستہ کرنا اور اسے دین کا لازمی حصہ بنانا نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ صحیح حدیث سے اور نہ ہی ائمہ امت کے عمل سے، اگر کوئی شخص اس رات میں عمومی نفل، دعا یا توبہ کرتا ہے تو یہ اس کی ذاتی عبادت ہے جس کی اجازت ہر وقت ہے لیکن اسے اللہ اور رسول کی طرف منسوب کرکے ایک مقرر دینی رات بنانا وہ اضافہ ہے جس سے قرآن نے روکا ہے۔

علمی دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ شبِ برات کے بارے میں عوامی تصورات کو دینی حکم کے بجائے تاریخی اور ثقافتی روایت کے طور پر دیکھا جائے اور دین کو اسی سادگی کے ساتھ رکھا جائے جس سادگی کے ساتھ قرآن نے اسے پیش کیا، مزید یہ کہ یہ امر بھی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ چودہ شعبان کی رات کو شَبِ برات کے نام سے باقاعدہ طور پر چند مخصوص ممالک اور خطّوں، خصوصاً برِصغیر (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش)، بعض معاشروں میں منایا جاتا ہے، جہاں اس رات آتش بازی، حلوہ و مٹھائی کی تقسیم، قبرستانوں میں اجتماعی حاضری، مخصوص نوافل و اجتماعی عبادات، گھروں میں چراغاں، بچوں میں تحائف کی تقسیم اور اسے مقدر لکھے جانے کی رات سمجھ کر خاص رسومات ادا کی جاتی ہیں، حالانکہ ان رسومات اور اس طرز کے اہتمام کا نہ تو قرآنِ مجید میں کوئی صریح ثبوت موجود ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ سے صحیح اور متواتر احادیث میں اس شکل کا کوئی عمل ثابت ہے، جس سے یہ بات مزید تقویت پاتی ہے کہ یہ اعمال وقت کے ساتھ ثقافتی، علاقائی اور سماجی اثرات کے تحت دین کا حصہ سمجھ لیے گئے، جبکہ اصل دین میں ان کی حیثیت محلِّ نظر ہے۔

اس تحقیقی مضمون کے اختتام پر یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ اس تحریر کا مقصد کسی فرد کے عقیدے کو غلط ثابت کرنا، کسی مسلک یا فرقے کی حمایت یا مخالفت کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں بلکہ قرآن و سنت اور مستند اسلامی تاریخ کی روشنی میں علمی تحقیق کے ذریعے حقائق کو سامنے لانا ہے تاکہ دین کو اسی اصل، سادہ اور خالص صورت میں سمجھا جا سکے جس صورت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے پیش فرمایا، اختلافِ رائے کو علمی دائرے میں رکھتے ہوئے تحقیق کا دروازہ کھلا رکھنا ہی امت کی فکری صحت اور دینی امانت کا تقاضا ہے۔

Check Also

Dindim

By Rao Manzar Hayat