Sunday, 25 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Hussain Awan
  4. Beroon e Mulk Pakistanio Ke Masail

Beroon e Mulk Pakistanio Ke Masail

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل

سلطنتِ عمان اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے برادرانہ اور احترام پر مبنی رہے ہیں۔ عمان نے ہمیشہ پاکستانی افرادی قوت اور تاجروں کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن حالیہ ایک سال سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ کے حصول میں درپیش رکاوٹیں دراصل عمانی حکام کی نہیں، بلکہ حکومتِ پاکستان کی سفارتی نااہلی کا نتیجہ ہیں۔ حکومتِ پاکستان ویزہ سے متعلق عمانی حکام کے تحفظات کو دور کرنے اور انہیں مطمئن کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

بھارت نے اپنے شہریوں کے لیے عمان میں کام کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے حکومتی سطح پر ایسے میکانزم بنائے کہ وہاں کے حکام کو کوئی تحفظات نہ رہیں۔ یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ جب ایک ملک کی قیادت اپنے شہریوں کے مفادات کے لیے سنجیدہ ہو، تو وہ تمام تر تحفظات دور کرکے راستے نکال لیتی ہے۔ اس کے برعکس، ہماری حکومت صرف سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہے۔

حکومتِ پاکستان کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر وہ سلطنتِ عمان میں پاکستانی شہریوں کو درپیش ویزہ سے متعلق معاملات کو مؤثر انداز میں حل کروانے میں تاحال ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس دوران پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے عمان میں تجارت کے فروغ کے لیے قانونی طریقے سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں رجسٹرڈ کروائیں، تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل کیں، تجارتی اجازت نامے حاصل کیے اور بعض نے دفاتر، ریسٹورنٹس اور دکانیں ماہانہ کرایہ پر بھی لے لیں، لیکن ویزہ کے اجرا میں رکاوٹ کے باعث وہ آج تک اپنے کاروبار کا عملی آغاز نہیں کر سکے۔

یہ افراد شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ بغیر کسی آمدن کے کرایہ، سرکاری فیسیں اور دیگر اخراجات مسلسل ادا کر رہے ہیں اور ان کی تمام تر امیدیں حکومتِ پاکستان سے وابستہ ہیں کہ شاید کوئی سنجیدہ سفارتی اقدام ان کے مسائل کا حل بن سکے، مگر تاحال انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔

یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومتِ پاکستان ایک طرف ملک کے اندر اپنے شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے اور دوسری جانب جو افراد بیرونِ ملک جا کر محنت اور قانونی طریقے سے معاشی بہتری حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں بھی مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہوائی اڈوں پر آف لوڈ کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے جو عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے تشخص کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

بیروزگاری، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے عام شہری کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور جب روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونا فطری عمل بن جاتا ہے، ایسے حالات میں ریاست کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے باعزت ذریعہ معاش کے دروازے کھولے، مگر بدقسمتی سے حکومتِ پاکستان کی موجودہ پالیسیوں میں ایسی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی، یہی وہ مقام ہے جہاں یہ مقولہ پوری طرح صادق آتا ہے کہ مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے اور بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی۔

قابلِ توجہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سلطنتِ عمان میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے جاری ہیں، نئے شہر، رہائشی بستیاں، جدید سڑکیں، پل، بندرگاہیں، صنعتی علاقے اور سیاحتی مراکز تعمیر کیے جا رہے ہیں جن کے لیے بڑی تعداد میں ہنر مند، نیم ہنر مند اور غیر ہنر مند افرادی قوت درکار ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان مستری، مزدور، الیکٹریشن، پلمبر، ویلڈر، ڈرائیور اور دیگر فنی شعبوں سے وابستہ ہیں جو ان منصوبوں میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، اگر حکومتِ پاکستان بروقت اور سنجیدہ سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرے تو نہ صرف لاکھوں پاکستانی خاندانوں کو روزگار میسر آ سکتا ہے بلکہ ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس مسلسل تاخیر اور عدم توجہی اس سنہری موقع کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، یہ صورتحال سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے کیونکہ اگر ریاست نے بروقت اور ٹھوس سفارتی حکمتِ عملی اختیار نہ کی تو بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کا معاشی وجود شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتِ پاکستان رسمی بیانات اور وقتی اعلانات سے آگے بڑھے، عمانی حکام کے ساتھ بامقصد اور نتیجہ خیز بات چیت کرے اور اپنے شہریوں کے لیے وہی عملی سہولتیں اور تحفظ یقینی بنائے جو دیگر ممالک اپنی افرادی قوت اور سرمایہ کاروں کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ پاکستانی وزرا اور اعلیٰ حکام کے عمان کے دورے تو ہوئے مگر نیم ہنر مند، غیر ہنر مند اور تجارتی ویزوں کے حوالے سے کوئی جامع اور واضح لائحہ عمل سامنے نہ آ سکا اور یہ دورے عوامی مسائل کے حل کے بجائے رسمی نوعیت تک محدود نظر آئے۔

دوسری جانب پاکستان کی اعلیٰ قیادت اندرونی سیاسی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش میں اس قدر الجھی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں اور پارلیمان کے فورم سے عوامی فلاح کے بجائے سیاسی تنازعات کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کا براہِ راست نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، بیرونِ ملک موجود پاکستانی سرمایہ کاروں اور محنت کشوں کے مسائل کو ترجیح دے اور عمان میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی شمولیت کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے، بصورتِ دیگر یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف بیرونِ ملک بلکہ اندرونِ ملک بھی طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

Check Also

Punjab Mein Gas Bohran: Sardi, Bebasi Aur Riyasti Khamoshi

By Noorul Ain Muhammad