America, Iran Aur China: Mashriq e Wusta Mein Taqat Ke Tawazun Ka Nazuk Marhala
امریکہ، ایران اور چین: مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کا نازک مرحلہ
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ کو عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں عسکری نقل و حرکت، سفارتی بیانات، اقتصادی تعلقات اور پسِ پردہ اسٹریٹجک سرگرمیاں ایک نئے طاقت کے توازن کی واضح عکاسی کر رہی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں امریکہ نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز USS ابراہم لنکن اور دیگر جنگی بحری اثاثے خطے کے قریب تعینات کیے ہیں، جسے بظاہر ایک دفاعی اقدام قرار دیا جا رہا ہے تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ خطرات کے لیے تیاری کی جا سکے، تاہم عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی کا مقصد صرف ایران کو پیغام دینا نہیں بلکہ خطے میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک حقیقتوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان طاقت کے نئے توازن کا جائزہ لینا بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین نہ صرف اقتصادی بلکہ سفارتی اور تکنیکی سطح پر ایران کے ساتھ مضبوط شراکت داری قائم کر چکا ہے۔
چین اور ایران کے درمیان 25 سالہ جامع تعاون کے معاہدے کو عالمی سیاست میں سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے، جس کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، تجارت، ٹیکنالوجی اور ممکنہ طور پر دفاعی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس معاہدے کے تناظر میں یہ حقیقت بھی عالمی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے تیل کا بڑا حصہ چین خرید رہا ہے، جس سے نہ صرف ایران کی معیشت کو سہارا مل رہا ہے بلکہ چین کی توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو رہی ہیں، یہی اقتصادی باہمی انحصار واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے کیونکہ یہ امریکی دباؤ کی پالیسی کو کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔
اسی تسلسل میں چین کی جانب سے تین برس قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرنا بھی اس امر کی علامت ہے کہ بیجنگ اب محض ایک معاشی طاقت نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کے اثرات خلیجی خطے کے امن و استحکام، بین الاقوامی تجارت اور عالمی توانائی کی ترسیل پر مرتب ہو رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکہ عسکری لحاظ سے اب بھی خطے میں سب سے بڑی قوت ہے، تاہم ایران کے پاس ایسی غیر روایتی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں، جن میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی، کروز میزائل، ساحلی دفاعی نظام، خودکش ڈرونز اور علاقائی اتحادی نیٹ ورک شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ جدید جنگ کا ایک اہم پہلو خلا میں جاری نگرانی اور معلومات کی برتری ہے، جہاں چینی اور روسی فوجی مصنوعی سیارے خطے میں ہونے والی عسکری سرگرمیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کر رہے ہیں، جس کے باعث امریکی افواج کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں رہا، یہی عنصر طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہا ہے اور واشنگٹن میں پائی جانے والی محتاط سوچ کو تقویت دے رہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ایران پر کسی براہِ راست حملے کی صورت میں ردِعمل صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات خلیج، بحیرۂ عرب، عالمی توانائی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے حساس پانی کے راستوں تک پھیل سکتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے عالمی اہمیت کے حامل راستے کی سلامتی عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے امریکہ بیک وقت عسکری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستے بند نہیں کرنا چاہتا، جبکہ ایران بھی اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ جارحیت نہیں بلکہ خودمختاری کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔
چین کا کردار اس پورے منظرنامے میں ایک توازن پیدا کرنے والے عنصر کے طور پر سامنے آ رہا ہے کیونکہ بیجنگ نہ صرف ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ خطے میں استحکام، تجارت، توانائی کی ترسیل اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ کو بھی اپنے طویل المدتی مفادات سے جوڑ رہا ہے، مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض عسکری طاقت فیصلہ کن نہیں رہی بلکہ معاشی شراکت داری، ٹیکنالوجی، سفارت کاری، معلومات کی برتری، بین الاقوامی تعاون اور عالمی سطح پر حکمت عملی بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے اور یہی وہ عوامل ہیں جو امریکہ، ایران اور چین کے درمیان تعلقات کو ایک نازک مگر فیصلہ کن دوراہے پر لے آئے ہیں، جہاں کسی بھی غلط اندازے کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اس لیے موجودہ حالات میں صرف فوجی تیاری اور کشیدگی کی رپورٹنگ کافی نہیں بلکہ اس کی گہرائی میں تجزیہ، اقتصادی اثرات، علاقائی استحکام، توانائی کی ترسیل، دفاعی صلاحیتیں، سفارتی تعلقات اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک حکمت عملی کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کے اثرات کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے اور عالمی برادری، خطے کے ممالک اور متعلقہ حکام بروقت اقدامات کر سکیں، یہ رپورٹ اسی تجزیاتی نقطہ نظر اور موجودہ حالات کی گہرائی میں مشاہدات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

