Chirya Ka Bacha Aur Chugga
چڑیا کا بچہ اور چگّا

پانی کو ترستی سوکھی پیاسی زمین کو کئی روز سے برستی رم جھم نے سبز مخملی قالین میں تبدیل کر دیا ہے۔ پیڑ، پودے، بیل، بوٹے سب نئے پھول پتوں سے آراستہ کھلے کھلے اور شاداب نظر آرہے ہیں۔ پورے پارک کا نقشہ چند ہی روز میں بدل گیا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ میں موسیقی دوبارہ عود کر آئی ہے۔
آج صبح سے موسلا دھار بارش نے تمام پارک میں جل تھل ایک کر دیا ہے۔ جھٹپٹا چھانے کو ہے۔ بدلی کے پردے میں چھپا چاند آہستہ آہستہ جھانک کر زمین کو اپنی چاندنی کا لمس دینے کو بے تاب۔۔ کہ موسم نے یک دم پینترہ بدلا اور آن ہی آن میں آسمان پر گھنے بادل دیو کی طرح چھاتے چلے گئے۔ سمے سے پہلے ہی رات کی سیاہی چھا گئی۔ سبک رو ہوا بھی تند و تیز طوفانی جھکڑوں میں بدل گئی۔ درخت کی نرم و نازک ٹہنییاں لہرا لہرا کر جھولنے لگیں، کچھ ٹوٹ کر بکھر گئیں۔
موسم کے غضب ناک تیور دیکھ کر تمام پرندے جلد ہی اپنے گھونسلوں میں سمٹ آئے۔
شہتوت، املتاس اور آم کے درختوں کی اونچی ٹہنیوں پر پرندوں کے گھونسلے ہیں۔ کوا کوّی کا گھونسلہ آم کے درخت پر ہے۔ دو ماہ پہلے ان کا انڈوں کا پورا کچّہ طوفانی بارشوں کی نظر ہوگیا تھا۔ نر اور مادہ نے ہمت نہ ہاری اور دونوں نے نئے سرے سے تنکا تنکا چن کر اس درخت پر اپنا نیا گھونسلہ بنایا اور ایک ماہ قبل ہی کچّے میں پانچ انڈے دیے مادہ پندرہ دن انڈے سینکتی رہی اور اب پانچوں چُگے دو ہفتے کے ہونے آئے ہیں لیکن ابھی بھی اپنے اماں باوا کے رحم و کرم پر ہیں۔ ننھنے پَر محض اتنے کہ پھڑپھڑا لیں پر اُڑ نہ سکیں، دانہ دنکا چننا تو دور کی بات۔
پارک کے پچھلے حصے کے پیڑوں میں سے ایک پیڑ ہے۔۔ نہ جانے کاہے کا۔۔ پر ہے بہت گھنا۔ اس پر بھوری چڑیوں کا بسیرا ہے۔ انہی میں ایک چڑا چڑی کے گھونسلے میں بھی دو ننھی جانیں دبک کر بیٹھی ہیں۔ ابھی اڑنا سیکھ رہی ہیں۔
اندھیری رات میں زمین پر برستی بارش کے پانی کی شل شل، آسمان پر بادلوں کی گھن گرج اور بجلی کی کڑکڑاتی چمک نے ماحول پر ایک ہیبت طاری کردی ہے۔
اب جونہی بجلی کڑکی، بادلوں میں دھماکہ سا ہوا اور طوفانی ہوا کے جھکڑ کی سائیں سائیں گونجنے لگی۔ پیڑ زور زور سے ایسے جھولنے لگے جیسے کوئی جڑ سے اکھاڑ رہا ہو۔ عمر رسیدہ درخت ٹوٹ کر گر گئے۔
بلا کی سرد ہواؤں کے جھکڑ میں لہراتے پیڑوں پر گھونسلے ڈگمگائے اور کوؤں کے گھونسلے سے ایک چگا پھسلا اور پھچ سے دلدلی زمین پر آن گرا۔ نوعمر کچے پَر چکنی مٹی میں لتھڑ کر مَن بھر کے ہو گئے۔ بارش کی شل شل اور بادلوں کی گھڑگھڑاہٹ میں چگے کی آواز کہیں دب کر رہ گئی اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اماں باوا کو بھی خبر نہ ہوئی کہ ایک چگا کم ہوگیا ہے۔
بارش کے پانی کا بہاؤ تیزی سے اترائی کی جانب بہنے لگا۔ پانی کے ریلے نے ایک ہچکولہ کھایا اور چگے کو بہائے لے گیا۔ چگا چونچ کھولے کائیں کائیں کرتا رہا پر جھرجھراتے پانی کے شور میں اس کی آواز دم توڑ گئی۔
دوسری جانب پارک کے پچھلے حصے کے وہی نامعلوم نام والے پیڑ پر بھوری چڑا چڑی کے گھونسلے کے تنکے بارش اور تند ہواؤں میں بکھرنے لگے۔ چڑا چڑی اپنی بسی بسائی ہستی کو بچانے کے واسطے ادھر ادھر پھرپھراتے کبھی تنکے سمیٹتے تو کبھی بچوں کو پروں میں چھپاتے۔۔ لیکن منہ زور جھکڑ تہس نہس کرنے کے درپے۔ اسی دم پھر زوردار بجلی کڑکی، ہر طرف سفیدی چھا گئی۔ بادلوں میں زوردار دھماکہ ہوا، زمین لرزی۔۔ ٹہنی مچلی۔۔ گھونسلہ ٹہنی سے پھسل پڑا۔ پھسلتے گھونسلے سے ایک ننھی جان کو چڑیا نے اپنی چونچ میں داب لیا اور ایک مضبوط ٹہنی پر آ بیٹھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے گھونسلہ چڑیا کے ایک بچے سمیت زمین پر دھپ سے گرا اور تتر بتتر ہوگیا۔
چڑے نے پھرتی سے زمین کا رخ کیا اور بکھرے گھونسلے میں اپنے دوسرے بچے کو تلاش کرنے لگا۔۔ پر بچہ نہ ملا۔۔ چڑے نے گھونسلے کی طرف تھکی سی اڑان بھری۔۔ بچے کے بچھڑنے پر چڑا چڑی پر جاں گسل غلبہ چھا گیا۔
ادھر گھپ اندھیرے میں چڑیا کا بالشت بھر کا بچہ دلدلی مٹی میں اٹا پڑا تھا اور ڈر سے وہیں چپکا بیٹھا رہا۔۔ پر کب تک؟ جھرجھراتی شل شل کرتی پانی کی تیز دھار آئی اور چڑیا کے بچے کو بہائے لئے چلی۔
موسم کی سخت مزاجی کے باوجود زندہ رہنے کی جدوجہد جاری رہتی ہے۔ کون اس کار مسلسل میں ہارے کون جیتے۔۔ کیا معلوم۔
قیامت کی رات تھی۔۔ پر تھی تو رات ہی۔۔ سو گزر گئی۔ قدرت کے موسم ایک رنگ پر کب ٹکتے ہیں۔
***
اس نے کمرے کی کھڑکی کے پردے سرکائے۔ صبح پرسکون تھی۔ آسمان پر بادلوں کا ڈیرہ تھا لیکن بارش تھم چکی تھی۔
اس نے گاڑی میں اپنے ببو کو بٹھایا اور چہل قدمی کے لیے پارک کی راہ لی۔
پارک گلدستے کی مانند کھلا ہوا تھا۔ دھلا دھلا سا۔۔ چرند پرند۔ کتے بلیاں، گلہریاں سب تازہ دم اور زندگی سے بھرپور تھے۔۔ لیکن چگا اور ننھی چڑیا۔۔ بے حال و بے آسرا۔۔ کہاں تھے۔۔ کسے معلوم۔۔
وہ ببو کے ساتھ کھلی فضا میں ٹہلتی جا رہی ہے۔ ببو بھی سہانے موسم کا مزا لیتا مستی میں دم ہلاتا اُچکاتا چلا جا رہا ہے۔ کبھی رک کر اِدھر سونگھتا، اُدھر زمین پر دھار مارتا اور پھر چل پڑتا۔۔ اچانک وہ ایک جھاڑی کے پیچھے لپکا اور بے تحاشا بھونکنے لگا۔ بھونکنے کا یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
کیا ہے ببو؟ کیوں اتنا بھونک رہے ہوں؟
وہ چونک کر جھاڑی کے قریب گئی تو دیکھا سامنے ایک کوے کا بچہ بیٹھا ادھر ادھر پھدک رہا ہے مگر اڑ نہیں پا رہا۔
وہ مزید قریب گئی تو چگے نے پوری چونچ کھول کر کائیں کائیں کی۔۔ پر پھرپھرائے اور پنچوں پر پھد پھد کرتا جھاڑی کے اندر چھپ کر جا بیٹھا۔۔ لیکن اڑا پھر بھی نہیں۔
ارے یہ تو بچہ ہے۔۔ کل طوفانی رات میں اپنے کنبہ سے بچھڑ گیا ہے شاید۔۔ وہ زیرلب بڑبڑائی۔
چُگے کے پَر کچے اور ناتواں تھے۔
اسی لمحے درختوں پر سینکڑوں کوے بیک وقت حلق پھاڑ کر کائیں کائیں کرنے لگے۔ اس نے ببو کو قابو کیا اور گاڑی میں آ بیٹھی۔ کوے اس کے پیچھے پیچھے اڑتے چلے آئے اور پارک کی منڈیر پر بیٹھ کر اس کی گاڑی کی جانب دیکھ کر پھر سے شور مچانے لگے۔
اسے لگا جیسے کوے کچھ کہہ رہے ہوں، مگر کیا؟ یہ سمجھ نہ سکی اور بے چین ہو کر بولی۔
"کیا ہے؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے؟"
"یہ کمزور چگا ہے اگر تم اسے یہیں چھوڑ جاؤ گی تو یہ کسی بڑے جانور کی خوراک بن جائے گا"۔ ایک کوا بولا۔
"یہ تو واقعی مجھ سے مخاطب ہیں؟" اس نے سوچا۔
"میں بھلا کیا کر سکتی ہوں؟ میں بے بس ہوں"۔ وہ مِنمنائی اور سر جھٹک کر گاڑی اسٹارٹ کر دی، مگر دل کی کشمکش برقرار رہی۔
اس نے ایک بار پھر کوؤں کی طرف دیکھا۔۔ وہ یوں اسے گھور رہے تھے جیسے شکوہ کر رہے ہو۔
ہار مان کر اس نے گاڑی کا انجن بند کیا، ببو کو گاڑی میں ہی رہنے دیا اور خود پارک کے اندر، سیدھا اسی جھاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ چگا ابھی بھی اندر دبکا بیٹھا تھا۔
"آجاؤ، ڈرو مت، کچھ نہیں کہوں گی"، اس نے پیار سے پُچکارا۔
چگا ہچکچایا۔۔ پھر پھدکا، ذرا سا باہر آیا اور اسی لمحے اس نے دوپٹے میں نرمی سے اسے لپیٹ لیا۔
"بس، اب تم محفوظ ہو"۔ وہ مسکرائی اور واپس گاڑی کی طرف چل دی۔
گھر پہنچی تو چونک گئی، دو کوے پہلے ہی اس کے گھر کی منڈیر پر بیٹھے، چلا چلا کر کائیں کائیں کر رہے تھے۔
"ارے، تم تو پیچھا ہی نہیں چھوڑو گے"۔ وہ زیرِ لب بولی۔
وہ چگے کو صحن میں ہی لے کر بیٹھ گئی۔ ببو تجسس سے اور چتکبری بلی مزے سے چگے کو دیکھنے لگے۔ اس نے چگے کی چونچ میں دوا ٹپکائی اور نرم غذا کھلائی۔ منڈیر پر بیٹھے دونوں کوے اضطرابی کیفیت میں تڑپ رہے تھے۔۔
دونوں چگے کے اماں ابا ہیں۔۔ اماں بے بسی سے منڈیر پر پھدک پھدک کر کبھی پَر جھاڑتی، کبھی گردن گھماتی اور کبھی لمبی کائیں سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی۔۔ ابا لیکن بپھرا ہوا تھا۔۔ کبھی ایک دیوار سے دوسری پر جا بیٹھے، کبھی لوہے کے دروازے پر چونچ مارے، دیوار سے لپٹی بیل پر پنجے گاڑ کر زور زور سے کائیں کائیں کرے تو کبھی ٹھونگیں مارے۔ بیچ بیچ میں پر پھڑپھڑائے، ہوا میں جھپٹے اور پھر غضبناک انداز میں منڈیر پر آ بیٹھے۔
اس نے بے زاری سے گردن اٹھائی اور بپھرے کوے کو دیکھ کر کہا:
"اُف! اب کیا مسئلہ ہے؟ لے آئی ہوں نا تمھارے چگے کو"۔
کوا غصے میں ٹھونگے مارنے کے سے لہجے میں بولا:
"ہاں لے تو آئی ہو۔۔ لیکن اپنے کتے بلیوں کے سامنے لا پٹخا میرے لال کو!"
وہ چونکی، پھر جلدی سے چگے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا اور ایک کمرے میں لا کر محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔ باہر منڈیر پر کووں کی کائیں کائیں کچھ دیر شور مچاتی رہیں، پھر مدھم ہوئیں اور رفتہ رفتہ ماند پڑ گئی۔
***
دوسری صبح نمی سے بوجھل تھی لیکن ببو کی واک ضروری تھی، سو وہ اسے ساتھ لے کر پارک نکل آئی۔ پارک کی کچی زمین کیچڑ سے اٹی پڑی تھی اور پیڑ پودوں سے بارش کی بوندیں ابھی بھی ٹپک رہی تھیں۔
دور سے اُس نے ایک ہنگامہ دیکھا۔ کوؤں کا ایک غول زمین پر جھپٹ رہا ہے۔ اُس کا دل دھک سے رہ گیا۔ قدم تیز کیے اور قریب پہنچی تو منظر کھل گیا۔ ایک بالشت بھر ننھی چڑیا کا بچہ زمین پر جان بچانے کی تگ و دو میں ہے۔ پر پھیلائے اِدھر اُدھر دوڑتا، ٹھونگوں سے بچنے کی کوشش کرتا۔ مگر کوے اس پر یلغار کیے ہوئے ہیں۔
اچانک ایک کوا جھپٹا اور اُس معصوم کو چونچ میں دبوچ لیا۔ وہ اڑنے ہی کو تھا کہ اُس نے زمین سے ایک ٹہنی اٹھائی اور پوری قوت سے ہوا میں لہرائی۔ کوا چونکا، کائیں کی، تو چونچ سے چڑیا کا بچہ آزاد ہو کر زمین پر دھپ سے آگرا۔ کووں کا غول پیچھے ہٹ گیا۔
وہ غصے سے چیخی:
"کل اپنے چگے کے لیے میرے دروازے پر منتیں کر رہے تھے اور آج اپنے سے کمزور کی جان کے پیچھے پڑے ہو؟
کائیں کائیں کی ایک شوریدہ لہر ابھری اور پھر کوے پھیل گئے۔ کچھ درخت کی اونچی شاخوں پر جا بیٹھے، کچھ فضا میں اڑان بھرنے لگے۔
چڑیا کا بچہ ادھ موا پڑا تھا۔ کووں کے ٹھونگوں نے اس کی گردن زخمی کر دی تھی اور خون رس رہا تھا۔
اُس کے لرزتے پروں میں بقا کی آخری کوشش تھی اور آنکھوں میں وہی خوف جھلک رہا تھا جو ہر کمزور پرندے کے حصے میں آتا ہے، جب طاقتور اُس کی سانس چھیننے پر تُل جائیں۔
اس نے بے اختیار جھک کر ننھے وجود کو اپنی ہتھیلیوں میں سمیٹ لیا اور اس کے پروں پر چپکی مٹی آہستگی سے جھاڑنے لگی۔ اُس نے کووں کو گھورا تو منڈیر پر بیٹھے کوے پھر کائیں کائیں کرنے لگے "یہ تو ہمارا دستور ہے"۔
چگا اور چڑیا کا بچہ فطرت کے ستم سے تو بچ نکلے تھے، لیکن اپنے جیسی مخلوق کے ہاتھوں کب تک بچ پائیں گے۔۔ اس کی اُسے کچھ خبر نہ تھی۔
طاقتور کا دستور۔۔ کمزور کی مات۔
وہ ننھی زخمی چڑیا کو آہستہ آہستہ ہتھیلیوں میں سہلاتے ہوئے گاڑی کی جانب چل پڑی۔ ببو اُس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا۔
آسمان پر بادل مزید گہرے اور گھنے ہوتے چلے گئے۔
بہ شُکریہ: وی نیوز

