Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sanober Nazir
  4. Agar Dunya Par Auraten Hukumran Hoti?

Agar Dunya Par Auraten Hukumran Hoti?

اگر دنیا پر عورتیں حکمران ہوتیں؟

چونکہ حکومت چلانے کی ذمہ داری مرد نے اٹھا رکھی ہے سو دنیا کی بیشتر تباہیاں بھی مردوں کے ہاتھوں ہوئیں چاہے وہ دو عالمی جنگیں ہوں، صلیبی لڑائیاں، تاتاری یلغار، سامراجی قبضے، یا ایٹمی بمباری۔ ہر بڑی جنگ کے پیچھے مرد سیاستدان، جرنیل اور اقتدار پرست قائدین کی ہوسِ حکمرانی کارفرما تھی۔ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی میں بھی دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر آکھڑی ہوئی تھی تو دوسری جانب روس یوکرین جنگ ہو یا غزہ میں بربادی کی داستان، ہر محاز پر مرد قیادت کی انا، ضد اور ہٹ دھرمی نمایاں ہے۔

تبھی یہ سوال اکثر اٹھتا ہے کہ اگر دنیا پر عورتیں حکمران ہوتیں تو کیا تاریخ کچھ اور ہوتی؟ کیا یہ دنیا کم جنگجو اور زیادہ پرامن ہوتی؟ اس کے باوجود حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، چین، روس، جاپان اور فرانس جیسے "مہذب، جدید، حقوق نسواں کے علمبردار" ممالک میں آج تک کسی عورت کو سربراہ مملکت بننے کا موقع نہیں دیا گیا۔

محض جنس کی بنیاد پر کسی "مثالی دنیا" کا تصور کرنا سادہ لوحی ہو سکتا ہے۔

آئیے، چند نمایاں خواتین حکمرانوں کی مثبت اور منفی پہلوؤں پر سرسری نظر ڈالتے ہیں جنھوں نے ناموافق حالات کے باوجود امور مملکت چلائے۔

(بندرا نائیکے 1960۔ سری لنکا)

نہ صرف سری لنکا بلکہ دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کا اعزاز رکھتی ہیں۔ اپنے شوہر سابق وزیراعظم سولومون بندرانائیکے کے قتل کے بعد جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا۔ 3 بار وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ تعلیم، صحت اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی ان کی نمایاں کامیابیاں رہیں۔ مگر ان کے عہد میں سنہالی قوم پرستی، تامل فسادات کا آغاز، معاشی زوال اور خانہ جنگی کی بنیاد بھی پڑی۔

(اندرا گاندھی 1966۔ بھارت)

قومی طاقت، نیوکلیئر پروگرام، سن 71 کی جنگ اور بینکوں کے قومیانے جیسے دلیرانہ فیصلے کیے۔ مگر پہلے دور میں ایمرجنسی کا نفاذ، جبری نس بندی، جبکہ دوسرے دور حکومت میں سکھوں کا بڑی تعداد میں سفاکانہ قتل عام، آپریشن بلیو سٹار جیسے اقدامات ان کے دور کو ایک آمرانہ رنگ دے گئے۔ دنیا کی طاقتور ترین خاتون سربراہ ہونے کےباوجود کئی لحاظ سے بدترین حکمران بھی کہلائی جاتی ہیں۔

(گولڈا مئیر 1969۔ اسرائیل)

"لوہے کی عورت" کہلانے والی یہ رہنما مضبوط ارادوں کی مالک تھیں، مگر فلسطینی عوام کے حقوق سے انکار اور یومِ کیپور جنگ کی انٹیلیجنس ناکامی ان کے استعفے کا باعث بنی۔

(مارگریٹ تھیچر 1979۔ برطانیہ)

"آئرن لیڈی" برطانیہ کی پہلی خاتون سربراہ جن کی آمد شروع کے دو سال تو خوش گوار ہوا کا جھونکا رہی لیکن اقتدار کی طاقت نے انھیں ایک بدترین ڈکٹیٹر بنا دیا۔ سخت معاشی اصلاحات، فاکلینڈ جنگ میں برطانیہ کی قیادت اور لیبر یونینز کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ان کی پالیسیاں ملک میں گہری سیاسی تقسیم کا باعث بنیں جو آج بھی برطانیہ بھگت رہا ہے۔

(کورازون اکینو 1986– فلپائن)

اپنے شوہر نینوئی اکینو جو آمر فرڈینینڈ مارکوس کے شدید مخالف تھے، کے قتل کے بعد سیاسی میدان میں آئیں اور آمریت کے خلاف تحریک کی علامت بنیں۔ جمہوری اداروں اور بین الاقوامی وقار کو بحال کیا۔ زرعی اصلاحات کیں مگر فوجی اور کمیونسٹ بغاوتوں نے معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا جس پر ان کی قیادت کو چیلنج کیا گیا۔ انھیں مادر جمہوریت کا خطاب دیا گیا۔

(بے نظیر بھٹو 1988 – پاکستان)

دنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم۔ اپنے والد سابق وزیراعظم کی جبری برطرفی اور پھانسی کے بعد جمہوریت کی بحالی کے لیے پرامن جدوجہد کرتی رہیں اور بالاخر ملک کی دو بار منتخب وزیراعظم بنیں لیکن فوجی ریشہ دوانیوں اور سیاسی چالوں کے باعث دونوں مرتبہ مدت سے پہلے ہی حکومت سے برطرف کر دی گئیں۔ خواتین کی تعلیم، صحت اور سماجی اصلاحات ان کے ایجنڈے میں شامل رہیں، مگر دونوں ادوار میں ان پر کرپشن کے الزامات اور سیاسی انتشار پھیلا کر ان کی حکمرانی کو داغ دار کیا۔ دونوں حکومتوں سے معزول کیا گیا اور بالاخر 2007 میں ملک کی جہاندیدہ سیاست دان کو قتل کر دیا گیا۔ ان کے دور حکومت گو مختصر رہے لیکن دنیا میں پاکستان کا روشن اور مثبت امیج نمایاں ہوا۔

(وائیولیتا چومارو 1990۔ نکاراگوا)

بنیادی طور پر ایک گھریلو خاتون تھیں لیکن اپنے شوہر جو آمر وقت "ساموزا "کے بدترین مخالف تھے، کے قتل کے بعد سیاست میں آئیں اور لاطینی امریکہ کی پہلی خاتون صدر بنی۔ ایک نڈر، معتدل مزاج اور مفاہمت پسند رہنما۔ ان کے دور میں خانہ جنگی کا خاتمہ، جمہوریت کی بحالی اور خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھی، لیکن معاشی نظم و نسق میں کچھ کمزوری رہی لیکن ان کا 7 سالہ دور اقتدار مجموعی طور پر بہترین اور قابل ستائش رہا۔

(خالدہ ضیاء 1991۔ بنگلہ دیش)

فوجی آمریت کے خاتمے کے بعد جمہوری عمل کی قیادت کی، مگر بعد ازاں ان کی سیاست خاندانی مفادات، سیاسی انتقام پر مبنی اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہوگئی۔

(تانسو چلر 1993۔ ترکی)

ترکی کی پہلی خاتون وزیراعظم۔ معاشیات کی ماہر ہونے کے باوجود سیاسی عدم استحکام، کردوں کے خلاف سخت گیر پالیسی اور بدعنوانی نے ان کے اقتدار کو متاثر کیا۔

(شیخ حسینہ واجد 1996۔ بنگلہ دیش)

بنگلہ دیش کے "بابائے قوم" شیخ مجیب کی واحد اولاد جو قتل ہونے سے محفوظ رہی۔ ترقیاتی منصوبے، خواتین کی تعلیم اور معاشی استحکام ان کی قیادت کی نمایاں جھلک ہیں۔ مگر آمریت، ریاستی جبر اور سیاسی مخالفین سے سخت سلوک پر شدید تنقید بھی ہوئی۔ آمرانہ طرز حکمرانی کے باعث 2024 میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بنا پر حسینہ واجد کو جلاوطن ہونا پڑا۔

میگاواتی سوئیکارنوپتری۔ 2001 انڈونیشیا)

سوئیکارنو کی بیٹی جس نے آمر وقت سوہارتو کے استعفے تک پرامن جہموری جدوجہد کی اور انڈونیشیا کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوئیں۔ جمہوریت کی بحالی میں ان کا کردار قابل قدر رہا، لیکن فوج کی بالادستی در پردہ قائم رہی۔ اسی بنا پر ان کی قیادت میں معیشت سست روی کا شکار رہی اور کرپشن پر بھی قابو نہ پایا جا سکا۔

(گلوریا آرویو میکا پاگل 2001۔ فلپائن)

دو مسلسل ادوار میں صدارت کی۔ معاشی اصلاحات، سیاسی استحکام، تعلیم و صحت میں بہتری اور کامیاب بین الاقوامی سفارت کاری کی داعی، مگر ہیلو گارسی اسکینڈل، انتخابی بدعنوانی، کرپشن اور اظہارِ رائے پر قدغن نے ان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ عدالتی فیصلے کی رو سے کئی سال نظر بند اور جیل کاٹنی پڑی۔

(اینگلا مرکل 2005۔ جرمنی)

جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر۔ جو نہ صرف یورپ کی طاقتور ترین خاتون سمجھی گئیں بلکہ انہیں عقلی قیادت، اخلاقی استقامت اور خاموش استحکام کی علامت مانا گیا۔ دس لاکھ مہاجرین کو پناہ، یورپین یونین کے بحران زدہ ممالک کو بیل آؤٹ پیکج کی فراہمی۔ سائنس، ٹیکنالوجی میں ترقی کرکے جرمن معیشت کو مستحکم کیا اور کووڈ جیسی وبا میں اینگلا ایک مضبوط قیادت بن کر ابھری۔ اینگلا مرکل دنیا کے حکمرانوں کے لیے ہمیشہ ایک مثال رہیں گیں۔

(میشل بیشلیٹ 2006۔ چلی)

چلی کی پہلی خاتون صدر جو دو بار ملک کی سربراہ منتخب ہوئیں۔ بحیثیت سربراہ تعلیم، صحت اور خواتین کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ فوجی آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی بنیں، مگر دوسری مدت میں بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات نے ان کا سیاسی قد کم کیا۔ مجموعی طور پر ان کا کردار مثبت رہا۔

(ینگ لک شناواترا 2011۔ تھائی لینڈ)

تھائی لینڈ کی پہلی خاتون وزیراعظم جو کسانوں کے لیے خوش آئند پالیسیوں کی حامل رہیں، مگر بدعنوانی اور فوجی بغاوت نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

(ڈلما روسیف 2011۔ برازیل)

غریبوں اور خواتین کی نمائندہ، برازیل انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور اولمپکس منعقد کرنے والی۔ مگر معاشی بدحالی، سیاسی افراتفری اور کرپشن کے سبب مواخذے کا شکار ہوئیں۔ بعض مبصرین کے مطابق کرپشن پر مواخذہ ایک سیاسی سازش تھی۔

(پارک گئون ہیے 2012۔ جنوبی کوریا)

آمر صدر پارک چونگ ہیے کی بیٹی اور جنوبی کوریا کی پہلی خاتون صدر جس نے اہنے دور حکومت میں اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کرپشن کی ایک مثال قائم کی جس۔ کے نتیجے میں لاکھوں عوام نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ 2017 میں انھیں پارلیمنٹ میں مواخذے کے بعد عدالتی حکم پر برطرف کردیا گیا۔

(آنگ سانگ سوچی 2015۔ میانمار)

آزادی کے بانی اور میانمار کے قومی ہیرو "جنرل آنگ سان " کی بیٹی جنھوں نے جہموری اقدار کے لیے برسوں جدوجہد کی اور جمہوریت کی عالمی علامت کہلائیں۔ نوبیل انعام یافتہ، مگر اقتدار میں آ کر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم پر مجرمانہ خاموشی بلکہ نسل کشی میں معاونت جیسے الزامات اور فوج سے مفاہمت ان کے زوال کا سبب بنی۔

(جیسنڈا آرڈرن 2017۔ نیوزی لینڈ)

دنیا کی کم عمر خاتون سربراہ۔ انسان دوستی، ہمدرد قیادت اور بحرانوں میں تحمل کا مظاہرہ کرنے والی۔ کورونا وبا، کرائسٹ چرچ حملے اور ماحولیاتی چیلنجز کے دوران ان کی رہنمائی عالمی سطح پر سراہا گیا۔ وہ جدید تاریخ میں نرم قیادت کا استعارہ بنیں۔

آج بھی دنیا کے 30 ممالک میں خواتین سربراہ مملکت (وزیراعظم یا صدر) ہیں۔ جن میں ڈنمارک، آئس لینڈ، یونان، نیوزی لینڈ، میکسیکو، اٹلی اور جارجیا شامل ہیں۔

یہ کہنا درست نہیں کہ عورت کی حکمرانی امن یا انصاف کی مکمل ضمانت ہے۔ عورت بھی اقتدار کے کھیل، سیاسی سازش اور بدعنوانی میں ملوث ہو سکتی ہے۔ مگر جب عورت حکمران بنتی ہے تو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ، حتی الامکان جنگ کے بجائے مکالمہ، ظلم کے بجائے فلاح اور انا کے بجائے انسانیت کو ترجیح دے۔

تاہم، جن خواتین سربراہوں نے مرد حکمرانوں کی تقلید کی اور طاقت، عسکریت اور جبر کا راستہ اپنایا تو اس کے نتائج بھی بھیانک ہی برآمد ہوئے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ عورتوں کی قیادت کو "متبادل" کے طور پر نہیں بلکہ "ضرورت" کے طور پر دیکھا جائے۔ سیاسی، سماجی اور اقتصادی فیصلوں میں خواتین کی یکساں شمولیت ہی دنیا کو زیادہ متوازن و پرامن بنا سکتی ہے۔

بہ شُکریہ: ڈی ڈبلیو اردو

Check Also

Malik Yusuf Ke Dramay (2)

By Ashfaq Inayat Kahlon