Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sajid Ali Shmmas
  4. Janoobi Asia Mein Nayi Safbandi?

Janoobi Asia Mein Nayi Safbandi?

جنوبی ایشیا میں نئی صف بندی؟

عالمی سیاست بعض اوقات شطرنج کی اُس بساط سے مشابہ دکھائی دیتی ہے جہاں مہرے اپنی چال پر خود حیران رہ جاتے ہیں۔ بادشاہ مسکرانے لگتے ہیں، وزیر بیان دینے لگتے ہیں، جرنیل نقشہ بنانے لگتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض اتفاق ہی ہے اور کچھ بھی نہیں۔ مگر جب تاریخ کی گرد ہٹائی جاتی ہے تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتفاقات بھی کسی نہ کسی ارادے کی آغوش میں پل رہے تھے۔

میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ہر واقعے کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ گمان ضرور رکھتا ہوں کہ عالمی طاقتیں کبھی بھی محض تماشائی نہیں ہوتیں۔ وہ یا تو کھیل رہی ہوتی ہیں اور یا پھر کھیل لکھ رہی ہوتی ہیں۔ مئی 2025 میں پہلگام واقعے سے شروع ہونے والی پاک بھارت جنگ کو میں اسی زاویے سے دیکھتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ ویسا ہی ہو جیسا ہمیں بتایا گیا تھا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے۔ جس سے سرحدی کشیدگی بڑھی، جذبات بھڑکے اور محدود جنگ چھڑ گئی۔ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس جنگ کی بساط کہیں اور بچھی ہو۔ کیا بعید کہ امریکا نے دانستہ طور پر بھارت کو جان بوجھ کر ایک حد تک پیچھے ہٹنے دیا ہوتاکہ پاکستانی قیادت کے دل میں واشنگٹن کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو سکے؟ کیوں کہ جنگ سے کچھ عرصہ قبل امریکی نائب صدر کا نئی دہلی کا دورہ محض سفارتی مصروفیت بھی ہو سکتا ہے مگر عالمی سیاست میں دورے کبھی خالی ہاتھ نہیں آتے۔ وہ یا تو پیغام لاتے ہیں یا پیغام لے جاتے ہیں۔ پھر اچانک امریکی صدر کی مداخلت سے جنگ رک جانا اور خود کو امن کا پیامبر بنا کر پیش کرنا یہ منظر بھی خاصا معنی خیز ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر آگ بجھانے سے پہلے اس کی سمت کا تعین کرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعی امن کے لیے کردار ادا کیا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ایک ایسے بحران کو روک کر اخلاقی برتری حاصل کرنا چاہتے ہوں جس کی شدت پہلے ہی ناپ تول کر متعین کی جا چکی تھی۔ جب وہ اچانک وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریفوں کے پل باندھنے لگتا ہے تو میرے ذہن میں سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ محض سفارتی شائستگی ہے یا کسی آنے والی درخواست کی تمہید ہے؟ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ گرنے والے بھارتی طیاروں کی تعداد کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں مبالغہ آرائی کیا یہ واقعی پاکستان کی عسکری مہارت کا اعتراف تھا یا محض نفسیاتی حربہ تھا؟

ہو سکتا ہے بار بار ایک ایک طیارہ بڑھا کر بیان کرنا دراصل طنز کا ایک ایسا پیرایہ ہو جس سے تعریف کے پردے میں تضحیک کا بیج بویا جارہا ہو۔ جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ بیانیے سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ اگر کسی ملک کو وقتی طور پر ہیرو بنا دیا جائے تو کل اسی ہیرو سے کوئی بڑا مطالبہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ خیال بھی میرے ذہن میں ابھرتا ہے کہ شاید اس تعریف کا مقصد کسی اور محاذ کی تیاری ہو۔ اگر پاکستان کی فوج کو غیر معمولی سراہا جائے اور پھر اسی کے تناظر میں دوبارہ کسی کردار کی طرف مائل کیا جائے تو کیا یہ بعید از قیاس ہوگا؟ اور اگر اسی دوران کوئی بڑی صف بندی ترتیب پا رہی ہو تو کیا ہوگا؟

میں قطعیت سے کچھ نہیں کہتا مگر عالمی طاقتیں اکثر ایک خطے کو دوسرے خطے کے توازن کے لیے استعمال کرتی آئی ہیں۔ ایسے میں بھارت کی اسرائیل سے قربت اور ٹرمپ کی ایران سے متعلق جارحانہ حکمت عملی ذہن میں کئی سوالات جگا دیتی ہے۔ کیا یہ سب محض سفارتی معمول ہے یا کسی بڑے جغرافیائی خاکے کی ابتدائی لکیریں ہیں؟

آج کی جنگوں میں ایک نئی روش بھی دکھائی دیتی ہے کہ صرف سرحدوں کو نہیں بلکہ قیادت کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا گیا ہے۔ مخالف ریاست کے سیاسی اور عسکری قائدین کو براہِ راست ہدف بنانا تاکہ عوامی حوصلہ ٹوٹ جائے اور فیصلہ سازی کا نظام مفلوج ہو جائے۔ یہ رجحان اگر واقعی پختہ حکمتِ عملی بن چکا ہے تو پھر ہر ملک کو اپنی قیادت کی سلامتی کو محض ذاتی نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ سمجھنا ہوگا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی خاص منصوبہ تیار ہے مگر یہ اندیشہ بہرحال موجود ہے کہ طاقت کی ہوس میں مبتلا قیادتیں بعض اوقات پورے خطوں کو تجربہ گاہ بنا دیتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر ایران میں سیاسی منظرنامہ بدل جائے اور وہاں کوئی ایسی حکومت قائم ہو جائے جو مکمل طور پر مغربی یا اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ ہو تو خطے کا توازن کس قدر تبدیل ہو جائے گا؟ کیا اس کے بعد جنوبی ایشیا میں کوئی نئی آزمائش برپا کی جا سکتی ہے؟ یہ سب سوالات ہیں، خدشات ہیں اور امکانات ہیں۔ حتمی سچ نہیں۔ مگر تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ جو قومیں امکانات پر غور نہیں کرتیں وہ اچانک حقیقت کے دھچکے سے سنبھل نہیں پاتیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم امر داخلی استحکام ہے۔ اگر اندر سے کمزور ہوں تو باہر کی ہوا بھی طوفان بن جاتی ہے۔

مضبوط معیشت، سیاسی ہم آہنگی اور متوازن خارجہ پالیسی وہ ڈھال ہیں جو کسی بھی بیرونی کھیل کو ناکام بنا سکتی ہیں۔ کسی ایک طاقت کے سہارے کھڑا ہونا وقتی سہارا تو دے سکتا ہے مگر مستقل وقار نہیں کہا جاسکتا۔ ان تمام سوالات اور امکانات کے بعد پھر وہی سوال مجھے چونکا دیتا ہے کہ آخر بات کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار پاکستانی قیادت کی تعریف کیوں کر رہا ہے؟ کیا وہ واقعی جنوبی ایشیا میں ایک نئے باب کا آغاز چاہتے ہیں یا یہ کسی آنے والے مطالبے کا پیش خیمہ ہے؟

شاید وہ پاکستان کو کسی بڑے جغرافیائی کھیل میں شریک دیکھنا چاہتے ہوں، شاید وہ ماضی کی تلخیوں کو نئے مفادات سے بدلنا چاہتے ہوں اور شاید یہ سب میرا ذاتی گمان ہو۔ مگر عالمی سیاست کے اس نظام میں ہر مکالمہ بے معنی نہیں ہوتا اور ہر تالی بے سبب نہیں بجتی۔ میں یقین سے کچھ نہیں کہتا مگر اتنا ضرور کہتا ہوں کہ ہو بھی سکتا ہے اور شاید ایسا ہو اور اگر ایسا ہو تو ہمیں جذبات سے نہیں بلکہ بصیرت سے کام لینا ہوگا۔ کیونکہ دنیا کی بساط پر وہی قوم زندہ رہتی ہے جو مہرہ بننے سے انکار کر دے اور اپنی چال خود چلنے کا حوصلہ رکھے۔

Check Also

Mick Hunt: Aik Aur Azeem Rukhsat

By Asif Masood