Umar Ke Aeene Mein
عمر کے آئینے میں

تیز تیز چلتے چلتے اچانک کچھ تھکن کا احساس کیوں ہونے لگا؟ آئینے میں اپنا ہی عکس کچھ پرایا سا کیوں ہے؟ یوں لگتا ہے کہ مہ و سال اپنا گہرا اثر چھوڑ چکے ہیں۔ وہ رنگ و روپ، قد کاٹھ، خدوخال اور جاذب نظر شخصیت، جس پر پہ کبھی اتراہٹ ہوا کرتی تھی، اس میں کمی کیوں آگئی ہے؟ اب کچھ باتیں بھولنے بھی لگی ہیں؟ پہلے جو باتیں ہنسی میں اڑا دی جاتیں تھیں، اب ان پر کچھ رنجیدہ ہونے کا دل چاہتا ہے؟ باہر نئے لوگوں سے ملنے میں انداز تخاطب بھی کچھ بدلا سا ہے؟ انکل، آنٹی، بزرگو، سماعت پر کچھ گراں گزرتا ہے۔
پرانی تصویریں دل کیوں جلاتی ہیں؟ اس تصویر سے لے کر آج کے عکس تک کا وقت کہاں گیا؟ وہ فرصت جس کے لئے دل کبھی ترستا تھا، وہی آج زندگی کے بے مصرف اور بے معنی ہونے کا احساس کیوں دلا رہی ہے؟ وہ بچے جن کو ابھی کل تک انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا؟ آج وہی زمانے کے بدلاؤ اور زندگی کی ناہمواریوں پر کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ نئے دوست بنانے کا کوئی شوق اور خواہش باقی نہیں رہی، پرانے دوستوں سے ملے بھی کئی ہفتے گزر جاتے ہیں۔ چھوٹی، بڑی بیماریاں اور ڈاکٹروں کے چکر طبعیت کو جھنجلا دیتے ہیں۔ نئے کپڑے خریدنے یا تیار ہونے کا بھی دل نہیں کرتا۔ بھوک بھی کم لگتی ہے؟ کیا یہ بڑھاپے کا آغاز ہے؟ تو اب؟
اس سب سے نمٹنے کے لئے شاید پہلی چیز ہے خوش دلی اور حقیقت پسندی سے اس کی قبولیت۔ اس کے بعد سب کچھ بتدریج آسان ہونے لگتا ہے۔ معمولات زندگی میں کچھ تبدیلیاں عمر کے اس حصے کو اور ہموار بنا دیتی ہیں۔ جیسے کھانے پینے میں احتیاط، متحرک رہنا، بلاوجہ کی پریشانیوں کو ذہن سے جھٹک دینا، دوستوں سے ملتے رہنا اور خود کو کسی مشغلے یا کام کاج میں مصروف رکھنا، چند مثالیں ہیں۔ قوت ارادی سے مزاج کے چڑچڑے پن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ وگرنہ آپ کے اطراف لوگ کترانے لگیں گے۔ ریسرچ اور مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ اگر بڑھاپے میں ذہن اور جسم متحرک اور فعال رہیں، تو طبیعت میں خوش مزاجی برقرار رہتی ہے۔
پختہ عمری یا بڑھاپے کے آغاز کو فراخ دلی سے قبول کریں۔ اس وقت کو گھبراہٹ کے بجائے تمکنت، وقار اور خوشدلی سے گزارنے کی کوشش کریں۔ خدا کے بنائے ہوئے نظام قدرت پرسر تسلیم خم کریں۔ کوئی بھی چھوٹی یا بڑی بیماری زندگی کا حصہ ہے۔ خدا پر بھروسہ اور اس سے اچھی امید، بہتر علاج، مثبت سوچ، فیملی کی طرف سے محبت اور دیکھ بھال اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں بزرگوں کے نفسیاتی مسائل ان کے جسمانی مسائل سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اولاد کی طرف سے توجہ اور وقت نہ ملنے پر انہیں یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ محض ایک بوجھ ہیں اور کسی کو ان کی ضرورت نہیں۔ یہ احساس کئی نفسیاتی مسئلوں کو جنم دیتا ہے۔
آج کل دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑھتی عمر یا میچورٹی کی قبولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے وسائل کے مطابق بہت سے افراد جدید سانسی طریقوں، سرجری یا مختلف ٹریٹمنٹس کی مدد سے اسے مات دینے کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ خواہ اس کے بعد وہ اپنی قدرتی خوبصورتی سے بھی محروم ہو جا ئیں۔ لیکن یہ شرف صرف امرا طبقے کو حاصل ہے، اگرچہ ہر کوئی اس سے مستفید نہیں ہونا چاہتا۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خود دولت مند ہونے کے ساتھ ساتھ خود اعتماد اور حقیقت پسند بھی ہیں، غریب اور متوسط طبقہ تو پیٹ کی آگ بجھانے اور اپنی سفید پوشی کے بھرم کی پاسداری میں ہی پستا نظر آتا ہے اور قبل از وقت ہی بڑھاپے اور بیماریوں کی زد میں آجاتا ہے۔
ہم تیزی سے گزرتے وقت کو نہیں روک سکتے، لیکن ہم ذہن میں آنے والے منفی خیالات کوتو جھٹک سکتے ہیں۔ اب تک کی زندگی میں جو نعمتیں حاصل ہے، اس پر شکر اور اپنے اطراف جو رشتے موجود ہیں، ان کی قدر کر سکتے ہیں۔ دوڑ نہیں لگا سکتے، آہستہ تو چل سکتے ہیں۔ روزمرہ کا لائف سٹائل بدل سکتے ہیں۔ تمام تر جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں کے باوجود خود سے اور اپنے اطراف کے لوگوں سے محبت کر سکتے ہیں۔ ذندگی کے نشیب وفراز اور تلخ و شیریں تجربات نے ہمیں جو سکھایا، اسے اپنے اطراف بانٹ سکتے ہیں۔ اگر ہم قدرت کے نظام کو مان کر آگے بڑھتے رہنا سیکھ لیں تو کافی حد تک خوش رہ سکتے ہیں، کہ بڑھاپا مصیبت نہیں، حقیقت ہے۔

