Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Gormani
  4. Akhir Ho Kya Raha Hai?

Akhir Ho Kya Raha Hai?

آخر ہو کیا رہا ہے؟

ایرانی قوم دنیا کو اپنی ذہانت اور مہارت سے حیران کیے جا رہی ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے خامنائی کو ٹارگٹ کیا تو ان کو لگا کہ بس صدام، مرسی، اسد اور قذافی کی طرح عوام نفرت میں باہر نکلے گی تختہ الٹے گی اور ہم رجیم چینج کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی جیت کا جشن جام ٹکرا کر منائیں گے۔ سونے پہ سہاگا ان کے پاس پہلوی کی صورت میں جانشین بھی موجود تھا۔

مگر ایرانی عوام نے ان کے منصوبے کو جوتے کی نوک پہ رکھا، امریکی ایجنسیوں نے ایران میں موجود اپنے اثاثوں کو وجہ جاننے کا ٹاسک دیا تب چند دن پہلے ایرانی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں نے جواب دیا کہ ہم حکومت کی تبدیلی چاہتے تھے مگر امریکی مدد کے بغیر۔

امریکی مدد ایرانیوں کے لئے بیرونی مداخلت قرار پائی لہذا خامنائی کی حکومت کی ناپسندیدگی کی جگہ امریکی نفرت نے لی اور بزرگ کی اہلخانہ سمیت شہادت یزیدی ٹولے کی کارستانی بن گئی۔

ایران نے کہا کہ جب امریکہ ان کے اردگرد پنگے کرکے حکومتوں کے تختے الٹ رہا تھا ایران ان کے طریقہ کار کا مشاہدہ کرکے اس کا توڑ نکال رہا تھا۔

جنگ میں الجھنے کے باوجود ایران نے قائد کی آخری رسومات روکے رکھیں جنگ میں اسرائیل کو میزائیلوں سے امریکہ کو باندھ کر اور دنیا کو فیول تک رسائی سے روک کر حیران کر رہا تھا وہیں تمام تر خدشات اسرائیلی خواہشات اور امریکی تنصیبات کے باوجود عرب ممالک کو جنگ میں انگیج کیے رکھا۔

سعودی، بحرین، قطر، عمان، عراق سمیت ہر اس ملک کو امریکہ کی بے اعتنائی ثابت کرکے دکھائی جن کو لگتا تھا کہ وقت پڑنے پہ امریکہ ان کی حفاظت کرے گا۔

صہیونیوں کی خواہش بلکہ سازش کے باوجود سوائے متحدہ عرب امارات کے کوئی براہ راست جنگ میں نہیں کودا۔

ادھر ٹرمپ کی بوکھلاہٹ اور پاسداران انقلاب کے ترجمان کے اطمنان کے درمیان جب وار کرائم کا خدشہ بڑھا تو اسی ایرانی عوام نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی اور نہتے میدان جنگ میں اتر گئے۔

اب بات مذاکرات پہ آئی تو روس کے پیوٹن سے بھی زیادہ آہنی اعصاب والے ایرانی سفارتکاروں نے ٹرمپ کی ٹیم کے دانتوں تلے پسینہ نکلوا دیا۔

2016 میں پہلی بار انتخاب کے بعد ٹرمپ نے جس کروفر سے اوبامہ معاہدہ یکسر مسترد کیا تھا دس سال بعد اسرائیل پہ میزائیلوں کی بارش کرانے اپنے کئی جہاز گروانے اور اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانے کے بعد اسی پرانے معاہدے کو نئے لفافے میں اپنی جیت قرار دینے پہ مجبور ہوگیا ہے۔

اب خامنائی کا جنازہ جو دور حاضر کے بہت بڑے جنازوں میں سے اک قرار دیا جا رہا ہے ایرانیوں کے آہنی اعصاب اور فطانت کی اک واضح مثال ہے۔

بے کسی میں سفید ریش بزرگ معصوم نواسی اور اہلخانہ کے ہمراہ حق کے لئے مارا گیا مومنین اس کو سنت حسینؑ قرار دے کر اسے کربلا سے تشبیہ دے رہے ہیں۔

پھر اس جنازے کی کئی روزہ منظم تقریبات میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کے سربراہان مملکت سپیکرز سفارتکار کی شرکت ایرانی حکومت جسے ٹرمپ حمایتی رجیم قرار دیتے رہے ہیں اب مستند جائز اور قانونی حکومت کے طور پہ نظر آ رہی ہے۔

ایرانیوں نے بنا اک لفظ کہے حکومت کی قانونی حیثیت دنیا کو منوا لی ہے۔

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ بریفنگ روم میں جنازے کی کوریج دیکھتے ہوئے ایرانیوں کو دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھتا ہے اور حیرانی سے بڑبڑاتا ہے کہ مجھے لگتا تھا کہ یہ خامنائی سے نفرت کرتے ہیں لیکن یہ تو رو رہے ہیں جبکہ چند ماہ قبل یہی عوام تو خامنائی کے خلاف سڑکوں پہ تھی کوئی مجھے سمجھائے گا کہ یہ آخر ہو کیا رہا ہے۔

Check Also

Speaker Khyber Pakhtunkhwa Ke Daira e Istehqaq Mein Hairan Kun Izafa

By Nusrat Javed