Friday, 06 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (11)

Wali Ullah (11)

ولی اللہ (11)

مولانا میں تو اپنی کشتیاں جلا چکا ہوں۔ یہی تو میرا خواب تھا، ایک نیا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ قائم کرنا جو روایتی مذہبی و سیاسی جماعتوں کی کھوکھلی نعروں، مفاد پرستی اور عوام سے دوری کے برعکس ہو۔ انہوں نے مجھے شہر کے دس بارہ ایسے نوجوانوں سے ملوایا جن کے دلوں میں بھی تبدیلی کی اسی آگ نے انگارے سلگا رکھے تھے۔ تقریباً ایک مہینہ تک ہم روزانہ مولانا کی رہائش گاہ پر جمع ہوتے رہے۔ یہ محض اجتماعات نہیں تھے، بلکہ فکرکے گہرے مراقبے تھے۔ ہم نے کھلی بحث کی، ہر پہلو کو پلٹ پلٹ کر دیکھا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ نظام میں اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ ایک نئی بنیاد کی ضرورت ہے۔

ہمارا واضح ادراک تھا کہ محض مذہبی جماعت بننے سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہوگا، کیونکہ مذہبی جماعتیں اکثر فرقہ وارانہ مباحث، فقہی تفریط و تشدّد اور اپنے کو "نمایاں" نیک ثابت کرنے کے چکر میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ یہ سب معاملات بنیادی طور پر انفرادی اور شخصی نوعیت کے ہیں، جن کا ریاستی نظام چلانے سے براہِ راست تعلق نہیں۔ ریاست کا بنیادی مقصد تو شہریوں کو انصاف، معاشی ترقی، بنیادی سہولیات اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے، یہ وہ میدان ہے جہاں ہمیں کام کرنا تھا۔ چنانچہ، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنائیں گے، جس کا نام "آزاد انسان تحریک" ہوگا۔ یہ نام ہمارے مرکزی نعرے "سرمایہ داری عفریت سے آزادی، انصاف اور جاگیرداری کا خاتمہ" کو ہی عکس انداز کرتا تھا۔

ہمارا مشاہدہ یہ تھا کہ جب بھی کوئی سماجی لاوا پھوٹتا ہے، طاقتور مافیاز اور سیاسی ٹولے اسے مذہبی یا فرقہ وارانہ رنگ دے کر عوام کی توجہ بٹا دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چال ہے جس نے ملک کو گھن کی طرح جکڑ رکھا ہے۔ مذہبی جماعتیں اکثر نجی اعتقادی مسائل کو سیاست کے مرکز میں لے آتی ہیں جس سے عوام فرقہ وارانہ ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے۔ جبکہ ریاستی سطح پر عوام کے استحصال کے وسیع تر میکانزم بلا روک ٹوک چلتے رہتے ہیں، چاہے وہ زمینی مافیا ہو، بدعنوان سرکاری اہلکار ہوں، یا پھر وہ سیاستدان جو عوامی نمائندہ بن کر اربوں کا لوٹ مار کا کاروبار کرتے ہیں۔ آج کا دور محض نعروں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ دور عمل اور ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ عوام فرقہ واریت کی بجائے اپنے معیارِ زندگی میں بہتری چاہتے ہیں، انہیں روزگار، صحت، تعلیم اور سڑکوں کی ضرورت ہے۔ مگر ہماری اکثر سیاسی پارٹیاں تو سیاست کو منافع بخش کاروبار بنا چکی ہیں۔ ایک عام سیاستدان کروڑوں روپے لگا کر اسمبلی میں پہنچتا ہے اور پھر اربوں کی دولت سمیٹ کر بیرونِ ملک منتقل کر دیتا ہے۔ ان اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا کام آئین اور قوانین پر غور کرنا ہوتا ہے، مگر وہ ایک سڑک اور دو نالیاں بنا کر اپنے آپ کو عوام کا محسن گردانتے ہیں اور اس "احسان" کی اصل قیمت تو عوام ہی کے ٹیکسوں اور محرومیوں کے طور پر ادا کرتے ہیں۔

ہمارا آئینِ اور قوانین تضادات سے بھرے ہوئے ہیں جو نظام کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اسی طرح، آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق، جیسے آزادیِ اظہار، عزتِ نفس اور مساوات، کو اکثر "قومی سلامتی" یا "عوامی نظم و ضبط" کے مبہم عنوانات کے تحت انتظامیہ کے ہاتھوں میں دے دیا جاتا ہے۔ اس سے حکمرانوں کو مطلق العنانیت کا ایک خطرناک اختیار مل جاتا ہے۔ انتظامیہ کسی بھی شخص کے بنیادی حقوق کو معطل کر سکتی ہے، بنیادی حقوق کے تحفظ کے علاوہ، آزادی اظہار کے معاملے میں بھی ریاستی ادارے اور حکومتیں اکثر اپنے آپ کو "مقدس گائے" سمجھ لیتی ہیں اور ہر تنقید کو غداری کے زمرے میں ڈال دیتی ہیں۔ یہ رویہ جمہوریت اور احتساب کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔ ہمارے منصف بھی بادشاہوں سے کم نہیں جو اپنے آپ میں ایک ریاست ہیں۔ ان تمام خرابیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، ہم نے اپنی جماعت کی بنیاد ہی کچھ اس طرح رکھنے کا فیصلہ کیا کہ ہماری جماعت کی روح "مشاورت" ہوگی۔ یہ مشاورت مسلمان عوام کے نچلے اور ہر طبقے سے ہوکر گزرے گی۔

ہماری جماعت کی سب سے نمایاں اور انقلابی خصوصیت اس کی معاشی شفافیت اور سادگی کے اصولوں پر مضبوطی سے کاربند رہنا ہوگی۔ اس رقم کی وصولی اور خرچ کا ہر ہر پہلو مکمل طور پر دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیا جائے گا۔ یہ ریکارڈ نہ صرف داخلی آڈٹ بورڈ کے لیے مکمل طور پر قابلِ رسائی ہوگا، بلکہ جماعت کا کوئی بھی چھوٹا سے چھوٹا کارکن بھی کسی بھی وقت مالی لین دین کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کر سکے گا۔ ہم میڈیا کے سامنے بھی اپنے مالی معاملات کھول کر رکھیں گے۔ ہر صحافی کو، جو معروضی رپورٹنگ کرنا چاہے، ہمارے فنانشل ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی۔

سادگی کا اصول صرف کاغذات تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہر عہدے دار کی ذاتی زندگی پر بھی لاگو ہوگا۔ پارٹی کا کوئی بھی عہدے دار 1000 سی سی سے زیادہ طاقتور گاڑی کا مالک نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی وہ دس مرلے سے بڑے گھر میں رہائش اختیار کر سکے گا۔ یہ پابندیاں محض رسمی نہیں ہوں گی، ہم اس کی سختی سے نگرانی کریں گے۔ اسی طرح، زمین کی ملکیت کے معاملے میں بھی سخت اصول ہوں گے۔ دس ایکڑ سے زیادہ زمین یا اتنی معروف مالیت کا مالک کوئی شخص پارٹی کا رکن ہی نہیں بن سکے گا اور یہ پیمائش صرف اُس شخص کی ذاتی ملکیت تک ہی محدود نہیں ہوگی، بلکہ اس کے قریبی خاندان (بیوی، بچے، والدین) کی ملکیت بھی اس میں شامل سمجھی جائے گی، تاکہ کوئی شخص ملکیت کو محض اپنے نام سے ہٹا کر خاندان کے دیگر افراد کے نام منتقل نہ کر دے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ پارٹی کے عہدے دار عوام کے ساتھ محض زبانی ہمدردی کا اظہار نہ کریں، بلکہ ان کی طرزِ زندگی ہی یہ ثابت کرے کہ وہ عوامی مسائل کو سمجھتے ہیں اور ان میں شریک ہیں۔

اب ہماری سوچ اور نظریہ متعین ہو چکا تھا۔ ہم نے مافیا، جاگیرداری، بدعنوانی اور منافقت کے خلاف جنگ کا واضح لائحہ عمل ترتیب دے لیا تھا۔ یہ محض ایک خواب نہیں، بلکہ ایک عملی منصوبہ تھا۔ اب باری عمل کی تھی۔ یہ جدوجہد ایسی تحریک ہے جو عوام کو یقین دلائے گی کہ تبدیلی ممکن ہے اور یہ کہ سادگی اور دیانتداری ہی کسی قوم کی حقیقی طاقت ہے۔ ہم کشتیاں جلا چکے ہیں، پیچھے مڑ کر دیکھنے کا کوئی راستہ نہیں۔ اب صرف اور صرف آگے کا سفر ہے اور اس سفر میں ہم ہر اس شخص کو ساتھ لے کر چلیں گے جو پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک انصاف پرور اور خوشحال ریاست بنانے کا خواب دیکھتا ہے۔

اس عہد کے ساتھ ہم نے عوام سے انفرادی طور پہ اپنی رابطہ مہم کا آغاز کیا۔ میں نے زہرہ سے اپنی تحریک کی ساری روداد سنائی۔ اچھا تو جناب اب ساری دنیا کو بدلنے کی فکر کرنے لگے ہیں پہلے اپنے کپڑے تو بدل لیں تین دن سے پہنیں پھرتے ہیں۔ جی حضور جو حکم سرکار کا۔ اچھا یار میں سوچ رہا ہوں کہ طاہر بھائی سے بات کروں کہ ہم سیاسی پارٹی بنا رہے ہیں اور گھر میں فیملی کو بلاتے ہیں اپنا سارا منشور بتاتے ہیں دیکھتے ہیں پھر کون کون ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے جی کہیں پھر نہ نکلنا پڑ جائے، کہیں گے ضرغام کو روز نیا تجربہ سوجھ آتا ہے۔ ویسے بھی ہماری فیملی تو آپکی ذہنی حالت پہ کیا کچھ کہتی سوچ کر رونا آتا۔

میں سیدھا طاہر بھائی کی دکان چلا گیا۔ یار تمہارا ارادہ تو ٹھیک ہے بلکہ مجھے لگتا اب ٹھیک ہے پہلے تو ہمیں لگا جیسے تم بھی وہی مذہبی جنونی بن گئے ہو جس کو اپنا آپ ہی مسلمان لگتا۔ نہیں بھائی ایسا نہیں میں پہلے بھی سب کو مسلمان ہی سمجھتا تھا۔ بلکہ میں تو ہر ایک کو مسلمان سمجھتا ہوں جو اپنے آپکو مسلمان کہتا ہے سوائی قادیانیوں کے۔ لیکن اب میری توجہ لوگوں کی اجتماعی محرومیوں کے ازالے پر ہے۔ اس دن ابو نے میری بات سنی ہی نہیں تھی حالنکہ میں نے ڈاکٹر عمران سے یہی کہا تھا دین کی بات میں اختلاف ضرور کریں مگر احترام کے دائرہ میں۔ اچھا چل میں اس اتوار گھر میں اپنی فیملی کا ایک فنکشن رکھتے ہیں جس تم ہی اپنی بات رکھنا۔

اتوار والے دن مغرب کے وقت ہماری ساری فیملی کے لوگ امی کے بہن بھا ئیوں، ابو کے بہن بھائیوں کے سارے افراد اور ہم سب بہن بھائی آگئے تھے۔ بھائی نے سب کے لیے رات کے کھانے کا انتظام کیا تھا۔ سارے پوچھ رہے طاہر بھائی خیر ہے آج اتنا بڑا فنکشن ہے۔ نہیں بس میں نے سوچا کافی عرصہ سے ہماری کوئی بیٹھک نہیں ہوئی اور کچھ باتیں ضرغام بھی آپ لوگوں سے کرنا چاہتا تھا۔ تو تایا ابو فوراً بول اٹھے، "مطلب آج پھر ہمیں تبلیغ ہوگی؟ بہتر ہے ہم چلے جائیں، بعد میں بھی تو غصہ ہوکر جانا ہی ہے"۔

میں کافی دیر سے خاموش تھا، لیکن اب وقت آ گیا تھا۔ میں کھڑا ہوا اور آواز میں اعتدال رکھتے ہوئے کہا، "تایا ابو، ایسی بات نہیں ہے۔ پہلے میں دین کے انفرادی معاملات کی اصلاح کے لیے بات کرتا تھا، جس میں اختلافات ہیں، میں اسے قبول کرتا ہوں۔ لیکن کسی کی نجی زندگی، انفرادی عقائد – ہر انسان کا اپنا معاملہ ہے۔ اس کے لیے تعلیم و تبلیغ کا میدان ہے"۔

میں نے واضح کیا کہ میں اب بھی یہی عرض کروں گا کہ قرآن و سنت کو سمجھ کر پڑھیں، علماء کرام سے سوال کریں، اولیاء کرام سے رجوع کریں۔ جہاں کوئی بات سمجھ نہ آئے، وہاں آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہ چلیں۔ پھر جو عقیدہ بھی آپ رکھیں، وہ آپ کا حق ہے اور آپ کے عقیدے کا احترام میرا فرض ہے۔ لیکن میں نے زور دے کر کہا، "تایا جان، اس وقت پاکستان میں مسئلہ عقائد نہیں، بلکہ ظلم ہے۔ کرپشن، جاگیرداری، سود، غربت، سودی قرضے – ان سب کا بوجھ صرف غریب عوام اٹھائے ہوئے ہے۔ ہماری اشرافیہ آج بھی عیاشیوں میں مصروف ہے، ہمارے علماء فرقہ واریت کی بحثوں میں مصروف ہیں اور مافیاز اپنی لوٹ مار میں"۔

میں نے اعلان کیا، "اس وجہ سے میں نے اور میرے دوستوں نے 'آزاد انسان کی تحریک شروع کی ہے جس کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی کرنا ہے"۔ تایا ابو کے بڑے بیٹے شفیق نے سوال اٹھایا، "کیا آپ شیعہ کے ماتم کو ٹھیک سمجھتے ہو؟" میں نے کہا، "نہیں"۔ انہوں نے پوچھا، "کیا آپ مزاروں کو ٹھیک سمجھتے ہو؟" میں نے پھر کہا، "نہیں"۔ شفیق بولا، "اب آپ چاہتے ہو کہ ہم تمہارا ساتھ دیں، تاکہ ایک دن تم اقتدار میں آ کر سارے مزار گرا دو اور شیعوں پر جینا حرام کر دو؟"

میں نے تحمل سے جواب دیا، "شفیق بھائی، اہل تشیع کا ماتم کرنا اور اس کے علاوہ جو بھی ان کے عقائد ہیں، وہ ان کا نجی معاملہ ہے۔ وہ اپنی حدود کے اندر رہ کر جو مرضی کریں، ریاست کو ان سے کوئی غرض نہیں ہے۔ اسی طرح معاملہ درباروں کا ہے – یہ سب انفرادی عقائد ہیں۔ کوئی عرس مناتا ہے، منائے۔ کوئی ماتم کرنا چاہتا ہے، کرے۔ کوئی اجتماع کرنا چاہتا ہے، کرے۔ کوئی جلسہ کرنا ہے، ختم بخاری شریف کرنا ہے، ضرور کرے۔ ریاست کو اس سے کوئی غرض نہیں"۔

میں نے وضاحت کی، "ریاست تب حرکت میں آئے گی جب کوئی اپنے عقائد کے پرچار کے لیے دوسرے مسلمانوں کی زندگیاں مشکل میں ڈالے گا۔ جیسے میں اہلحدیث کی مثال لوں – اگر انہوں نے کوئی جلسہ کرنا ہے، تو ان کے علماء اپنی ذاتی جگہ پر، یا اگر نہیں ہے تو ریاست کی کسی جگہ پر اجازت لیں، پھر پورا پلان دیں کہ ان کے اس جلسے سے روڈ بلاک نہیں ہوں گے، گاڑیوں کی پارکنگ کا کیا انتظام ہے۔ پھر ان کے اس جلسے سے کسی دوسرے مکتبہ فکرکے لوگوں کی دل آزاری تو نہیں ہوگی؟ وہ اپنے جلسے میں دوسروں کے عقائد کا مذاق تو نہیں اڑائیں گے؟ اگر یہ وعدہ وہ کریں، تو وہ آزاد ہیں اپنے کام میں۔ یہی قاعدہ باقی مکاتب فکرکے لیے ہے"۔

ماموں خاور نے پوچھا، "اچھا تو تمہاری پارٹی میں کس فرقے کے لوگ ہوں گے؟" میں نے فوراً جواب دیا، "ہر مسلمان۔ یہ عوامی پارٹی ہے، جس میں اقتدار کا مقصد کسی فرقے کی امریت نہیں، بلکہ عوام کی وراثت ہے"۔ ماموں نے چیلنج کیا، "تو پھر تم لوگ کوئی قانون بنا ہی نہیں سکو گے، کیونکہ ہر فرقے میں زمین آسمان کا اختلاف ہے۔ پھر اب تو بہت سارے مسلمان لبرل سوچ بھی رکھتے ہیں"۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، "ماموں جی، یہی تو اسلام کے سیاسی نظام کی خوبصورتی ہے۔ 'وامرھم شوری بینھم' کا تقاضہ ہی یہی ہے کہ ہر مختلف سوچ کے حامل مسلمان مل کر اپنے معاملات طے کریں۔ آخر 1973 کا آئین بھی تو لبرل اور مذہبی طبقے کی متفقہ سوچ سے بنا تھا اور مذہبی طبقے میں ہر مکاتب فکرکے علماء کرام تھے۔ کیا مسلمانوں میں رواداری کی اس سے کوئی بڑی مثال ہے؟ کیا یہ معجزہ نہیں تھا؟"

اچانک بابا جان کھڑے ہوئے۔ انہیں کھڑا دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے۔ بابا نے واضح الفاظ میں کہا، "اگر یہ بات ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔ کوئی ہو نہ ہو، میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھڑا ہوں گا"۔ اس کے ساتھ ہی سب کھڑے ہو گئے۔ ہر ایک کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ "ضرغام، تم اگر واقعی اپنے مقصد میں سچے ہو تو ضرور کامیاب ہو گے، انشاءاللہ"۔ اب سیاسی پارٹی کے قدم زمین پر جمانے کا وقت آ گیا تھا۔

جاری ہے۔

Check Also

I Would Like My Enemy To Die For His Country

By Asif Masood