Saturday, 05 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Khulasa e Quran, Pandarhvi Nimaz e Taraweeh

Khulasa e Quran, Pandarhvi Nimaz e Taraweeh

خلاصہِ قرآن، پندرہویں نمازِ تراویح

پندرہویں نمازِ تراویح کا آغاز سولہویں پارے کی سورہ الکہف کی آیت نمبر 75سے ہوتا ہے جس میں حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰؑ کی گفتگو ہے خضرؑ نے فرمایا کہ میں نے آپ سے نہ کہا تھا کہ آپ ہرگز میرے ساتھ نہ ٹھہر سکیں گے۔ موسیٰؑ نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ سے سوال کروں تو مجھے ساتھ نہ رکھیے گا۔ پھر چلتے چلتے ایک بستی کے پاس آئے، ان سے کھانا مانگا مگر انھوں نے میزبانی نہ کی اسکے باوجود بستی میں بغیر معاوضہ کے ایک خستہ حال دیوار کو ٹھیک کر دیا۔ حضرت خضرؑ نے کہا اب آپ کے اور میرے راستے جدا ہیں میں اپنے تینوں کاموں کی حکمت آپ کو بتاتا ہوں۔ جو میں نے سمند رمیں کشتی کا تختہ اکھاڑا تھا وہ دس مسکین بھائیوں (پانچ اپاہج اور پانچ تندرست) کی تھی اور آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر صحیح سلامت کشتی کو زبردستی چھین لیتا اور عیب دار کو چھوڑ دیتا تھا تو اس لیے میں نے اس کو عیب دار کر دیا۔ لڑکے کو قتل کرنے میں بھی حکمت تھی کیونکہ اس کے ماں باپ مومن تھے اور اندیشہ تھاکہ یہ بڑا ہو کر اُن کو کفر اور سرکشی میں مبتلا کر دے گا۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ ان کو پاکیزہ اور رحمدل بیٹا عطا فرمائے گا۔ خضرؑ نے دیوار کو سیدھا کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس بستی کے دو یتیم بچوں کی تھی جن کا نام اصرم اور صریم تھا۔ اُس دیوار کے نیچے اُ ن کا خزانہ تھا اور اُن کا باپ نیک آدمی تھا، اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ دونوں جوانی کو پہنچ کر دانا و توانا ہو جائیں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ ان باتوں کا اصل مطلب ہے جن پر آپ صبر نہ کر سکے اور یہ سب میری مرضی سے نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔

سورہ کی آیت نمبر 83 سے ایک شخص ذوالقرنین کا ذکر ہے ذولقرنین کے معنی دو سینگوں والا ہے جو کہ ایک بادشاہ کا لقب تھا۔ بادشاہ ذوالقرنین مشرق و مغرب میں چشمۂ حیات کی تلاش میں حضرت خضرؑ کے ساتھ نکلے جس کے بارے میں انھوں نے کتابوں میں دیکھا تھا کہ حضرت نوحؑ کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمۂ حیات سے پانی پئے گا اور اس کو موت نہ آئے گی۔ حضرت خضرؑ نے اس میں سے پانی پی لیا مگر ذوالقرنین کے مقدر میں نہ تھا اس لیے انھوں نے وہ چشمہ نہ پایا۔

بادشاہ نے تین لمبے سفر کیے، پہلا دنیا کے انتہائی مغرب، دوسرا انتہائی مشرق اور تیسراانتہائی شمالی علاقے تک۔ اپنی فتوحات کے دور میں ان کا گزر ایک ایسی قوم سے ہوا جو پہاڑوں کے درمیان آباد تھی اور ایک وحشی قوم کے حملوں کا شکار بنتی تھی جسے قرآن پاک میں یاجوج ماجوج کا نام دیا ہے۔ لوگوں نے کہا بے شک یا جوج ماجوج زمین میں فساد مچاتے ہیں تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ مال مقرر کر دیں کہ آپ ہم میں اور اُن میں ایک دیوار بنا دیں۔ اس پر ذوالقرنین نے کہا کہ وہ جس پر میرے رب نے قابو دیا ہے بہترہے، تو میرے مدد طاقت سے کرو میں تم میں اور اُن میں ایک مضبوط آڑ بنا دوں گا۔ پھر دیوار پہاڑ کے دونوں کناروں سے برابر کرکے اور تانبہ اونڈیل کر ایسی مضبوط دیوار بنا دی جس کی وجہ سے وہ لوگ یاجوج ماجوج سے محفوظ ہوگئے۔

یہ دیوار قربِ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ٹوٹ جائے گی اور یا جوج ماجوج پوری دنیا میں پھیل کر تباہی مچا دیں گے۔ آیت نمبر 109 میں فرمایا اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا اور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی اگرچہ ہم ویسا ہی اور اس کی مدد کو لے آئیں۔ سورہ کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور کے فرمایا کہ تم ان سے فرماؤ ظاہر صورت بشری میں تو میں تم جیسا ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبودہے تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اُسے چائیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔

سورۃ مریم مکیہ میں 6 رکوع اور 98 آیات ہیں جو ترتیبِ توفیقی میں 19 جبکہ ترتیبِ نزولی میں 44 نمبر پر ہے اور اس کا آغاز حروفِ مقطعات کٓھٰیٰعٓصٓ۔ سورہ کا نام مریم حضرت مریمؑ کی نسبت سے ہے اور بقول ابن کثیر حضرت مریمؑ کا نام قرآن پاک میں صراحت کے ساتھ 30 جگہ آیا ہے اور سوائے مریمؑ کے کسی اور عورت کا نام نہیں آیا۔ مکہ کے دو مشہور سیاست دان عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ نجاشی کو جب اس بات پر آمادہ نہ کر سکے کہ مسلمان مہاجرین کو حبشہ سے نکال دے تو یہ چال چلی کہ بادشاہ مسلمانوں سے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں پوچھے کہ ان کا کیا عقیدہ ہے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ مسلمان صحیح عقیدہ بیان کریں گے تو نجاشی غیض و غضب میں آ کر مسلمان مہاجرین کو ملک بدر کر دے گا۔

اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل کرکے عیسائیوں کے غلط عقیدوں کی تردید ہے اور مسلمانوں کو حضرت مریمؑ، حضرت عیسیٰؑ، حضرت زکریاؑ اور حضرت یحییٰؑ صحیح حقیقت سے واقف کرنے کے لیے یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس سورت میں حضرت مریمؑ کی عظمت، تقویٰ اور پاکیزگی کے واقعات اور ولادتِ عیسیٰؑ کے ساتھ حضرت زکریاؑ پر لطفِ الٰہی کے نزول کا بیان ہے۔ حضرت زکریاؑ بڑھی کا کام کرتے تھے اور اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ دعا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریاؑ کی نیاز مندانہ دعا کو قبولیت کا شرف عطا فرما کر انھیں بڑھاپے میں ایک نیک و صالح بیٹے کا مژدہ سنایا جس کا نام یحییٰ ہوگا اور وہ پیدائش سے ہی صاف ستھرا، پاکیزہ نبی ہوگا۔

اس بیان کے ساتھ ہی آیت نمبر 15 میں حضرت مریمؑ کا واقعہ بیان کر دیا جب ان کے پاس اللہ نے جبریلؑ کوایک تندرست آدمی کے روپ میں بھیجا۔ حضرت مریمؑ ڈر گئیں اور کہا میں تم سے رحمان کی پنہاہ مانگتی ہوں آپ نے کہا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں اور تھجے ایک بیٹے کی خوشخبری دیتا ہوں۔ حضرت مریمؑ حیران ہوئیں اور فرمایا میرا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے کہ مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ تک نہیں لگایا؟ تو جبریلؑ نے ان کے استفسار پر فرمایا کہ یونہی ہے تیرے رب کا حکم۔ حضرت مریمؑ بوقتِ حمل دور جگہ چلی گئیں (رسوائی و بدنامی کے اندیشے کے پیشِ نظر) اور جنگل میں بوقتِ دردِ زہ کھجور کے کچھ تنے کے ساتھ ٹھیک لگائی۔ جب حضرت جبریلؑ نے اپنی ایڑی زمین پر ماری تو قدرت الہیہ سے آبِ شیریں کا ایک چشمہ جاری ہوگیا اور کھجور کا درخت بھی سرسبز ہوگیا اور اس پر پختہ وپکا ہوا پھل لگ گیا۔

پھر آپ بچے کو گود میں لیے اپنی قوم کے پاس آئیں، قوم نے کہا اے ہارون کی بہن تیرا باپ اور تیری ماں برے آدمی نہ تھے بے شک توُ نے بہت بڑی بات کی۔ اس پر مریمؑ نے بچے کی طرف اشارہ کیا تو وہ گود میں بات کرنے لگا اور بچے نے کہا میں ہوں اللہ کا بندہ، اس نے مجھے کتاب دی اور غیب کی خبریں دینے والا نبی کیا اور اس نے مجھے مبارک کیا اور مجھے نماز و زکوۃ کی تاکید فرمائی۔ اس کے بعد یہود حضرت عیسیٰؑ کو ساحر، کذاب (معاذاللہ) کہتے ہیں جبکہ نصاریٰ انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا اور تین میں کا تیسرا کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ عیسی مریم کا بیٹا ہے جو سچی بات کرتا ہے اور اللہ کو لائق نہیں کہ وہ اپنا بیٹا ٹھہرائے۔

آیت نمبر41 سے حضرت ابراہیمؑ کے اندازِ دعوت کو بڑی حسن و خوبی سے بیان کیا کہ کس طرح آپ خیر خواہی، ادب و احترام کو اپناتے ہوئے حق کی دعوت دیتے تھے۔ آپ نے اپنے والد کو فرمایا کہ کیوں آپ ایسوں کو پوجتے ہیں جو نہ سنے، نہ دیکھے اور نہ کچھ آپ کے کام آئے۔ آیت نمبر 51 سے متعدد اولوالعزم رسولوں (موسیٰؑ، ہارونؑ، اسمعیلؑ، ادریسؑ، ابراہیمؑ، یعقوبؑ)کے خصوصی کمالات اور ان کی اولادوں کا ذکرہے۔ ان کی اولادوں نے زعمِ باطل میں مبتلا ہو کر(کہ وہ نیکیوں کی اولادیں ہیں) راہِ حق سے منہ موڑ کر نافرمانی و سرتابی میں دوسرے سے بھی سبقت لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جھنجھوڑا اور سرزنش کی اور ساتھ ہی تسلی دی کہ اگر وہ سچے دل سے توبہ کر لیں تو رحمت کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں گے۔

آیات نمبر 67 سے 82 میں منکرین قیامت کی غلط فہمیوں کا ازالہ فرما دیا اور بتا دیا کہ دنیا کی زنیت اور ساز و سامان ناپائیدار ہے۔ قیامت والے دن پتا چل جائے گا کہ کون ہدایت یافتہ تھا اور کون گمراہ اور ہر کوئی ہمارے پاس اکیلا آئے گا اور اپنے دنیا میں عقیدے کے مطابق جزا و سزا پائے گا۔ سورہ مریم کے آخری رکو ع گمراہ فرقوں کی حماقتوں کو بیان کیا جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد گھڑ لیتے تھے اور ان پر واضح کر دیا کہ رحمٰن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ ہم نے قرآن کو تمہاری ہی زبان میں آسان کر دیا تاکہ تم اس سے ڈر (جھگڑالو) اور خوشخبری (نیکوکاروں) سناؤ۔ ہم نے اس پہلے تکذیبِ انبیاء کرنے والی قومیں تباہ کر دیں جس کی کسی کو بھنک نہیں اور اگر انھوں نے بھی یہی کام کئے تو ان کا بھی انجام ایسا ہی ہوگا۔

سورۃ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس کا ترتیبِ توفیقی میں 20 اور ترتیبِ نزولی میں 45 نمبر ہے اور یہ 8 رکوعات اور 135 آیات پر مشتمل ہے۔ طٰہٰ نبی کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس سورت میں اسی نام سے حضور کو نداء دی گئی۔ مستند روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمرؓ اسی سورہ کو سن کر اسلام لائے۔ جس دور میں یہ سورہ نازل ہوئی وہ دور مسلمانوں پر سخت آزمائشوں اور تکلیفوں کا تھا، کفار کی اسلام دشمنی عروج پر تھی اور یہ سورہ نازل کرکے ان کو تسلی دینا مقصود تھا۔

دوسری آیت میں آپ کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑو۔ بیشک آپ کا دین پھیلے گا اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ اس کے بعد بڑی تفصیل سے حضرت موسیٰؑ کا ذکر کیا گیا جب انھیں ایک تاریک خنک رات وادی، طور میں بلا کر نبوت عطا کی گئی اور کس طرح انھوں نے ظالم بادشاہ (فرعون) کے سامنے بھرے دربار میں میری توحید بیان کی۔

آیت نمبر 85 میں سامری کا ذکر کیا کہ کس طرح اس نے بنی اسرائیل کو گمراہ کیا اور ساتھ ہی اس کے مکر و فریب اور کم عقلی و کوتاہی اندیشی کا پردہ چاک کر دیا۔ آیت نمبر 105 میں پہاڑوں کو قیامت کے دن ریزہ ریزہ ہونے بارے بتلایا گیا کہ لوگ آپ سے پہاڑوں کے متعلق پوچھتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا کیا حال ہوگا تو آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب انھیں ریزہ ریزہ کر دے گا۔ آیت نمبر 109 میں بتا یا کہ اللہ کی بارگاہ میں کسی کو شفاعت کی ہمت نہ ہوگا ماسوائے جسے اللہ تعالیٰ اِذنِ شفاعت عطافرمائے گا۔ آخر میں حضرت آدمؑ کا واقعہ بیان فرمایا جو جنت میں منع کیے گئے درخت کے پاس چلے گئے، ان سے بھول ہوئی (جو کہ اجتہادی خطا دی) جس پر وہ نادم ہوئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جو مقبولِ بارگاہِ الہی ہوئی۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان غلطی، خطا کرکے اس پر ڈٹ نہ جائے بلکہ رب سے معافی مانگے کیونکہ اکڑنا اور ڈٹ جانا انسان کو ہلاک کر دیتا ہے جیسے ابلیس کو ہلاک کر دیا۔

سورہ کی آخری آیات میں بتایا کہ کافروں کو دنیا کی چمک دھمک اور رعنایاں دی گئی جو انہیں میں گم ہیں اور اس فتنہ میں مبتلا ہو کر وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ اے رسول تم ان (کفار) کی باتوں پر صبر کرو، اپنے رب کی تعریف کرو، دن رات اسکی پاکی بولو، اپنے گھر والوں کو نماز کو حکم دو، خود اس پر ثابت قدم رہو اور اس کا مکلف نہیں کرتے کہ ہمارے خلق کو روزی دے بلکہ ہم تجھے روزی دیں گے۔ تم ان (کفار و مشرکین) سے فرماؤ سب راہ دیکھ رہے ہیں تم بھی راہ دیکھو، تو اب جان جاؤ گے کہ کون ہے سیدھی راہ والے اور کس نے ہدایت پائی۔

Check Also

Apni Zanjeeren Hamen Khud Torna Hongi

By Nusrat Javed