Solar Bijli Ki Kharidari
سولر بجلی کی خریداری

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں صارفین سے سولر بجلی کے خریداری نرخوں میں کی گئی کمی پر سختی سے نوٹس لیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے سولر بجلی خریداری کے نرخوں کو 27 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 10 روپے فی یونٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر وزیر اعظم پاکستان نے واضح کیا کہ شمسی توانائی سے متعلق حکومتی پالیسی اور ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پاور ڈویژن کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔
شمسی توانائی کی پالیسی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان میں متبادل توانائی کے فروغ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے سبب توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دی گئی۔ پاکستان میں بھی 2015 کے بعد سے شمسی توانائی کے فروغ کے لیے متعدد منصوبے متعارف کرائے گئے جن میں نیٹ میٹرنگ پالیسی خاص طور پر نمایاں ہے۔ اس پالیسی کے تحت سولر پینل لگانے والے صارفین سے اضافی بجلی خریدی جاتی رہی ہے مگر حالیہ 27 روپے فی یونٹ کی خریداری کے حکومتی فیصلے نے اس پالیسی کو ازسرنو تشکیل دیا ہے۔
توانائی ماہرین کی رائے میں حکومت کی نئی پالیسی درست سمت میں ایک اہم قدم ہے کیونکہ سابقہ نظام کے تحت صارفین سے لاگت کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی بجلی خریدی جا رہی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، سولر بجلی کی پیداواری لاگت 6 سے 8 روپے فی یونٹ بنتی ہے جسے حکومت 27 روپے فی یونٹ خرید رہی تھی۔ دوسری طرف عام صارفین کو یہی بجلی اوسطاً 47 روپے فی یونٹ کے نرخ پر مل رہی تھی جو غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلہ تھا۔
دوسری جانب سولر پینل رکھنے والے صارفین کی بھی کچھ جائز شکایات ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ وہ حکومت کو 10 روپے فی یونٹ بجلی فروخت کرکے دوبارہ وہی بجلی 47 روپے فی یونٹ کیوں خریدیں؟ یہ ہم پر سراسر ظلم ہے کہ ہم 10 لاکھ کے سولر پینل لگا کر بھی 47 روپے فی یونٹ کے حساب سے حکومت سے مہنگی بجلی کیوں خریدیں؟ اس حوالے سے حکومتی پالیسی میں شفافیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔
وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ شمسی توانائی کی پالیسی میں بار بار رد و بدل سے گریز کیا جائے اور عوام کو تمام فیصلوں سے بروقت آگاہ رکھا جائے۔ موجودہ گرمی کے موسم میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ عوامی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں اور ماضی میں لوگوں کو مہنگی بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے اپنے گھریلو سامان تک فروخت کرنا پڑا تھا۔
حکومت کو چاہئیے کہ وہ بجلی کو ایک بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے عام صارفین کے لیے اس کی قیمت کو پیداواری لاگت کے قریب تر رکھے تاکہ تمام فریقین کے لیے ایک متوازن اور قابل قبول حل پیش کیا جا سکے۔ امید ہے کہ ارباب اختیار اس طرف ضرور توجہ دیں گے۔