FBR Ko Khatam Kar Dein
ایف بی آر کو ختم کر دیں

حکومت اپنی نالائقی، عیاشی اور لوٹ مار کو عالمی مارکیٹ کی قیمتوں میں اضافے کے بہانوں کے پیچھے نہیں چھپا سکتی۔ یہ صرف ایک بہت بڑی اور منظم واردات کے حقائق چھپانے کی کوشش ہے، کہ ہمارا کوئی قصور نہیں، عالمی مارکیٹ میں ہی پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوچکا ہے۔۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ کیا حکومت سچ بول رہی ہے، یا پھر یہاں بھی باقی وارداتوں کی طرح فراڈ کیا جا رہا ہے۔۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونےکی وجہ عالمی سطح پر مہنگائی ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پورے ایشیاء میں سب سے زیادہ مہنگا پیٹرول پاکستان میں ہی کیوں ہوتا؟
ہم تو آبنائے ہرمز کے بالکل دروازے پر بیٹھے ہیں، پوری دنیا کے لیے بند ہونے والی آبنائے ہرمز کے دروازے پاکستان کے لیے تو ایک روز بھی بند نہیں ہوئے۔ جو ممالک یہاں سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں، جہاں تک آئل ٹینکر پہنچانے میں ان کا پاکستان سے بہت زیادہ خرچ آتا ہے، ان میں بھی پیٹرول اتنا مہنگا نہیں ہے۔۔ بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش اور حتی کہ ڈیفالٹ کرجانے والے ملک سری لنکا میں بھی پیٹرول پاکستان کی نسبت سستا ہے۔۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر 198 روپے ایک پیسے کے صرف ٹیکسز عائد ہیں، پیٹرول کی ٹیکسز کے بغیر قیمت 216 روپے68 پیسے بنتی ہے، پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر پریمیم بھی شامل ہے۔ 117 روپے 41 پیسے لیوی ٹیکس، 22 روپے 74 پیسے کسٹم ڈیوٹی ٹیکس شامل ہے۔ جبکہ تیل کمپنیوں کا منافع 8.64 روپے، 7.87 روپے ڈسٹری بیوشن مارجن شامل ہے، 7 روپے 25 پیسے فریٹ مارجن بھی شامل ہے جبک 9 ڈھائی روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے جس کو ہم ماحولیاتی ٹیکس کہہ سکتے ہیں۔ پیٹرول پرفی لیٹر 2 روپے 69 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ شامل کی گئی ہے۔
اب آجائیے ڈیزل پر اس کی فی لیٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے کے ٹیکسز شامل ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے لیوی، 32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی ہے۔ ڈھائی روپےکلائمٹ سپورٹ لیوی ٹیکس، 8.91 روپے سمندری نقصان کی ڈیوٹی بھی شامل ہے، 2روپے 95 پیسے ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ، 7 روپے 76 یسے فریٹ مارجن عائد کیا گیا ہے، ڈیزل پر 7.87 روپے ڈسٹری بیوشن مارجن، 8روپے 64 پیسے تیل کمپنیوں کا منافع ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 20 ڈالر فی بیرل پریمیم الگ سے شامل ہے۔
یہ ہے وہ اصل واردات جس نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور یہ براہ راست حکومت کی ناکامی کی عملی مثال ہے۔۔
حکومت کو سال بھر سرکاری ادارے چلانے اور سود کی قسطیں ادا کرنے کے لیے جو ہزاروں ارب روپے درکار ہوتے ہیں اس کو اکٹھا کرنا دراصل ایف بی آر نامی ادارے کا کام ہے۔ ایف بی آر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بڑے بڑے مگر مچھوں سے ٹیکس اکٹھا کرے جس سے حکومتی خرچے پورے کیے جا سکیں۔۔ افسوس اس بات پر ہے کہ یہ اربوں روپے کمانے والوں کو ٹیکس چوری کروا دیتے ہیں اور پھر اس کا سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا جاتا ہے جن سے ٹیکس لینا ریاست کے لیے جائز ہی نہیں۔۔ جن بیچارے غریبوں کو سہارا دے کر غربت سے نکالنا ریاست کی ذمہ داری ہے ریاست الٹا ان سے پیٹرول، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں ٹیکس ڈال کر وصولیاں کررہی ہے اور وہ روز بروز خط غربت کی لکیر کے نیچے دھنستے چلے جارہے ہیں۔۔
ایف بی آر نامی مگرمچھ نے گذشتہ سال ایک بڑی واردات یہ ڈالی کہ اس نے ٹیکس اکٹھا نا کرپانے کی اپنی ناکامی کا بہانہ لگایا کہ "ہمارے پاس گاڑیاں نہیں ہیں"۔۔ گذشتہ برس انہیں ایک ہزار سے زائد انتہائی مہنگی، اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں لے کر دی گئیں جن پر وہ عیاشیاں کرتے پھر رہے ہیں جبکہ ٹیکس پیٹرول کی قیمتوں میں ڈال کر لیا جا رہا ہے۔۔
اگر ٹیکس اسی طرح بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہی ڈال کر لینا ہے تو پھر حکومت کو چاہئے کہ فی الفور ایف بی آر نامی مگرمچھ کو ختم کیا جائے۔۔ کم از کم ان کی عیاشیوں اور ششکوں پر لگنے والے اربوں روپے تو بچیں۔۔
یاد رہے ابھی میں نے آئی پی پیز کو دینے والے سالانہ 2 ہزار ارب روپے کا ذکر نہیں کیا کہ جو حکومت اشرافیہ اور حکومت میں ہی بیٹھے مافیاز اور ان کے رشتے داروں کو بجلی بنائے بغیر ہی دیے جارہی ہے۔۔
ابھی ان 500 ارب روپے کا کوئی ذکر نہیں کیا جو صرف چند درجن شوگر ملز مالکان نے چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے غریب عوام کی جیب سے نکالے ہیں۔۔
ابھی ان 300 ارب روپے کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا جسے چند گھی ملز نالکان نے پوری دنیا میں سویا بین سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں گھی کی قیمتیں کم نا کرکے غریبوں کی جیبوں سے نکالا ہے۔۔ ابھی ان 17 ارب ڈالرز کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا جو آئی ایم ایف کی ہی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا حکمران طبقہ اپنی مراعات پر لگا دیتا ہے۔۔ ان وارداتوں پر کوئی نہیں بولے گا۔۔ ہزاروں ارب روپے کے یہ سرکاری ششکے کوئی کم نہیں کروائے گا۔
یہاں تازیانہ برسانے کے لیے فقط غریب کی کمر نظر آتی ہے جو پہلے ہی مرا ہوا ہے، جس کی پہلے ہی سانس بند ہے، جس کو پہلے ہی دو وقت کی روٹی میسر نہیں، جس کے بچوں کے تن پر پہلے ہی کپڑے نہیں ہیں، جس کے بچے سکول نہیں جا سکتے ہیں، جن کے گھر مریض کو دینے لیے دوائیاں تک نہیں ہیں۔۔
یہ ملک صرف اشرافیہ کی چراہ گاہ بن چکا ہے اور غریب ان کا پسندیدہ چارہ ہے۔۔

