Apne Huqooq Aur Faraiz Pehchaniye
اپنے حقوق اور اپنے فرائض پہچانیے
یوں تو میں نے ایک پنجاب میں پیدا ہونے والی کشمیری خاتون ہونے کے ناطے یہاں اپنے اطراف میں بہت سارے ایسے رسم و رواج دیکھے جو ہمارے گھرانوں میں آج بھی مروج نہیں ہیں۔ لیکن ان میں سے دو ایسی رسمیں ہیں جن سے ایک عورت ہونے کے ناطے میں ہمیشہ ہی الجھن میں مبتلا رہی۔ اس لئے نہیں کہ یہ ہمارے یہاں مستعمل نہیں ہیں بلکہ اس لئے کہ میں ان کی منطق کبھی سمجھ ہی نہیں پائی۔ پہلی تو ہر خاتون کا ہر ڈیلیوری کیلئے اپنے والدین کے گھر چلے آنا۔ یہ میرے لئے ایک بالکل ناقابلِ فہم عمل ہے اور اس عمل کا سب سے غلط پہلو یہ ہے کہ وہاں حمل کے دوران بیٹی کی خوراک اور علاج پہ اٹھنے والے اخراجات سے لے کے ڈیلیوری تک کے سب مراحل لڑکی کے والدین کے ذمے ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ عورت کی زندگی کا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے جس میں بیٹی شاید اپنوں میں سکون محسوس کرتی ہوگی لیکن فیس بک پہ اکثر خواتین کے گروپس میں خواتین شدید پریشان نظر آتی ہیں کہ ان کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں یا وہاں کا ماحول پرسکون نہیں ہے تو وہ میکے نہیں جانا چاہتیں لیکن ساس اور شوہر مصر ہوتے ہیں کہ ہر صورت ہی میکے چلی جاؤ۔
میں نہیں جانتی کہ یہ رسم کس کس خطے میں ہے اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں لیکن کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اپنی اولاد کی پیدائش کے سب مراحل میں اپنی بیوی کی دیکھ بھال اور اس کا علاج اس مرد کی ذمہ داری ہے جو باپ بننے جا رہا ہوتا ہے اور اس تکلیف میں اس کی دیکھ بھال اس مرد کے اہلِ خانہ کی ذمہ داری۔ میں جانتی ہوں کہ ان مواقع پہ بہت کم سسرال والے اپنی بہوؤں کا خیال رکھتے ہیں۔ خاص طور پہ ساسیں بہت tough time دیتی ہیں بہوؤں کو بدقسمتی سے۔ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو اس طرح کی صورتحال سے نکالنے کا خواہش مند ہے تو اسے کم ازکم اپنی ذمہ داری تو نبھانی چاہیئے کہ بیوی کو اتنی رقم تو دے کے بھیجے کہ جو اس کی خوراک اور علاج کیلئے کافی ہو۔ ڈیلیوری کے وقت کے سارے اخراجات بھی اسی کی ذمہ داری ہیں جنہیں اسے بطورِ قوام ہر صورت نبھانا چاہیئے۔
ایک اور عجیب رسم یہ ہے کہ بھانجیوں کی شادی کے اخراجات ماموؤں نے اٹھانے ہیں۔ ایک ہوتا ہے ماموں ممانی کا اپنی مرضی اور خوشی سے بھانجی کی شادی پہ اپنی بہن کے ساتھ ہاتھ بٹانا۔ اپنی استطاعت کے مطابق کوئی بھی شے تحفتاً دینا، اچھی سلامی دینا، جتنا ان کیلئے ممکن ہے اتنا اپنی بہن اور بھانجی کی محبت میں ان کا خیال رکھنا۔ لیکن ایک ہوتا ہے بہن کا بھائیوں کو اپنی بیٹی کی شادی کے اخراجات پہ مجبور کرنا۔ انہیں یہ بتانا کہ اتنے اتنے لاکھ تم دو گے اور اتنے اتنے لاکھ فلاں بھائی اور اگر کوئی مجبوری کے تحت اتنا نہ کر سکے تو اسے عار دلانا، شرمندہ کرنا، لوگوں کو بتانا کہ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ یہ کر رہا ہے، یہ کیسا رویہ ہے؟ میں تو آج تک نہیں سمجھ پائی اور میں نے اپنے اطراف میں یہ رویہ بہت عام دیکھا ہے۔
بھائی صاحب بہن کو وراثت میں سے حصہ نہیں دیتے تو بہن سمجھتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو بھائی سے جو بھی نکلوا سکتی ہیں وہ نکلوا لیں۔ یعنی کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ باپ کی وراثت میں حصہ جو بہنوں کا حق ہوتا ہے، وہ ادا نہ کرنا باعثِ عار نہیں سمجھا جاتا، نہ اس کیلئے بہنیں بھائیوں کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں بلکہ وراثت میں سے حصہ مانگنا باعث عار سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ ماموں کی کمائی میں بھانجی کا سوائے ماموں کی محبت اور ان کے احساس کے اور کیا حق ہے بھلا جسے باقاعدہ طعنوں کا موضوع بنا کے، یہ رقم ادا کرنے پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ خدارا اپنے دین کو سمجھئیے اور بیکار کے رسم و رواج کو ترک کے ایک دوسرے کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کرنے کی بجائے، آسانیاں پیدا کرنے والے بنئیے۔ اپنے اپنے حقوق اور اپنے اپنے فرائض پہچانیے۔

