Friday, 28 March 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qamar Naqeeb Khan
  4. Musalmano Ki Tahi Damani

Musalmano Ki Tahi Damani

مسلمانوں کی تہی دامنی

رسول اللہ ﷺ کی تاریخ پیدائش پر ڈھیروں اختلافات ہیں۔ مشہور ہے کہ بارہ ربیع الاول کو پیدائش ہوئی، البتہ محققین کے دو قول ہیں، 8 ربیع الاول یا 9 ربیع الاول، بعض نے ایک کو ترجیح دی ہے، بعض نے دوسرے کو۔ دیوبندیوں کے مطابق راجح قول یہی ہے حضور اکرم ﷺ کی پیدائش 8 ربیع الاول بمطابق 20 یا 22 اپریل 571 عیسوی کو ہوئی۔ بریلوی بارہ ربیع الاول پر مصر ہیں۔ جبکہ حضرت غوث اعظم دستگیر فرماتے ہیں دس محرم الحرام کو پیدا ہوئے۔

اسی طرح تاریخ وفات میں بھی اختلاف ہے، مشہور قول کی بنا پر 12 ربیع الاول سن11 ہجری بروز پیر کو وفات ہوئی، لیکن یہ قول بھی درست نہیں ہے۔ بعض نے یکم ربیع الاول کو اور بعض نے 2 کو تاریخ وصال قرار دیا ہے، علامہ سہیلی نے روضۃ الانف میں اور علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں اسی کو راجح قرار دیا ہے۔

حضرت علیؑ کی تاریخ پیدائش پر بھی ڈھیروں اختلافات ہیں۔ اہل تشیع کہتے ہیں حضرت علی کعبے میں پیدا ہوئے اہل سنت علماء اس بات کو بالکل بھی نہیں مانتے۔ بعض حضرات 13 رجب کی تاریخ بتلاتے ہیں، یہ صرف اندازہ اور تخمینہ ہے۔ شاہ عبد العزیز محدثِ دہلوی نے اپنی کتاب "تحفۂ اثنا عشریہ" میں اس کا رد کیا ہے۔ شیخ طوسی نے اپنی کتاب مصباح المجتہد میں امام جعفر صادق سے روایت لکھی ہے کہ حضرت علیؑ بروز ہفتہ 7 شعبان کو پیدا ہوئے۔ بعض شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ حضرت علیؑ چودہ رمضان المبارک کو پیدا ہوئے۔

ایران کے شاہ حسین صفوی نے سترہویں صدی عیسوی میں شیعہ علماء کی ایک میٹنگ بلائی کہ امیر المومنین علی ابنِ ابی طالب کے یومِ پیدائش کا تعین کیا جائے اور کسی ایک دن کو جشنِ ولادت کے لیے مختص کیا جائے۔ 80 علمائے کرام کے درمیان لمبی چوڑی بحث و تمحیص ہوئی، دس پندرہ دن علامے لڑتے رہے آخرکار شاہ حسین صفوی کو تیرہ رجب کی تاریخ پسند آئی، مجبوراً آج کل حضرت علیؑ کو تیرہ رجب کو پیدا ہوتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی بیویوں پر ڈھیروں اختلاف موجود ہیں۔ اہل سنت جنہیں بیویاں کہتے ہیں اہل تشیع انہیں نہیں مانتے۔ ابن ہشام نے السیرۃ النبویۃ میں رسول اللہ کی تیرہ بیویاں لکھی ہیں۔ شیخ صدوق نے الخصال میں امام جعفر صادقؑ سے ایک روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ ازواج رسولﷺ کی تعداد پندرہ تھی۔ علی بن حسین مسعودی و شمس الدین ذھبی نے بھی پندرہ لکھی۔ امام حاکم نے اپنی المستدرک علی الصحیحین میں ازواج رسولﷺ کی تعداد سترہ لکھی ہے۔

حضرت علیؑ کی بیویوں اور لونڈیوں کی تعداد پر بھی لمبی بحث موجود ہے۔ پیدائش سے لے کر وفات تک کوئی ایسی چیز نہیں جس پر امت مسلمہ متفق ہو۔ نماز جیسی عبادت جو دن رات میں پچاس مرتبہ پڑھی جاتی رہی اس پر بھی اختلافات کا انبار لگا ہوا ہے۔

دوسری جانب رسول اللہ ﷺ کی تلواروں کے نام من و عن بیان کیے جاتے ہیں، رسول اللہ کی بکریوں کے نام، اونٹنیوں کے نام، گھوڑے کے نام یہاں تک کہ دو گدھوں کے نام بھی نہایت کانفیڈنس سے بیان کیے جاتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل صاحب خود کو رسول اللہ کا میراثی کہتے ہیں اور رسول اللہ کا شجرہ پڑھتے ہیں۔ یہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔ ایک طرف بیویوں بیٹیوں کی تعداد پر اختلاف اور دوسری طرف بکریوں کے نام بھی محفوظ۔۔ بندہ کس بات پر ایمان و یقین اعتبار و اعتماد کرے؟

Check Also

Bazar e Husn Az Munshi Premchand

By Muhammad Ali Ahmar