Sarab e Kamal
سرابِ کمال

یہ دنیا ایک پیچیدہ کشمکش کا نام ہے، جہاں انسان کی خواہشات اس کی بصیرت پر غلبہ پا لیتی ہیں۔ دل کی ضد عقل کی سرگوشی کو دبا دیتی ہے اور یوں انسان اُن ہاتھوں کو نظرانداز کر دیتا ہے جو وقتِ عسر میں سہارا بنتے ہیں۔ وہ کلی حقیقت کو ترک کرکے جزوی لذت کا اسیر ہو جاتا ہے، سو خوبیوں سے آراستہ شے کو ایک خفیف نقص کے باعث رد کر دیتا ہے اور ایک معمولی کشش رکھنے والے فریب کو تقدیر کا عنوان دے بیٹھتا ہے۔
یہی نادانی اسے بار بار ایک ہی دائرۂ حسرت میں گھماتی ہے۔ ٹھوکر، پچھتاوا اور پھر وہی انتخاب، گویا شعور شکست کھا جائے اور خواہش فاتح ٹھہرے۔ انسان کی روش اسے بولنے نہیں دیتی، رکنے نہیں دیتی، ورنہ اس وسیع کائنات میں امکانات کے دریا بہتے ہیں، جہاں محنت اور جستجو مستقبل کی کنجیاں تھامے کھڑی ہیں۔
محبت میں تو یہ بھٹکاؤ اور گہرا ہو جاتا ہے۔ انسان کمال کا متلاشی ہے، حالانکہ کمال فطرت میں بھی نقص کے سائے کے بغیر نہیں ملتا۔ بے عیبی کا مطالبہ انسانی رشتوں کو مصلوب کر دیتا ہے۔ فلسفہ یہی سکھاتا ہے کہ توازن ہی نجات ہے، کیونکہ زندگی خواہش کی اندھی دوڑ نہیں، بلکہ فہم اور برداشت کے مابین ایک نازک معاہدہ ہے۔

