Kash Dil Ki Zuban Hoti
کاش دل کی زبان ہوتی

انسانی احساسات کی وسعت اور زبان کی محدودیت کے درمیان ایک ازلی کشمکش موجود ہے۔ انسان کے دل میں جذبات کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے، مگر جب وہ انہیں الفاظ کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر ناکام رہتا ہے۔ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جن کی شدت، گہرائی اور پیچیدگی اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ زبان ان کی مکمل ترجمانی سے قاصر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلوصِ دل سے کہی گئی بات بھی کبھی ادھوری رہ جاتی ہے اور انسان کے پاس وہ مناسب الفاظ نہیں ہوتے جو اس کے اندر کے سچ کو پوری طرح بیان کر سکیں۔
یہ ادھورا اظہار اکثر غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے۔ جب انسان اپنے جذبات کو محدود اور نامکمل الفاظ میں پیش کرتا ہے تو سننے والا انہیں اپنی فہم اور تجربے کے مطابق معنی دیتا ہے، جس کے نتیجے میں خلوص، الزام محسوس ہونے لگتا ہے اور سچ، تنقید یا بہتان کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ لسانیات اور نفسیات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انسان جو محسوس کرتا ہے، وہ مکمل طور پر زبان کے ذریعے منتقل نہیں کر پاتا، ایک بڑا حصہ خاموشی، لہجے اور باطنی کیفیتوں میں پوشیدہ رہتا ہے۔
لہٰذا مسئلے کا حل نئے الفاظ کی تخلیق نہیں، بلکہ اظہار کے وسیع تر ذرائع کو سمجھنا ہے۔ بعض اوقات خاموشی، ایک نظر یا ایک سچا جذبہ وہ بات کہہ دیتا ہے جو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہی ہے کہ احساسات الفاظ سے کہیں زیادہ وسیع ہیں اور انسان کی خوبصورتی بھی اسی ادھورے مگر سچے اظہار میں پوشیدہ ہے۔

