Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Sharfu Ki Karahi Aur Riyasat Ki Daal

Sharfu Ki Karahi Aur Riyasat Ki Daal

شرفو کی کڑاہی اور ریاست کی دال

کچن میں بیٹھا شرفو چکن کڑاہی کا مزہ لے رہا تھا۔ بوٹی پر بوٹی نوچتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایک اطمینان جھلک رہا تھا۔ اسی دوران بیگم صاحبہ جھنجھلاتی ہوئی آئیں اور چیخ کر بولیں: "شرفو! تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے، آج سے صرف دال پکے گی، گوشت ختم! صاحب بے روزگار ہو گئے ہیں!"

شرفو نے بوٹی منہ میں رکھی، سکون سے چبائی اور پھر انتہائی پُرسکون انداز میں گویا ہوا: "بی بی جی، آپ کے لیے دال ہی بنی ہے۔ یہ چکن میرے لیے ہے۔ بے روزگار صاحب ہوئے ہیں، میں نہیں"۔

یہ جملہ سادہ سا دکھتا ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے ملک کی معیشت، سماجی تفاوت اور اقتدار کی بے حسی پر ایک گہرا طنز ہے۔ شرفو گویا وہ آئینہ ہے جو معاشرتی منافقت اور طبقاتی تضاد کو بےنقاب کرتا ہے۔

آج پاکستان کی حالت کچھ ایسی ہی ہو چکی ہے۔ حکمران طبقہ عوام کو بار بار "مشکل فیصلوں" کی گھٹی پلانے کی تلقین کرتا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے سبسڈی واپس لینا ہوگی، کبھی بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور کبھی ٹیکسوں کا بوجھ عام آدمی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

مگر دوسری جانب، جب پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تنخواہ 76 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کی جاتی ہے، وزیروں کی 9 لاکھ اور ساتھ میں سرکاری مراعات کا انبار لگا دیا جاتا ہے، تو دل سوال کرتا ہے کہ کس کے لیے یہ قربانی ہے؟

عوام کے لیے یا اُن "خادموں" کے لیے جو ہر اجلاس میں اپنی مراعات میں اضافے کا مسودہ لے کر پہنچتے ہیں؟

ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط عوام کی کھال اُدھیڑ رہی ہیں۔ ایک طرف دال خریدنا محال، دوسری طرف ایوانوں میں روز نئی گاڑیاں، نئی تنخواہیں، نئے الاونس۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک واقعی معاشی بحران سے گزر رہا ہے تو اس بحران کا بوجھ صرف تنخواہ دار، محنت کش اور متوسط طبقہ کیوں اٹھائے؟ کیا عوام ہی ہر بار کفایت شعاری کی قربان گاہ پر قربان ہوں گے؟

افسوس کہ "ریاستِ مدینہ" کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر حضرت عمرؓ کی سادگی اور احساسِ ذمہ داری کا کوئی پرتو کہیں نظر نہیں آتا۔

اب عوام خاموش نہیں۔ اب وہ شرفو کی طرح سوال کر رہے ہیں کہ "صاحب بے روزگار ہوئے ہیں، ہم نہیں!" یعنی جو ذمہ دار ہیں، قربانی اُن کی ہونی چاہیے۔ اگر ایوانوں میں بیٹھے افراد واقعی عوام کے خادم ہیں، تو سب سے پہلے اپنی تنخواہیں، الاونسز اور پروٹوکول قربان کریں۔

مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے۔ اشرافیہ کو نہ گیس کے بلوں کی پروا، نہ پٹرول کی قیمت کا دکھ، نہ بجلی کے فیول ایڈجسٹمنٹ کا ہوش۔ وہ فیصلے کرتے ہیں اور عوام اُن کے نتائج بھگتتے ہیں۔ جیسے شرفو کو بیگم صاحبہ سے کہنا پڑا کہ "چکن میرا ہے"، ویسے ہی عوام اب ریاست سے کہہ رہے ہیں: "یہ مہنگائی، یہ بیروزگاری، یہ تنگ دستی، یہ سب آپ کی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ ہم نہیں، آپ جواب دہ ہیں!"

اگر یہی روش برقرار رہی، اگر شرفو کے سوال کو نظرانداز کیا جاتا رہا، اگر عوام کے صبر کا پیمانہ یونہی لبریز ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ شرفو محض سوال نہیں کرے گا، بلکہ فیصلہ بھی سنائے گا۔

پھر دال کسی کے لیے نہ بچے گی، نہ چکن، نہ کڑاہی۔

Check Also

Ghaza Board Of Peace Pakistan Tareekh Ke Katehre Mein

By MA Tabassum