Murdon Pe Siasat
مردوں پہ سیاست

گلگت بلتستان میں انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ ہر امیدوار اپنے حلقے میں ہمدردیاں سمیٹنے میں مصروف ہے۔ خاص طور پر ایک عجیب رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نمائندوں کو اچانک اموات کی خبریں زیادہ سنائی دینے لگتی ہیں۔ جہاں کہیں کسی کے انتقال کی خبر ملے، وہ فوراً خوش دلی کے ساتھ تعزیت کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ لواحقین کو گلے لگا کر اس انداز میں اظہارِ افسوس کرتے ہیں جیسے مرحوم ان کا قریبی عزیز ہو۔
بسا اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جتنا دکھ ان نمائندوں کو ہے، اتنا خود گھر والوں کو بھی نہیں۔
کسی کے انتقال کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر مرحوم کی تصویر کے ساتھ لمبی لمبی تعریفی پوسٹیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اتنی تعریفیں کی جاتی ہیں کہ آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے، حالانکہ مرحوم اپنی زندگی میں اتنی توجہ کبھی حاصل نہیں کر پاتا۔
کل ہی ایک تعزیت کے موقع پر ایک سیاسی نمائندہ بھی پہنچ گیا۔ وہ مرحوم کی ایسی شان میں قصیدے پڑھ رہے تھے جیسے جنت کا پروانہ ابھی ان کے ہاتھ میں ہو۔ مگر کچھ دیر بعد وہی نمائندہ آہستہ سے پوچھ رہا تھا:
"مرنے والے کا نام کیا تھا؟"
یہ ہے ہمارے نمائندوں کی اصل سنجیدگی۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ لوگ اپنے حلقوں میں کسی نہ کسی موت کے انتظار میں رہتے ہیں تاکہ ہمدردی کا نیا موقع مل سکے اور یہی نمائندے جب الیکشن جیت کر وزیر بنتے ہیں، گاڑی پر جھنڈا لگتا ہے تو نظریں آسمان پر چلی جاتی ہیں۔ پھر یہی عوام، جن کے گھروں میں جا جا کر ووٹ مانگے گئے تھے، انہیں ہاتھ ہلانا بھی گوارا نہیں ہوتا۔
الیکشن کے دنوں میں یہی ووٹر دن رات ایک کرکے مہم چلاتے ہیں، اپنے جیب سے خرچ کرتے ہیں، سکون قربان کرتے ہیں مگر جیت کے بعد انہیں ایک نظرِ کرم بھی نصیب نہیں ہوتی۔
کوئی غریب آدمی کام کے لیے جائے تو ایک کپ قہوہ پلا کر جھوٹی تسلی دے کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ کام وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری عوام بھی بڑی سادہ لوح ہے۔ الیکشن قریب آتے ہی اگر یہی نمائندے ذرا سی توجہ دے دیں تو لوگ سب کچھ بھول کر دوبارہ انہی کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ بار بار دھوکا کھاتے ہیں، مگر سبق نہیں سیکھتے۔
الیکشن 2026 سر پر ہیں۔ یاد رکھیں، ووٹ ایک قومی امانت ہے۔ اسے صرف تعزیتوں اور وقتی ہمدردیوں پر ضائع نہ کریں۔
ووٹ ایسے امیدوار کو دیں جو واقعی اہل ہو، باکردار ہو اور علاقے کے مسائل سے حقیقی ہمدردی رکھتا ہو نہ کہ وہ جو صرف فاتحہ پڑھنے اور تصویریں بنوانے آتا ہو۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

