Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Najeeb ur Rehman
  4. Muhabbat Mein Be Awaz Zulm

Muhabbat Mein Be Awaz Zulm

محبت میں بے آواز ظُلم

جب کسی دل میں محبت جنم لے اور زبان اس کے اظہار سے قاصر رہ جائے تو تکلیف محبت کی شدت نہیں ہوتی بلکہ اپنی ہی ذات سے پیدا ہونے والا خوف، احساسِ کمتری اور ممکنہ ردِّعمل کا اندیشہ ہوتا ہے۔ تعلیم، رینک، رتبہ اور خوبصورتی جیسے عوامل دراصل باہر کی دنیا کے پیمانے ہیں۔ انسان لاشعوری طور پر خود کو دوسروں کے ترازو میں تولنے لگتا ہے اور خود سے سوال کرتا ہے کہ میں اس کے قابل ہوں یا نہیں؟ دل میں سب سے پہلے دیوار یہی سوال کھڑی کرتا ہے۔ احساسِ کہتری یا کمتری محض غربت، رنگ، قد کاٹھ، ذات پات، فرقہ، یا جسمانی خامی سے نہیں بنتا بلکہ اس سوچ سے پیدا ہوتا ہے کہ میری کمی مجھے نا قابلِ قبول بنا دے گی۔

ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ احساسِ کہتری انسان کی فطری کیفیت ہے۔ لیکن جب یہ احساس حد سے بڑھ جائے تو انسان کی شخصیت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ وہ خواہش رکھتے ہوئے بھی قدم نہیں اٹھا پاتا کیونکہ رد ہونے کا خوف، دھتکارے جانے کا ڈر، مذاق بننے کا اندیشہ اور اپنی عزتِ نفس کے ٹوٹنے کا خدشہ اس پر حاوی ہو جاتا ہے۔ بقول شاعر:

جانے کیا سوچ کے ہر راہ میں رُک جاتا ہوں
اُس سے ملنے کا کسی موڑ پہ امکاں بھی نہیں

سانولہ یا کالا رنگ یا کوئی چھوٹی یا بڑی جسمانی خامی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ معاشرے کا عمومی رویہ، ترحم بھری نظریں، اوور پروٹییکشن یا غیر ضروری ہمدردی انسان کے اندر یہ یقین بٹھا دیتی ہے کہ محبت شاید صرف "مکمل جسم" والوں کا حق ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ محبت جسم سے زیادہ ذہن، رویے، گفتگو، ہم خیالی اور احساس کی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے۔ یہ ساری صورتحال معروف ڈرامہ بعنوان پری زاد میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے جس میں پری زاد کا کردار سانولے رنگ کے اداکار احمد علی اکبر نے نہایت عمدگی سے نبھایا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ محبت میں کامیابی یا ناکامی دونوں ہی انسان کو کچھ سکھاتے ہیں مگر اظہار نہ کرنے کی پشیمانی اکثر عمر بھر کا بوجھ بن جاتی ہے۔ اظہار کا مطلب ضد یا زبردستی نہیں بلکہ صرف اپنے احساس کو باوقار انداز میں سامنے رکھ دینا ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک کہ رد ہو جانا دکھ دیتا ہے لیکن خواہش کا اظہار نہ کرنااندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔

علم نفسیات میں جذباتی ذمہ داری سے مراد ہے کہ اگر کسی کو اندازہ ہو جائے کہ سامنے والا کسی الجھن، امید یا جذباتی وابستگی میں مبتلا ہے تو خاموش رہنا بھی ایک طرح کی بے رحمی بن جاتا ہے۔ کیونکہ خاموشی اکثر جھوٹی امید کو زندہ رکھتی ہے۔ اس لیے جب تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے تو سامنے والا خود اظہارِ محبت کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہا؟ وہ صحت مند ہے، اعلیٰ درجے پر فائز ہے، امیر کبیر ہے، گورا چٹا ہے، موٹا تازہ ہے، پڑھا لکھا ہے۔ تو وہ خود دل بڑا کرکے صاف کیوں نہیں بتا دیتا کہ جوڑ برابر کا نہیں ہے، ان تِلوں میں تیل نہیں اور یا پھر ایہہ مُنہ تے مسراں دی دال، اس لیے اظہارِ محبت کو ختم کر دو۔ اسطرح کم از کم بروقت اطمینان تو ہو جائے گا، برف تو پگھل جائے گی۔ محبت یا تعلق میں اخلاقی ذمہ داری صرف ایک طرف نہیں ہوتی بلکہ جو موٹے گھرانے کا ہے، جس کے پاس صحت ہے، رتبہ ہے، طاقت ہے، وسائل ہیں، اُس پر زیادہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ صورتِ حال کو واضح کرے اور ابہام میں نہ رکھے۔ باالفاظ دیگر بقول قتیل شفائی:

مَیں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
مَیں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ سامنے والا خود کیوں نہیں کوئی مثبت یا منفی جواب دیتا۔ اس کی چند ممکنہ وجوہات یہ ہو سکتی ہیں کہ اوّل، کہ وہ ٹکراؤ سے گھبراتا ہے، وہ کورا جواب دے کر دکھ دینے سے بچنے کے لیے کچھ نہ کہہ پا رہا ہو۔ دوم، ہو سکتا ہے اسے یہ اچھا لگتا ہے کہ کوئی ان کی طرف دیکھ رہا ہے، چاہے وہ خود کوئی ارادہ نہ رکھتا ہو، آخر چاہے جانے کی خواہش بھی تو ہر انسان میں موجود ہوتی ہے۔ اسے لاشعوری خود پسندی کہا جاتا ہے یعنی کسی کی محبت سے اپنی اہمیت کا احساس پانا، مگر اس کی ذمہ داری قبول نہ کرنا اور سوم، بعض اوقات انسان خود بھی کنفیوژن میں ہوتا ہے۔ وہ نہ ہاں کہہ پاتا ہے نہ ناں، اس امید میں کہ وقت خود فیصلہ کر دے۔ لیکن وقت اکثر کمزور کے خلاف ہی فیصلہ کرتا ہے۔ اگر اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو طاقتور، بااثر اور باوسیلہ شخص پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ حدیں واضح کر دے۔ صاف لفظوں میں کہہ د ے کہ میں اس تعلق کو ممکن نہیں سمجھتا، بہتر ہے آپ خود کو اس امید سے آزاد کر لیں۔ یہ کہا سخت توہے مگر خاموشی سے کہیں زیادہ رحم دل بھی ہے۔ جو خاموش رہتا ہے، وہ زیادہ قصوروار ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتے بوجھتے کسی کے دل کو معلق رکھے ہوئے ہوتا ہے۔

دیکھا جائے تو اصل مسئلہ محبت نہیں بلکہ طاقت کا عدم توازن ہے۔ جب ایک طرف کمزوری ہو اور دوسری طرف برتری، تو غیر واضح رویہ دراصل ایک طرح کا نفسیاتی ٹارچر بن جاتا ہے، چاہے نیت میں کھوٹ نہ بھی ہو۔ یہ موضوع محض رومان کا نہیں، انسانی وقار کا ہے۔ محبت میں سب سے بڑی مہربانی یہی ہے کہ کسی کو اندھیرے میں نہ رکھا جائے۔ محبت میں عظمت اظہار میں نہیں، دیانت میں ہوتی ہے۔ دل میں گنجائش نہ ہو تو صاف بتا دینا بھی ایک احسان ہے۔ کسی کو معلق رکھ کر خود مطمئن رہنا شرافت نہیں کہلاتی۔ زندگی کے کئی شکستہ انسان ایسے ہی رویوں کی پیداوار ہوتے ہیں۔ وہ ساری عمر یہی سوچتے رہتے ہیں کہ شاید کمی انہی میں تھی، شاید وہ محبت کے قابل ہی نہیں تھے حالانکہ حقیقت میں کمی کردار میں ہوتی ہے۔ کردار کی اہمیت بارے شاعر راشد عارف کہتے ہیں:

بات کردار کی ہوتی ہے وگرنہ عارف
قد میں انسان سے سایہ بھی بڑا ہوتا ہے

بہرحال اس سے فرار ممکن نہیں کہ انسان خود کو جتنا کم تر سمجھتا ہے، دوسرا اسے اتنا ہی کم تر دیکھنے لگتا ہے۔ خود اعتمادی، چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو، شخصیت میں ایسی روشنی پیدا کر دیتی ہے جو رینک، رتبے اور ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ ڈرامہ پری زاد اس کی ایک روشن مثال ہے۔ بقول عبدالحمید عدم:

چاند سورج کے نصیبوں میں کہاں وہ جگمگ
بالیاں جتنی درخشاں ہیں تِرے کانوں کی

باغِ جنت کے محافظ کی عدم کیا عزت؟
دھاک ہوتی ہے پری زادوں کے دربانوں کی

Check Also

Kya Karachi Wafaq Ka Hissa Banne Ja Raha Hai

By Mushtaq Ur Rahman Zahid