Monday, 19 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Najeeb ur Rehman
  4. Maraqba

Maraqba

مراقبہ

شہر کی گلیاں شور سے بھری ہیں، دفاتر میں چہروں پر تھکن جمی رہتی ہے، گھروں میں مہینے کے بجٹ پر مشمتل حساب کتاب کے کاغذ بکھرے پڑے ہیں اور ذہن میں مہنگائی کا مستقل الارم بج رہا ہے۔ مسلسل خبریں، سوشل میڈیا، معاشی دباؤ، تعلقات کی پیچیدگیاں، عدمِ تحفظ کا احساس، زیادہ بچے، کم آمدنی، بڑھتی ذمہ داریاں اور دفتری بدمزگیاں انسان کو آہستہ آہستہ اس کی اپنی ہی زندگی سے بیگانہ کرتی جا رہی ہیں۔ اول تو نیند پوری ہی نہیں ہوتی اگر ہو بھی جائے تو تازگی نصیب نہیں، بات بات پر غصہ آ جاتا ہے اور معمولی مسئلے بھی پہاڑ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جی ہاں پاکستان میں یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔ ایسے حالات میں مسئلہ صرف معاشی یا سماجی نہیں رہتا بلکہ اصل بحران ذہن کے اندر جنم لیتا ہے جہاں سکون، توازن اور برداشت خاموشی سے غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نارمل زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے کسی بیرونی سہارے سے زیادہ اندرونی سکون و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال سے فوری بحفاظت نکلنے کے لیے مراقبہ ایک بہترین دوا ہے۔

مراقبہ کو انگریزی میں میڈیٹیشن یا مائند فُل نیس کہا جاتا ہے اور اس کے معنی توجہ کو منتشر حالت سے نکال کر ایک نکتے، ایک کیفیت یا ایک شعوری حالت میں مرکوز کرنا کے ہیں۔ مراقبہ کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ ذہن، احساس اور سانس کی ایسی باقاعدہ مشق ہے جس کے ذریعے انسان بیرونی شور، اندرونی بے ترتیبی اور خیالات کے ہجوم سے فاصلے پر جا کر اپنے باطن سے رابطہ قائم کرتا ہے۔ اس عمل میں مقصد خیالات کو زبردستی روکنا نہیں بلکہ ان کو دیکھنا، سمجھنا اور بتدریج ذہنی سکون کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ مشرقی روایت میں مراقبہ کو روحانی بالیدگی کا ذریعہ سمجھا گیا، جبکہ جدید نفسیات نے اسے ذہنی صحت اور جذباتی توازن کی عملی تکنیک کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

مراقبہ کا امیدوار کون ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ درحقیقت مراقبہ کسی خاص طبقے، عمر یا مزاج تک محدود نہیں۔ وہ فرد جو ذہنی دباؤ، اضطراب، غصے، پریشانی، مستقبل کے خوف، بے چینی یا مسلسل تھکن کا شکار ہو، اس کے لیے مراقبہ خاص طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد، اساتذہ، طالب علم، فیصلہ سازی کی ذمہ داری اٹھانے والے لوگ اور وہ افراد جو روحانی یا فکری گہرائی چاہتے ہیں، مراقبہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو بظاہر پرسکون زندگی گزار رہا ہو، مراقبے کے ذریعے اپنے شعور میں مزید وضاحت اور توازن پیدا کر سکتا ہے۔

مراقبہ کے فوائد محض روحانی نہیں بلکہ سائنسی اور نفسیاتی سطح پر بھی ثابت شدہ ہیں۔ مستقل مراقبہ ذہنی دباؤ کے ہارمونز کو کم کرتا ہے، توجہ اور یادداشت کو بہتر بناتا ہے، نیند کے مسائل میں کمی لاتا ہے اور جذباتی ردِعمل کو متوازن کرتا ہے۔ جدید نفسیات کے مطابق مراقبہ دماغ کے اس حصے کو مضبوط کرتا ہے جو فیصلہ سازی، صبر اور خود آگاہی سے متعلق ہے۔ یوں انسان وقتی جذبات کے بہاؤ میں بہنے کے بجائے شعوری انداز میں ردِعمل دینا سیکھتا ہے اور یہ کیفیت زندگی کے عملی مسائل میں بھی پختگی اور بردباری پیدا کرتی ہے۔

بدھ فلسفے میں مراقبہ کو دکھ سے نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔ صوفی روایت میں اسے ذکر، تفکر اور خلوت کی صورت میں اختیار کیا گیا۔ کارل ژونگ کا کہنا ہے کہ انسان کے باطن میں موجود لاشعور تک رسائی کے لیے خاموش توجہ ناگزیر ہے اور یہ خاموشی مراقبے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ اگرچہ مراقبے کے روایتی تصور سے زیادہ متفق نہ تھا مگر وہ بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ شعوری توجہ انسان کو اندرونی کشمکش سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اڈولف ایڈلر کے نزدیک خود آگاہی اور مقصدِ حیات کی وضاحت انسان کو احساسِ کمتری سے نکالتی ہے اور مراقبہ اس خود آگاہی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

کیا مراقبہ اختیار کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان کا دل گردہ کمزور ہے جو وہ حالات کو اپنے قابو میں نہیں لا سکا اور مراقبہ میں پناہ ڈھونڈی؟ بظاہر یہ درست لگتا ہے۔ لیکن فکری اور نفسیاتی سطح پر دیکھیں تو مراقبہ اختیار کرنا کمزور دل گردے یا حالات سے فرار کی علامت نہیں بلکہ اکثر اوقات اندرونی قوت کی بازیافت کا اعلان ہوتا ہے۔ کمزوری اس کیفیت کو کہا جا سکتا ہے جب انسان حالات کے دباؤ میں بے سمتی اختیار کر لے، ردِعمل میں جینے لگے اور اپنے جذبات کو سمجھے بغیر ان کے ہاتھوں یرغمال بن جائے۔ اس کے مقابلے میں مراقبہ وہ عمل ہے جس میں فرد شعوری طور پر رک کر یہ دیکھنے کی ہمت کرتا ہے کہ اس کے اندر کیا چل رہا ہے۔ اسی طرح نفسیاتی زاویہ سے دیکھا جائے تو مراقبہ دراصل کنٹرول واپس لینے کا طریقہ ہے، نہ کہ کنٹرول چھوڑنے کا۔ جب انسان اپنی توجہ، سانس اور خیالات کو دیکھنا سیکھ لیتا ہے تو وہ بیرونی حالات کا غلام ہونے کی بجائے اندرونی کیفیت کا نگران بن جاتا ہے۔ ماہر نفسیات ژونگ کے نزدیک وہ شخص زیادہ مضبوط ہوتا ہے جو اپنے لاشعور کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو اور مراقبہ اسی سامنا کرنے کا منظم طریقہ ہے۔

لہذا یہ کہنا کہ مراقبہ پناہ ہے، راہ فرار ہے، تب درست ہوتا اگر اس کے بعد انسان اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے۔ مستقل مراقبہ کرنے والا فرد عموماً زیادہ واضح فیصلے کرتا ہے، کم جذباتی مگر زیادہ بامعنی ردِعمل دیتا ہے اور حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں سمجھ کر سنبھالتا ہے اور یہ رویہ کمزوری نہیں بلکہ دانشمندانہ مضبوطی کی علامت ہے۔ جو شخص اپنے اندر کے خوف، غصے اور بے چینی کو دیکھنے اور قابو میں رکھنے کی صلاحیت پیدا کر لے، وہ حالات کے سامنے زیادہ دیر تک کھڑا رہ سکتا ہے۔

اصل کمزوری تب جنم لیتی ہے جب انسان یہ ماننے سے انکار کر دے کہ ذہن بھی تربیت چاہتا ہے، جیسے جسم چاہتا ہے۔ مراقبہ اسی تربیت کا ایک طریقہ ہے۔ یہ میدان چھوڑنے کا نہیں، بلکہ میدان میں اترنے سے پہلے خود کو سنبھالنے کا عمل ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو مراقبہ پناہ نہیں بلکہ تیاری ہے، فرار نہیں بلکہ شعوری مزاحمت اور کمزوری نہیں بلکہ ایک خاموش مگر گہری طاقت کی علامت۔

مراقبہ کا درست وقت کے حوالے سے صبح کا وقت زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے، جب ذہن تازہ اور ماحول پرسکون ہوتا ہے۔ رات کو سونے سے پہلے بھی مراقبہ فائدہ مند ہوتا ہے، خاص طور پر بے خوابی یا ذہنی تھکن کی صورت میں۔ مراقبہ کے طریقہ کار میں سادگی بنیادی اصول ہے۔ کسی خاموش جگہ پر سیدھی کمر کے ساتھ بیٹھ کریا لیٹ کر آنکھیں بند کی جائیں، سانس کی آمد و رفت پر توجہ دی جائے اور خیالات کو آنے جانے دیا جائے بغیر ان میں الجھے۔ ابتدا میں چند منٹ بھی کافی ہوتے ہیں، بعد ازاں دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

راقم السطور کو سلوا مائنڈ کنٹرول میتھڈ کی ایک سرٹیفائیڈ انسٹرکٹر نے مراقبے کاجو طریقہ بتایا، وہ قارئین کی دلچسپی و معلومات کے لیے یہاں پیش ہے:

1۔ بغیر شور والی جگہ پر کرسی، صوفہ یا بیڈ پر آرام دہ پوزیشن میں بیٹھیں اور لائٹیں زیادہ سے زیادہ مدھم کر دیں۔

2۔ اپنی آنکھوں کی سطح سے 20 ڈگری اوپرکی جانب دیکھیں۔ یعنی آنکھوں کی بھنوؤں کی سطح کو دیکھیں۔

3۔ اپنی آنکھوں کو اسی 20 ڈگری پر رکھتے ہوئے اپنی دنوں آنکھوں کی نظریں کسی خاص نقطہ پر مرکوز کریں اور اسے گھوریں۔ اگر دیوار پر کوئی سینری، پینٹنگ، کلاک یا کوئی اور اوبجیکٹ نہیں ہے یعنی دیوار مکمل صاف ہے تو پھر آپ صاف دیوار کو ہی گھورنا شروع کریں۔ یاد رہے گھورنے کا مطلب غصہ کے جذبات نہیں بلکہ ٹُکٹکی باندھ کر دیکھنا ہے۔

4۔ بالا تیسرا عمل کرنے سے آپ کی آنکھیں بند ہونا شروع ہو جائیں گی (جیسے نیند میں)۔ جونہی آنکھیں بند ہوں تو اسی 20 ڈگری کے زاویے پر اپنی آنکھیں رکھی رکھیں اور گِنتی کے 3 کو تصور میں لائیں۔

5۔ گنتی کے 3 کو تصور میں لانے کے دس سیکنڈ بعد اب آپ اپنے جسم کے تمام حصوں جو دماغ سے شروع ہوتے ہیں اور پاؤں کے تلوؤں تک جاتے ہیں، باری باری تمام باڈی پارٹس (سر، دماغ، کان، ماتھا، آنکھیں، ناک، ہونٹ، گال، ٹھوڑی، گردن، ریڑھ کی ہڈی، بازو، کہنی، کلائی، ہاتھ، چھاتی، دل، پھیپھڑے، گردے، مثانہ، ٹانگیں، پاؤں، ایڑی، گِٹا، انگوٹھا)کو تصور میں لاتے ہوئے ان پر توجہ مرکوز کریں۔ اسی دوران میں آپ نے اپنے ذہن میں دہرانا ہے "ریلئیکس، ریلئیکس (سکون، آرام)"۔

6۔ پھر گنتی کے 2 کو تین بار تصور میں لائیں اور دس سیکنڈ بعد ایسی جگہ کا تصور کریں جہاں آپ سب سے زیادہ پر سکون محسوس کرتے ہوں جیسے آپ کا کمرہ، آپ کے گھر کا کوئی بھی گوشہ، ساحل سمندر، کھیتوں کے درمیان ڈنڈی، باغیچہ وغیرہ۔ آپ نہ صرف اس منظر کا تصور کریں گے بلکہ اس منظر کی آواز اور بو بھی محسوس کریں گے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کھیتوں کے درمیان ڈنڈی کو تصور کرتے ہیں تو پرندوں کی چہچہاٹ کو بھی سُنیں گے، درختوں، فصلوں کے پتوں کو ہلتے وقت جو آواز نکلتی ہے، وہ بھی سماعت فرمائیں گے، فصلوں سے اٹھنے والی خوشبو کو محسوس کریں گے وغیرہ۔

7۔ اب اپنی ذہنی سکرین پر نمبر 1 کا تین بار تصور کریں۔ اس کے بعد آپ دس سے ایک تک اُلٹی گنتی کو تصور کریں اور اپنے آپ سے کہیں "ہر دن، ہر طرح سے، میں بہتر، بہتر اور بہتر ہو رہا ہوں"۔ اپنے آپ کو بہتر، خوش اور صحت مند ہونے کا تصور کرتے ہوئے آپ اسے کم از کم 3 بار کہیں گے۔ اس کے بعد آپ ذہن میں کہیں گے، "میں اپنی آنکھیں کھولنے کے لیے 1 سے 5 تک گننے جا رہا ہوں اور جب میں اپنی آنکھیں کھولوں گا تو میں زیادہ پر سکون اور صحت مند محسوس کروں گا"۔ اب 1 سے 5 تک گنیں اور جب 5 تک پہنچ جائیں تو آنکھیں کھولیں۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ مراقبہ کوئی جادوئی عمل نہیں جو ایک دن میں سب کچھ بدل دے۔ یہ ایک تدریجی سفر ہے جو صبر، تسلسل اور دیانت داری چاہتا ہے۔ جو فرد اس عمل کو وقتی فیشن کے بجائے ذہنی تربیت سمجھے، اس کے لیے مراقبہ محض سکون نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا نیا زاویہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں مراقبہ انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے خود سے جوڑ دیتا ہے اور یہی مراقبہ کی سب سے بڑی معنویت ہے۔

Check Also

Gul Plaza Atishzadgi, Karachi Mein Qayamat e Sughra

By Mushtaq Ur Rahman Zahid